بریکنگ نیوز
Home / کالم / ریاستی عملداری کاہدف!

ریاستی عملداری کاہدف!


وفاقی حکومت نے عدالت عظمیٰ کے حکم پر فیصلہ کیا ہے کہ فیض آباد چوک پر دھرنا دینے والوں کی سپلائی لائن کاٹ دی جائے اور اس طرح وہ بھوک و پیاس اور سردی کی شدت سے مجبور ہو کر دھرنا ترک کر دیں گے اس سلسلے میں پاک فوج کے ترجمان کا بیان بھی لائق توجہ ہے جنہوں نے کہا ہے کہ ’دھرنے سے متعلق حکومت کے فیصلے پر عمل ہوگا‘ حکومت نے جب بھی بلایا‘ وہ کام کرنا فوج کا فرض ہے۔ پاکستان کے تحفظ کیلئے فوجی اورسویلین لیڈرشپ ایک ہیں۔‘‘ موجودہ منتخب سول سیٹ اپ کا یہ المیہ رہا ہے کہ اس کا تقریباً پورا عرصہ جمہوریت کو عدم استحکام کا شکار کرنیوالی سازشوں کا سامنا کرتے گزرا ہے‘ اس میں پہلے تین سال کی اپوزیشن کی سیاست میں دھرنوں اور دیگر احتجاجی تحریکوں کے حوالے سے اعلانیہ ’امپائر‘کی انگلی اٹھنے کا عندیہ دیا جاتا رہا اور حکومت کے لئے ’صبح گیا یا شام گیا‘ والے بنائے گئے ماحول میں بالآخر اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو خود وضاحت کرنا پڑی‘اسی طرح موجودہ منتخب سول سیٹ اپ کے اقتدار کا اب تک کا ڈیڑھ سال کا عرصہ اسٹیبلشمنٹ کے نام پر کی جانیوالی سازشوں کا سامنا کرتے گزرا ہے جس میں ریاستی ادارے فوج کے علاوہ عدلیہ کا نام بھی سازشی عناصر کی جانب سے استعمال ہونے لگا اور پانامہ کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت اور پھر اس کیس کے فیصلہ کے تحت میاں نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کے منصب سے علیحدگی کے حوالے سے حکومت مخالف عناصر کی جانب سے جن میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان پیش پیش رہے ہیں‘ یہی تاثر دیا جاتا رہا کہ ان دونوں ریاستی اداروں نے حکمران خاندان سمیت تمام کرپٹ سیاستدانوں کو کیفرکردار کو پہنچانے کا عہد کر رکھا ہے۔

آئین و قانون کی حکمرانی‘ انصاف کی عملداری اور کرپشن فری معاشرے کی تشکیل بلاشبہ ملک کے ہر شہری کا مطمح نظر ہے جس کیلئے وہ بلاامتیازاوربے لاگ قانون کی عملداری اور انصاف کی فراہمی کے متمنی ہیں چنانچہ کرپشن کے الزامات اور نیب کے مقدمات میں ملوث ہر شخص کو بلا‘ تاخیر قانون کے کٹہرے میں لا کر انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے ہی کرپشن فری معاشرے کا خواب شرمندۂ تعبیر کیا جا سکتا ہے پانامہ لیکس میں سیاستدانوں‘ تاجروں‘ بیوروکریٹس اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں سمیت تین سو سے زائد شخصیات کے نام آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے سامنے آئے تاہم ان میں سے جب صرف حکمران خاندان کیخلاف مقدمات کھول کر انہیں قانون و انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عمل شروع ہوا تو اس سے متاثرہ فریق کے دلوں میں امتیازی کاروائی کا تاثر پیدا ہونا فطری امر تھا جبکہ پانامہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کے فاضل ججوں کی جانب سے دیئے جانے والے غیرمعمولی ریمارکس اور پھر نیب کو انکے خلاف ریفرنسزتیار کرکے احتساب عدالت کو بھجوانے‘ نگران جج تعینات کرنے اور ریفرنسوں کے فیصلہ کے لئے ایک مخصوص مدت کا تعین کرنے سے میاں نوازشریف اور انکے اہل خانہ کے لئے امتیازی کاروائی کے تاثر کو مزید تقویت حاصل ہوئی اور ان کا یہ الزام درست نظر آنے لگا کہ یہ انصاف کا نہیں سیاسی انتقام کا کیس ہے۔

