بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / نظرئیے کاتعارف

نظرئیے کاتعارف


پاکستان کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں نظریات میں افراد اور افراد میں گم نظریات کے باوجود ملک کی معیشت و معاشرت زوال پذیر ہیں۔ شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے ملک میں مختلف شعبوں کے اس قدر ماہرین پائے جاتے ہوں لیکن اس کے باوجود بھی ہر شعبہ ایک بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے! انیس نومبر کے روز ایبٹ آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نوازلیگ کے سربراہ نے انکشاف کیا کہ وہ اپنی ذات گرامی میں ایک نظریہ ہیں۔ اس اعلان کے بعد سے سیاسی امور کے ماہرین اور طالب علم اس نظریئے کی تلاش‘ تشریح و تعریف میں مصروف ہیں کہ اگر واقعی ایسا ہی ہے کہ ’نواز شریف کسی نظریئے کا مجموعہ ہیں تو پھر اسکی وضاحت و بیان بھی ہونا چاہئے تاکہ دنیا کو علم ہو سکے اور ترقی یافتہ تہذیبیں جان سکیں کہ پاکستان کی ترقی کا راز کیا ہے! تاریخ گواہ ہے کہ نظریہ لوگوں کو تلاش کرنے رابطہ عوام میں نہیں نکلتا بلکہ لوگ نظریئے کے گرد پروانہ وار جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ شک و شبے سے بالاتر امر ہے کہ ہر سیاسی کارکن اپنی ذات میں نظریہ ہوتا ہے لیکن کسی سیاسی جماعت کا سربراہ اس اجتماعی نظریئے کو کہا جاسکتاہے جو بہت سے نظریات کو اپنے اندر جذب اور ہر کسی کو مطمئن کرنے کا ہنر جانتا ہو۔ کس نظریئے کی قیمت کیا ہے اور نظریات ناپ تول کے کس نظام پر پورا اترتے ہیں‘ یہ سب باتیں راز نہیں رہنی چاہئیں!نواز شریف کو اپنے نظریئے ہونے جیسی حقیقت کا علم اس وقت تک نہیں ہوسکا جب تک انہیں عدالت عظمیٰ کی جانب سے نااہل قرار نہیں دیا گیا اور وہ اب احتساب عدالتوں کا سامنا کر رہے ہیں جہاں ان کی معلوم آمدنی سے زائد اثاثہ جات کے مقدمات زیرسماعت ہیں۔ کیا نواز شریف ایک ایسے نظریئے کا نام تو نہیں جو ذاتی مفاد کیلئے ریاستی اداروں سے ٹکراؤ پر یقین رکھتاہو؟

مجھے کیوں نکالا سے پیدا ہونیوالی فلسفیانہ الجھن اپنی جگہ موجود ہے کہ عدالتی فیصلے سے متعلق جس ایک جواز کا علم پوری دنیا کو ہے اس سے متعلق اگر کوئی شخص بے خبرہے تو وہ صاحب نظریہ کی ذات ہے‘ ایک نظریاتی مملکت میں کسی نظریئے کو نااہل قرار دینے جیسا سلوک دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ آخر نظریہ کیسے نااہل ہونے سے بچ گیا!پنجاب ہاؤس سے جاتی امراء کے درمیان آمدورفت میں نوازشریف اور ان سے ہر مرتبہ ملاقات کیلئے دوڑے چلے جانیوالوں کا تجسس بھی یہی ہو گا کہ وہ اس نظریئے کی حقیقت جان لیں‘ جو اب تک پوشیدہ رہا!نوازشریف چلتا پھرتا‘ ہنستا بولتا اور پریشانی کے عالم میں بھی نظریہ ہے۔ اب اِس نظریئے کے خدوخال ڈھونڈنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے کیونکہ اگر زیادہ کوشش کی گئی تو نظریہ ساز کا نام سامنے آ جائے گا اور اگر ایسا ہوا تو یہ خود نوازشریف اور انکی نوازلیگ کیلئے شرمندگی کا باعث امر ہوسکتا ہے سیاسی تاریخ عیاں ہے کہ یہ نظریہ اتفاق سے وجود میں آیا اور کون نہیں جانتا کہ ’اتفاق میں برکت ہوتی ہے۔‘ معروف ہے کہ وجود میں آنے کے بعد نظریہ خود نہیں جانتا تھا کہ وہ نظریہ ہے اسلئے وہ عام نوجوانوں کی طرح کرکٹ میں اپنا وقت ضائع کرتا رہا‘ پھر نظریئے کو سیاست کی سوجھی اوروہ ریٹائرڈ ائرمارشل اصغر خان کی تحریک استقلال میں سما گیا‘ جس کے بعد یہ نظریہ پھیلتا چلا گیا جبکہ تحریک استقلال ہر دن سکڑتی چلی گئی‘ یہاں تک کہ اسے تحریک انصاف میں ضم ہونا پڑا‘پھر اچانکہ نظریئے نے تحریک استقلال سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایک دن کیا ہوا کہ پنجاب کے گورنر جنرل غلام جیلانی خان کی نظر دربہ در کی ٹھوکریں کھاتے نظریئے پر پڑی‘ وہ ایک جہاں دیدہ آدمی تھے انہوں نے جھٹ پٹ اپنی یہ فخریہ دریافت‘ جنرل ضیاء الحق کے سامنے پیش کی جو بعدازاں اِس نظریئے کے محافظ بن گئے۔

