بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / کلیم ٹربیونل!؟

کلیم ٹربیونل!؟


خیبرپختونخوا میں ’موٹروہیکل آرڈیننس‘ کے تحت ٹریفک حادثہ کا شکار ہونے والی‘ ایک خاتون جو کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر رہی تھی کو 70 ہزار روپے نقد ادا کئے گئے ہیں۔ یہ اَدائیگی 148 صفحات پر مشتمل متعلقہ قانون میں کم سے کم 23 مقامات پر مذکور ’کلیم ٹربیونل‘ کے تحت عمل میں آئی ہے‘ جسے صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فعال کیا گیا ہے۔ کسی قانون کو ’سرد خانے‘ سے نکالنے کی اِس عملی مثال کی جس قدر بھی تعریف کی جائے کم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایک ایسا قانون جس کی موجودگی کے بارے خود متعلقہ محکمے اور وزارت کی اکثریت کو بھی علم نہیں تھا وہ اچانک فعال کیسے ہوگیا اور اُس کی فعالیت کی اطلاع پشاور سے لاہور سفر کرنے والی ایک مسافر خواتین تک کیسے جا پہنچی جس نے 90 روز کے اندر خود سے پیش آنے والے حادثے کے لئے صوبائی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور ستر ہزار روپے نقد وصول کئے۔ مذکورہ قانون کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والا کوئی بھی مسافر (خدانخواستہ) حادثے کی صورت میں تین لاکھ روپے تک کا تاوان طلب کر سکتا ہے اور صوبائی حکومت یہ معاوضہ ادا کرنے کی پابند ہوگی۔ اٹھارہ نومبر کو ’’چوری: سینہ زوری!‘‘ اور تیئس نومبر کے روز (روزنامہ آج کے ادارتی صفحات پر) شائع ہونے والے کالم بعنوان ’’قوت فیصلہ کا فقدان!‘‘کے تحت ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے جڑے عوامی مسائل کی مرحلہ وار نشاندہی کرنے کے سلسلے کی یہ تیسری کڑی ہے جس میں اُس قانون اور قواعد سے متعلق موضوع زیربحث ہے‘ جس کا تعلق خیبرپختونخوا کی اکثریت سے ہے لیکن اِسے ’نجی کاروباری طبقے‘ کے مفاد کے لئے سردخانے کی نذر کردیا گیا ہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ پر نجی شعبے کی اجارہ داری (تسلط) کے پیچھے کئی کردار کارفرما ہیں‘ جن میں قانون سازی اور فیصلہ سازی کے منصب پر فائز سرکاری اہلکار شامل ہیں اور سبھی نے ذاتی مالی مفادات کے لئے عام آدمی کی زندگی کو ایک مستقل (ذلت بھرے) عذاب سے دوچار رکھا ہے‘ جس کی اصلاح ’تبدیلی لانے والوں‘ کے لئے کھلا چیلنج ہے۔ ’قانونی اصطلاحات کی لغت (ڈکشنری)‘ (مطبوعہ دوہزار تین‘ علمی کتب خانہ لاہور) میں ’’کلیم (Claim)‘‘ کا لغوی مطلب ’دعویٰ کرنا۔ حق جتانا‘ تحریر ہے۔ اِسی اصطلاح کی ضمن میں 12 دیگر اصلاحات کے معانی و تفصیلات درج ہیں لیکن ’کلیم ٹربیونل‘ کا ذکر نہیں کیونکہ ’موٹروہیکل قانون‘ کی یہ اِصطلاح مذکورہ قانون کے اندر ہی دفن رکھا گیا۔ قانون دانوں کے لئے ’کلیم‘ اور ’ٹربیونل‘ الگ الگ اصطلاحات ہیں اور جب ’کلیم ٹربیونل‘ سے متعلق یکجا کر کے پوچھا جاتا ہے تو اعتراف کرتے ہیں کہ ’’وہ نہیں جانتے‘‘ کہ ۔۔۔ ’خیبرپختونخوا کے موٹروہیکل آرڈیننس 1965ء‘ کی 67ویں شق اے کی ذیل میں اِس بارے تفصیلات موجود ہیں۔ مقام حیرت ہے کہ مذکورہ قانون کی 67-D‘ ذیلی شق 3 میں یہاں تک تحریر ہے کہ ۔۔۔ ’’کلیم ٹربیونل‘ کو ’سول کورٹ‘ کے مساوی اختیارات حاصل ہوں گے۔ جن کا استعمال کرتے ہوئے وہ کسی حادثے سے متعلق عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کرنے کا اختیار رکھے گی۔ اِس بات کو قانوناً ممکن بنائے گی کہ عینی شاہدین عدالت سے تعاون کریں اور وہ تمام متعلقہ شواہد و ثبوت عدالت کے روبرو پیش کریں جن کا تعلق متعلقہ ٹریفک حادثے سے ہو۔

المیہ یہ ہے کہ قوانین کتابوں میں دفن ہیں۔ سرکاری محکمے قوانین کے زور پر اپنی دھونس برقرار رکھے ہوئے ہیں اور انہی قوانین کی وجہ سے دھاندلی (کرپشن) بھی عام ہے۔ اگر عام آدمی (ہم عوام) کو قوانین کے بارے علم ہوجائے تو اِس کا مطلب ہوگا کہ ہمیں اپنے حقوق اور سرکاری محکموں کی جملہ ذمہ داریاں معلوم ہو جائیں گی اور جب ذمہ داریاں معلوم ہوں گی تو کارکردگی کے بارے سوال اٹھاے (پوچھے) جائیں اور یہی وجہ مرحلہ ہے کہ سرکاری اعلیٰ و ادنی ملازمین (افسرشاہی)‘ قانون سازایوانوں کے اراکین (سیاست دان) نہیں چاہتے کہ عوام کے منہ میں زبان آئے اُور وہ کلام کر سکیں!۔ تاہم ہمیشہ وقت ایسا نہیں رہے گا اور میڈیا نے عوام کو جو زبان دی ہے اب وہ اپنے حقوق کے حوالے سے سوال کرنے لگے ہیں ۔