میاں نوازشریف‘ انکی صاحبزادی مریم نواز اور حکمران نواز لیگ کے دیگر عہدیداروں اور وزراء کی جانب سے ابھی تک اسی تاثر کا اظہار کیا جارہا ہے چنانچہ بزرگ سیاسی لیڈر مخدوم جاوید ہاشمی کو بھی اس رائے کا اظہار کرنا پڑا کہ نواز لیگ کو سپریم کورٹ کے ریمارکس کے ردعمل میں ہی ایک نااہل شخص کو پارٹی صدارت کیلئے اہل قرار دلانے کا پارلیمنٹ میں بل لانے کی ضرورت محسوس ہوئی تھی جبکہ سینٹ کے قائد حزب اختلاف چودھری اعتزاز احسن کو میاں نوازشریف کے عدلیہ کیخلاف بیانات سے جمہوریت ڈی ریل ہوتی نظر آرہی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عدلیہ‘ انتظامیہ‘ مقننہ اور افواج پاکستان سمیت ہر ریاستی ادارے کو آئین میں متعینہ اپنی حدود و قیود اور اختیارات کے دائرے میں رہ کر اپنے فرائض منصبی ادا کرنے ہیں۔ وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام میں آئین کے ماتحت ریاستی ادارے پارلیمنٹ کو اس لئے فوقیت حاصل ہے کہ اس نے ہی امور حکومت و مملکت کی انجام دہی اور ریاستی اداروں کی حدود و قیود سے متعلق قوانین اور قواعد و ضوابط وضع کرنے ہوتے ہیں ۔

اگر تمام ریاستی ادارے اپنے متعینہ آئینی اختیارات کے مطابق اپنے فرائض منصبی ادا کررہے ہوں تو اداروں کے مابین کسی قسم کا تنازعہ ہی پیدا نہ ہو مگر بدقسمتی سے ہمارا ماضی اس معاملے میں کچھ اچھا نہیں گزرا اور چار طالع آزما جرنیل اقتدار پر براجمان ہوچکے ہیں۔ اگرچہ سیاستدانوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت اور عدلیہ نے ججز بحالی کیس کے فیصلہ میں نظریہ ضرورت کو سپریم کورٹ کے احاطہ میں دفن کرنے کا اعلان کرکے آئندہ کیلئے ماورائے آئین اقدامات کا راستہ بند کرنیکی کوشش کی مگر اس کے بعد حکومتوں کو محلاتی سازشوں کے جن کٹھن مراحل سے دوچار ہونا پڑا اس کے پیش نظر جمہوری نظام پر تلوار ہمہ وقت لٹکتی نظر آتی رہی ہے اور نواز لیگ کی حکومت برقرار ہونے کے باوجود میاں نوازشریف آج بھی جمہوری نظام کو لاحق ایسے خطرات کی نشاندہی کررہے ہیں اور اسی تناظر میں وہ اداروں کیساتھ ٹکراؤ کے راستے پر بھی گامزن نظر آتے ہیں اس ماحول میں جب ختم نبوت کے حلف میں ترمیم کی غلطی پر حکومت کے شرمسار ہونے اور حلف کی اصل عبارت من و عن بحال کرکے اسے انتخابات کے مروجہ قانون کا پہلے ہی کی طرح حصہ بنانے کے باوجود علامہ حافظ خادم حسین رضوی اپنے کارکنوں کیساتھ فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دیکر بیٹھ گئے۔ آئین نے تو افواج پاکستان کی حدود و قیود اور ذمہ داریاں صراحت کیساتھ متعین کر رکھی ہیں حلف کے مطابق جو اس ادارے کا ہر رکن اس ادارے میں شمولیت اختیار کرتے وقت اٹھاتا ہے یہ عہد لیا جاتا ہے کہ ’’میں پاکستان کا وفادار رہوں گا‘ آئین پاکستان کی مکمل پاسداری کروں گا اور خود کو کسی سیاسی سرگرمی میں شریک نہیں کروں گا۔‘ اس حلف کی پاسداری کرتے ہوئے افواج پاکستان کا کوئی رکن کسی حکومتی فیصلے کی عدم تعمیل کے بارے سوچ بھی نہیں سکتا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: وقار عظیمی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)