حاضر سروس فوجی کے سائے میں آنے والا یہ نظریہ ضیاء الحق کی ضیاء میں ایسا چمکا کہ اسکی چمک سیاست سے عدالت اور صحافت تک ہر شعبے پر سورج بن کر چمکنے لگی! کتب بینی کا شوق بھی تھا اُور پڑھی لکھی صاحبزادی بھی کسی نعمت سے کم نہیں تھی‘ اِس لئے جان گئے کہ دنیا میں نہ جانے کتنے ہی سیاسی نظریئے مٹ گئے‘ اس خطرے کو پیش نظر رکھتے ہوئے ’نظریئے‘ نے ہمیشہ کوشش کی کہ وہ مٹنے سے محفوظ رہے۔ صرف عوام الناس کی خاطر مجبور نظریہ اپنا ستیاناس ہونے کے بعد سمجھوتا کرکے جدہ چلا گیا اور وہاں عرصے تک خاموش رہ کر اپنے اندر لاوے کی طرح کھولتا رہا۔ نظریئے نے نہ صرف خود نقل مکانی کی بلکہ اپنے اثاثے بھی بیرون ملک منتقل کردیئے کیونکہ مال و دولت کے بغیر خالی خولی نظریہ کیا کرتا؟ پھر نظریئے نے سوچا کہ میں تو خود قوم کا سب سے بڑا اثاثہ ہوں‘ جب میں ملک میں نہیں تو یہ چھوٹے موٹے اثاثے باہر بھیجنے سے کیا فرق پڑتا ہے! یوں وطن واپسی ممکن ہوئی!بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر یہ نظریہ ہے کیا؟تو اس کیلئے اسی انقلابی و تاریخی تقریر کے اقتباسات پر نظر کرنا ہوگا‘ جس میں وضاحت موجود ہے کہ نظریہ ملک میں انقلابی تبدیلی لائے گا۔‘ بس پاکستان میں اِسی شے کی کمی تھی‘ کیونکہ قوم کے پاس سب کچھ تھا لیکن لینن‘ ماؤ اُور کاسترو جیسی شخصیات نہیں تھیں‘ سو صدشکر کہ وہ بھی مل ہی گئیں! پاکستان کا یہ انقلابی نظریہ بہت سے نظریات کا مجموعہ ہے اور اسکی سب سے بڑی خوبی لچکدار ہونا ہے جبکہ اس کا بنیادی مادہ نظریۂ ضرورت قرار دیا جاسکتا ہے کہ حکمت عملی یہ ہونی چاہئے کہ جب کہیں‘ جس کسی کی ضرورت پڑے اس سے ضرور کام لیا جائے خودکفالت بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔ پاکستان کیلئے یہ بات خوش آئند ہے کہ کم سے کم اگر کسی اور نے نہیں تو میاں نواز شریف نے خود کو پہچان لیا ہے کہ وہ ایک نظریہ ہیں!اب خطرہ یہ ہے کہ کہیں میاں شہباز شریف اور انکی دیکھا دیکھی آصف علی زرداری بھی نظریہ ہونے کا دعویٰ نہ کر دیں‘ یقیناًپاکستان بیک وقت اتنے سارے نظریات کا متحمل نہیں ہوسکتا!۔