بریکنگ نیوز
Home / کالم / شاہین اورکرگس میں فرق

شاہین اورکرگس میں فرق


یہ تو میڈیا کا اعجاز ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً ایوان اقتدار میں ہونیوالے غلط کاموں کی نہ صرف نشاندہی کر رہا ہے بلکہ ان پر نشتر زنی بھی کی جا رہی ہے اس عمل سے عوام کا سیاسی شعور کافی حد تک بیدار ہو رہا ہے چونکہ اسوقت ملک میں درجنوں کے حساب سے چینلز موجود ہیں اورسینکڑوں کی تعداد میں اخبارات اور جرائد بھی شائع ہو رہے ہیں لہٰذا ہر قاری اور سامع کو تصوپر کے دونوں رخ نظرآجاتے ہیں اور وہ یہ فیصلہ کر نے میں غلطی نہیں کرتا کہ کون کتنے پانی میں ہے ؟ کس کی بات کس حد تک درست ہے اور کون جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کر رہا ہے اور کون سچ بو ل رہا ہے حال ہی میں انتخابی اصلاحات کمیٹی کی چند ایسی اصلاحات کے ذریعے الیکشن کے قوانین میں ترمیم کی گئی ہے کہ جسے عام آدمی نے بالکل پسند نہیں کیا آئیے جس دیگ میں ان نام نہاد اصلاحات کے جو چاول پکے ہیں ان سے چند دانے آپ کوچکھا دیں تاکہ آپ کو اندازہ ہو جائے کہ ان میں کس قدر بدنیتی کا عنصر شامل ہے ہر رکن پارلیمنٹ قانونی طورپرپابند تھاکہ وہ اپنے اثاثہ جات ڈکلیئر کرے پرانے قانون کے تحت اگر وہ اپنے گوشوارے چھپانے کے جرم میں ملوث پایا جاتا تو اس کیخلاف بدعنوانی کے تحت فوجداری مقدمہ درج کرایا جا سکتا جسکے تحت اسے تین برس کی قید دی جا سکتی اب جو نیا قانون لایا گیا ہے اس میں گوشواروں کی اہمیت ختم کرنے کیلئے بدعنوانی کی یہ شق ختم کر دی گئی ہے اور ہر رکن پارلیمنٹ کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ جب چاہے اپنے گوشوارے میں ترمیم کرالے یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے ؟ جن کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے کے جرم میں نوازشریف کو آرٹیکل (1) 62 عوامی نمائندگی ایکٹ76 کی دفعہ 99 الف عوامی نمائندگی ایکٹ 76 کی دفعہ 12 اورعوامی نمائندگی ایکٹ 76 کی دفعہ78 کے تحت تا حیات نا اہل قرار دیا گیا تھا۔

اس کی شقوں کو کاغذات نامزدگی سے خارج کر دیا گیا ہے پارلیمنٹ کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو محولا بالا ترمیم کرتے وقت اعتماد میں نہیں لیا اور نہ ہی اس ضمن میں عدالت عظمیٰ کی سابق رولنگز کو درخور اعتناء سمجھا قانونی ماہرین کی رائے میں چونکہ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اور اسمبلیوں کے ارکان کا صادق اور امین ہونا لازمی ہے حکومت اور اپوزیشن کی ملی بھگت سے جو انتخابی اصلاحات پارلیمنٹ سے منظور کرائی گئی ہیں وہ آئین کے آرٹیکل(2) 218 کے منافی ہیں غالب امکان یہی ہے کہ عدالت عظمیٰ انتخابی اصلاحات کمیٹی کی ان نام نہاد اصلاحات کو فوراً سے پیشتر غیر آئینی قرار دیکر کوڑے دان میں پھینک دیگی دل سے پی پی پی بھی یہی چاہتی ہے کہ کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت ریٹرننگ افسرامیدوار کے کوائف کے بارے میں زیادہ چھان بین نہ کرے کیونکہ اسکے ہاں بھی پارلیمنٹ کا الیکشن لڑنے والے لوگوں کی ایسی کھیپ موجود ہے کہ جن کے مالی معاملات کی اگرصحیح طور پر چھان پھٹک کی جائے تو ان میں شاید90 فیصد لوگوں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو جائیں ۔

یہ بھی مقام شکر ہے کہ سپریم کورٹ کی شکل میں ملک میں ایک ایسا ادارہ موجود ہے کہ جو کانے کو منہ پر کانا کہنے کی جرات رکھتا ہے اورحکومت کو کوئی ایسا کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا کہ جو آئین پاکستان کی روح کے منافی ہو ورنہ یار لوگوں نے نہ جانے کیا کیا غیر آئینی کام اب تک بغیر کسی رکاوٹ کے کرلئے ہوتے یہی وجہ ہے کہ سیاستدانوں میں جو مفاد پرست لوگ ہیں انکی آنکھوں میں عدلیہ کھٹک رہی ہے ۔ قانون کا احترام سب پر لازم ہے اس لئے جو فیصلے آتے ہیں ان پر ردعمل عدالتوں کے اندر اپنا دفاع کر کے دیا جا سکتا ہے نہ کہ عدالت سے باہر نکل کر عدلیہ پر الزامات لگائے جائیں دوسری جانب انصاف بھی اس طریقے سے ہو کہ سامنے والے فریق کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے تب کہیں جا کر عوام مطمئن ہو سکیں گے۔