بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / پروپیگنڈہ کا ہتھیار

پروپیگنڈہ کا ہتھیار


چندروز قبل سابق برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کی طرف سے ایک اعترافی بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہاتھاکہ عراق پر حملہ غلط اطلاعات کی بنیاد پر کیاگیاتھا جس کے نتیجہ میں ہونیوالی تباہی پر شرمندہ ہیں ان کایہ بھی کہناتھاکہ اس سلسلے میں برطانیہ کو گمراہ کیاگیا تھا کچھ اسی قسم ’’اعتراف جرم ‘‘کچھ عرصہ قبل ایک اورسابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی کرچکے ہیںیہی معاملہ لیبیا میں بھی ہوا جبکہ افغانستان کے معاملہ میں بھی ایساہی ہوا تھا کہ جب نائن الیون کاواقعہ پیش آیا تو چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس کاالزام افغانستان پر عائد کرتے ہوئے القاعدہ اور اسامہ بن لادن کو مورد الزام ٹھہرایا گیا حالانکہ اس وقت تک کوئی تحقیقات ہوئی تھیں نہ ہی کسی نے ذمہ داری قبول کی تھی مگر امریکی میڈیانے مسلسل پروپیگنڈے کے ذریعہ ایسا ماحول بنادیا کہ پوری دنیاہی افغانستان کو ذمہ دار سمجھنے لگی چنانچہ جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کافیصلہ کیاتو کوئی بھی اس کی راہ میں مزاحم نہ ہوسکاکیونکہ میڈیا اپنا جادوچلا چکاتھا اس ضمن میں حیر ت انگیز امریہ ہے کہ یہ سلسلہ کئی عشروں سے جاری ہے گذشتہ دنوں نامور شخصیات کے انٹرویوز پر مشتمل ایک کتاب نظر سے گذری جس میں ایک جگہ ٹھیک پچاس برس قبل نامور محقق و مصنف ڈاکٹ ظفر انصاری نے اسی صورت حال کی طرف واضح اشارہ کیاتھا اپنے ایک انٹرویومیں انکا کہناتھا۔

’’یہودیوں اورعیسائیوں کادنیاکے بڑے بڑے اخبارات اور خبر رسا ں ایجنسیوں پر قبضہ ہے وہ ان کے ذریعے خبروں کو ایسا رنگ دیتے ہیں جس سے اسلامی ملکوں میں نئے نئے فتنے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں پہلے کسی مسلمان ملک کے متعلق ایک فیصلہ کرتے ہیں پھر اس فیصلے کے لیے خبررساں ایجنسیوں (باالفاظ دیگر میڈیا )کے ذریعے راستہ ہموارکرتے رہتے ہیں اور آخر کاروہ فیصلہ نافذکردیتے ہیں ،وہ مختلف ملکو ں میں مختلف نعرے اورتحریکیں اٹھاتے ہیں پھر خبر یں مسلسل اس نوعیت کی دی جاتی ہیں جن سے ان نعروں کو تقویت ملتی رہے یہ سارا کام اتنی ہوشیاری اور منصوبہ بندی سے کیاجاتاہے کہ اکثر سادہ لو ح اورپڑھے لکھے حضرات ان نعروں (کے فریب )کاشکار ہوجاتے ہیں ‘‘اب اگر ا ن الفاظ کو مندرجہ بالادو اعترافات کے تناظر میں بار بار پڑھا جائے تو ساری حقیقت سامنے آجاتی ہے گویا پچاس برس قبل پروپیگنڈے کے ذریعہ اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی جو روایت تھی وہ جوں کی توں اب بھی جاری ہے ہٹلر کادست راست گوئبلز پروپیگنڈے کی دنیا کابے تاج بادشاہ کہلاتا ہے وہ کہاکرتاتھاکہ اس تواترکے ساتھ جھوٹ بولتے رہو کہ آخر کار لوگوں کو اس پرسچ کاگماں ہونے لگے اب اگر ہم دیکھیں تو سارا منظر نگاہوں کے سامنے گھوم جاتاہے مثال کے طورپر عراق کے متعلق دنیا کو یہ کہہ کرڈرایا جاتارہاکہ اس کے پاس خطرناک ترین کیمیاوی ہتھیارہیں جن سے خطے اوردنیامیں خوفناک تباہی پھیل سکتی ہے یہ جھوٹ اس قدرتواتر اور استقامت کے ساتھ بولاگیاکہ پوری دنیاکو یقین آگیا اورجب اتحاد ی فوجیں دنیا کو ’’محفوظ ‘‘ کرنے کی غر ض سے عراق پر چڑھ دوڑیں تو پوری دنیاکی ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں عراق پر قیامت ڈھادی گئی لاکھوں بے گناہ قتل ہوئے پورا ملک کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا مگر کئی سال بعدبھی ممنوعہ کیمیاوی ہتھیاروں کے ثبوت نہ مل سکے جس کے بعد امریکہ کا سب سے بڑا حلیف باربار اظہار ندامت پر مجبور نظر آتاہے۔

کرنل قذافی کے کیمیاوی ہتھیاروں کابھی پروپیگنڈا کیاگیا مگر ابھی تک کوئی ثبوت نہ مل سکا غیرجانبدار حلقے بارہایہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ میڈیا کو جارحانہ پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہئے اس حقیقت سے انکا ر ممکن نہیں کہ اگر مغربی میڈیا کو بڑی عالمی طاقتیں اسی طرح اپنے مفادات اور اپنے مخالفین کو کچلنے کے لیے استعمال کرتی رہیں تو پھر اس کے غیر جانبدارانہ کردار پر انگلیاں اٹھنے کاسلسلہ تیز ہوتا جائے گا اوراس کی وجہ سے عام لوگوں کے لیے اصلاح و امیدکا سب سے موثر میڈیم ضائع ہو جائیگا سوچنا چاہئے کہ پچاس برس پہلے جن خدشات کااظہار کیاگیاتھا وہ پوری بلکہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ موجودہیں تو پھر فیصلہ کرنا ہوگا کہ ترقی کے تمام تردعوؤں کے باوجود ہم کہاں کھڑے ہیں میڈیا کی کریڈیبلٹی کو بچانے کے لیے نئے مکالمہ کی ضرورت ہے اپنے حق میں پروپیگنڈا سے کوئی کسی کونہیں روک سکتا مگر دوسروں کی ساکھ کوتباہ کرنے کاعنصرختم کیاجانا ضروری ہے بالخصوص مغربی میڈیاکواپنی اداؤں پر ضروری غور کرنا چاہئے ۔