بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پشاورمیں فلٹریشن پلانٹس کی بحالی کے احکامات

پشاورمیں فلٹریشن پلانٹس کی بحالی کے احکامات


پشاور۔پشاورہائی کورٹ کے جسٹس وقاراحمدسیٹھ اور جسٹس مس مسرت ہلالی پرمشتمل دورکنی بنچ نے صوبائی دارالحکومت پشاورکے باسیوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے دائررٹ منظورکرلی ہے اورصوبائی حکومت کو احکامات جاری کئے ہیں کہ پشاورمیں نصب فلٹریشن پلانٹس کی مرمت کرکے ان کو دوبارہ اصلی حالت میں لایاجائے جبکہ آلودہ اورمضرصحت منرل واٹرفروخت کرنے والی کمپنیوں پرپابندی عائد کردی ہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز خورشید خان ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ پرجاری کئے اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ صوبائی دارالحکومت پشاورمیں پینے کاصاف پانی میسرنہیں جبکہ بیشترواٹرٹینکوں سے گھروں کو آلودہ پانی آرہا ہے جبکہ پی سی ایس آئی آرلیبارٹری ان پانی کے نمونوں کے تجزئیے کے عوض فی ٹیسٹ3ہزار روپے وصو ل کررہی ہے۔

جبکہ پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈواٹرلیبارٹری نے گذشتہ ماہ پشاورسے منرل واٹرکے70برانڈزلیبارٹری تجزیہ کے لئے ارسال کئے جن میں گیارہ برانڈز کو مضرصحت پایاگیااس پانی کے پینے سے پھیپڑوں ٗ گردوں ٗ کینسر ٗ بلڈپریشر ٗ اوریرقان کی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں کیونکہ ان گیارہ برانڈز کاپانی کیمیکل اورجراثیم سے آلودہ ہے جبکہ شہرمیں ان کی فروخت کھلے عام جاری ہے اوران کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی ہے جبکہ حکومت کے فرائض میں شامل ہے کہ اپنے شہریوں کو صاف پانی ٗ ملاوٹ سے پاک خوراک ٗ صاف اورملاوٹ سے پاک ادویات ٗ علاج معالجہ کی سہولت اوردوسری ضروریات زندگی فراہم کرے رٹ میں مزید کہاگیاہے کہ خیبرپختونخوا آبی وسائل میں دریاؤں کابڑا نام ہے پشاورسے کالام راستے میں آنے والے خوربصورت دریاؤں میں ہوٹل ٗ ریسٹورنٹ اورعوام تمام کچرا ٗ گندگی اورپلاسٹک کے مختلف اشیاء پھینک رہی ہے۔

جس سے آبی حیات کے ساتھ ساتھ دریاؤں میں آلودگی بڑھ رہی ہے جبکہ پشاورشہرسے مختلف نہریں گذرتی ہیں جو ایک وقت میں گرمیوں میں ٹھنڈک کااحساس دلاتی ہیں بلکہ شہرکی خوبصورتی میں اضافے کاسبب بھی ہیں آج یہی نہریں گندے نالوں کاروپ اختیارکرچکی ہیں انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے گردونواح میں رہائش پذیرعوام نے نہروں میں سیوریج پائپ ڈالے ہیں اورگھروں کاتمام کچرااورگندگی اس میں پھینکی جارہی ہے اس سے ماحولیاتی آلودگی اوربیماریاں پھیل رہی ہیں جبکہ پشاورمیں مختلف مقامات پرفلٹریشن پلانٹ لگائے گئے تھے جس سے عوام کو پینے کاصاف پانی فراہم ہوتاتھالیکن آج ان فلٹریشن پلانٹس میں سے ایک بھی کام نہیں کررہا ہے۔

فنڈنہ ہونے کے باعث یہ فلٹریشن پلانٹ کھنڈرات بن کرماضی کے مزاربن چکے ہیں انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ صوبے کے مختلف علاقوں سے پانی کے نمونے حاصل کرکے کیمیکل اوربیکٹریل ٹیسٹ کراکے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے جبکہ ہوٹلوں ٗ تعلیمی اداروں ٗ عدالتوں ٗ ہسپتالوں اوردیگرپبلک مقامات پرفلٹریشن پلانٹ نصب کئے جائیں اورپشاورمیں لگائے گئے فلٹرپلانٹس کی مرمت کرکے ان کودوبارہ اپنی اصل حالت میں لایاجائے جبکہ مضرصحت پانی فروخت کرنے والی منرل واٹرکمپنیوں پرپابندی عائد کی جائے اورپشاورکی نہروں میں سیوریج لائن اورگندگی پھینکنے پرپابندی عائد کی جائے پشاورہائی کورٹ کے فاضل بنچ نے دوطرفہ دلائل مکمل ہونے پررٹ پٹیشن منظورکرلی ۔