بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / قبائلی عوام کامسئلہ

قبائلی عوام کامسئلہ


وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی مختلف طلباء تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل فاٹا یوتھ فورم کے عہدیداران سے ملاقات میں کہاہے کہ وفاقی اورصوبائی حکومت کے درمیان قبائلی علاقوں کے بندوبستی علاقوں میں انضمام پر مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور اس ضمن میں کسی ابہام کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے‘فاٹا یوتھ فورم کے نوجوان عہدیداران نے اس موقع پر وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ حکومتی اعلان کے مطابق قبائلی علاقوں کوقومی دھارے میں لانے کیلئے ان کا خیبر پختونخوا میں جلد از جلد انضمام ناگزیر ہے‘ اس سلسلے میں جماعت اسلامی نے 10دسمبر کو باب خیبر جمرود سے پارلیمنٹ ہاؤس تک لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے اس مارچ میں تمام مکاتب فکر کے علماء اور طلباء‘ صحافیوں ‘ وکلاء‘ تاجروں ‘ اساتذہ اور زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے قبائل کو شریک کرنے کا اعلان کیا ہے یہ امرقابل توجہ ہے کہ فاٹا انضمام میں حکومت کی جانب سے جوں جوں تاخیری حربے استعمال کئے جا رہے ہیں توں توں قبائل کے غم و غصے اور ان کی ناراضگی ومایوسی میں فطری طور پر مسلسل اضافہ ہو رہاہے ۔ قبائل بالخصوص قبائلی نوجوان جب قبائلی علاقوں میں جاری لوٹ مار اور وہاں رائج ایف سی آر کے سیاہ قانون اورا س کے تحت قبائل کے ساتھ ریاستی اداروں کے روا رکھے جانے والے متعصبانہ اور امتیازی سلوک اور خاص کر زندگی کے ہر شعبے میں اپنی زبوں حالی کو دیکھتے ہیں تو ان کے اندر ایک فطری ردعمل اور نفرت وانتقام پر مبنی جذبات کا فروغ قابل فہم معلوم ہوتا ہے۔

قبائل کی اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہوگی کہ جب دنیا چاند پر پہنچ کر مریخ پر کمندیں ڈالنے کی تیاری کر رہی ہے ایسے میں ہمارے قبائلی علاقوں میں آج بھی سو سال پرانا فرسودہ نظام زندگی نہ صرف نافذ ہے بلکہ حکمرانوں سمیت بعض روایتی سیاسی قوتیں اس فرسودہ اور باطل اور کرپٹ نظام کو جوں کا توں رکھنے پر بھی مصرہیں۔ایسے میں چند مٹھی بھرعناصر کی جانب سے قبائلی علاقوں کا سٹیٹس کو برقرار رکھتے ہوئے اور یہاں کی لاکھوں آبادی کوصحت وتعلیم اور صاف پانی جیسے زندگی کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنے میں جس طرح بعض قوتیں پیش پیش ہیں اس کا تقاضا ہے کہ ان عناصر کا ہر محاذپر مقابلہ کیا جائے شاید اسی سوچ کے تحت جماعت اسلامی نے دسمبر میں قبائل کو ساتھ لیکر اسلام آباد کی جانب لانگ مار چ کا اعلان کیا ہے۔ہمارے ہاں چونکہ سیاسی جمہوری اداروں کے ساتھ ساتھ نہ تو میڈیامکمل طور پر آزاد ہے اور نہ ہی قبائلی علاقوں میں تعلیم کی شرح اتنی بہترہے جس کی بنیا دپر قبائل سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے اجتماعی حقوق کے لئے اسی طرح اٹھ کھڑے ہوں گے جس طرح ترقی یافتہ اور منظم معاشروں میں تعلیم اور شعور کی فراوانی نیزمیڈیا اور عدل وانصاف کے اداروں کی موجودگی میں وہاں کے عوام منظم اندا زمیں اپنے غصب شدہ حقوق کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

لہٰذاقبائل کی اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہوگی کہ وہاں اصلاحات کے ایشوپر جہاں وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے موقف اور طر زعمل میں بعد المشرقین پایا جاتا ہے وہاں قبائلی علاقوں میں وجود رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے درمیان بھی اصلاحات اور انضمام کے مسائل پر واضح اختلافات پائے جاتے ہیں۔قبائل کی بد قسمتی ا ور ان کی غربت و پسماندگی کی ایک اور بڑی وجہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات اور ادغام کے ایشو پر بھی متعلقہ فریقین کا ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مسجدیں بناناہے۔واضح رہے کہ اب تک زبانی کلامی تواکثر سیاسی جماعتیں قبائلی علاقوں میں اصلاحات اور ان کے خیبر پختونخوا میں انضمام پر متفق نظر آتی ہیں لیکن چونکہ یہ تمام جماعتیں یہ سب کچھ اخلاص اور قبائل کے ساتھ حقیقی ہمدردی کی بجائے محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور اپنے مخصوص سیاسی مفادات کے ہاتھوں مجبور ہو کر کرتی ہیں اس لئے اب تک نہ تو اس حوالے سے تمام جماعتوں میں کوئی افہام وتفہیم اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی ہم آہنگی اور مشترکہ جدوجہد کے کچھ آثار نظر آتے ہیں‘فاٹاانضمام کی حامی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی کریڈٹ اور عارضی سیاسی مفادات کی سوچ سے بالا تر ہوکر انضمام کی کوشش کریں تو اسکے نتیجے میں توقع کی جا سکتی ہے کہ قبائلی عوام کافاٹاانضمام کی منزل کے حصول اور بہترمستقبل کی جانب جاری سفر تیز تراور بار آورثابت ہوسکتا ہے۔