بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / فاٹا انضمام کیلئے آئینی ترمیم کا عندیہ

فاٹا انضمام کیلئے آئینی ترمیم کا عندیہ


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے فاٹا اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، وزیراعظم پشاور ہائی کورٹ کو قبائلی علاقوں تک توسیع دینے کیلئے آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی کے اگلے سیشن میں پیش کرنے کا یقین بھی دلا رہے ہیں، سیفران کے وزیر مملکت غالب خان اور فاٹا انضمام تحریک کے سربراہ شاہ جی گل آفریدی کے ساتھ بات چیت میں وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ فاٹا انضمام کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہونے دی جائیگی، دریں اثناء خیبرپختونخوا حکومت نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے فاٹا انضمام کے حوالے سے عدالت عظمیٰ میں دائر کی جانیوالی رٹ پٹیشن کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے، اس مقصد کیلئے قانونی ماہرین کیساتھ مشاورت کے بعد عدالت عظمیٰ سے رجوع کیاجائیگا، خیبرپختونخوا حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ فاٹا انضمام کے لئے تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں، مخصوص جغرافیے اور حالات کے باعث تعمیر وترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے خیبرپختونخوا سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات میں اصلاحات کی ضرورت کاا حساس کرنے کے ساتھ خصوصی کمیٹی نے فاٹا کی ایجنسیوں کے دورے کرکے سفارشات تیار کیں جن پر عمل درآمد کے لئے ایک طویل ٹائم شیڈول دیاگیا۔

اس فریم ورک پر عمل درآمد کی رفتار بھی مخصوص سست روی کا شکار ہونے پر ہر جانب سے مطالبات شروع ہوئے اور بات دھرنوں تک جاپہنچی‘ایک ایسے وقت میں جب وطن عزیز کی معیشت کو سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے اور معاشی استحکام اس بات کا متقاضی ہے کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کو چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے زیادہ سے زیادہ ثمرات سمیٹنے کا موقع دیاجائے، اس مقصد کیلئے ضرورت ایک جانب سیاسی سطح پر بات چیت کے ذریعے تحفظات وخدشات دور کرنیکی ہے تو دوسری جانب متعلقہ سرکاری اداروں کو اصلاحات سے متعلق ہوم ورک مکمل کرنے کیلئے ڈیڈ لائن دینے کی ہے، ہمارے ہاں حکومتی اعلانات خوشگوار تاثر چھوڑ کر عمل درآمد کیلئے سرکاری کاغذوں میں ایک سے دوسرے دفتر گردش کرتے رہتے ہیں جبکہ لوگ ان کے عملی نتائج نہ ملنے پر مایوسی کا شکارہو جاتے ہیں ۔

صرف رجسٹریشن کافی نہیں

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے میڈیکل یونیورسٹیوں کو غیر رجسٹرڈ کالجوں کے طالب علموں کو داخلہ نہ دینے کا کہا ہے‘پی ایم ڈی سی نے اس مقصد کیلئے 30سرکاری اور نجی جامعات کو نوٹس بھی جاری کردیئے ہیں‘ پی ایم ڈی سی کی جانب سے غیر رجسٹرڈ میڈیکل کالجوں کا الحاق ختم کرکے نئی فہرست شائع کرنیکی ہدایت بھی کی گئی ہے، تعلیم میڈیکل کی ہویا انجینئرنگ سمیت کسی بھی دوسرے شعبے کی اس میں معیار کا معاملہ اکثر کیسوں میں صرف رجسٹریشن تک محدود رہتا ہے، ہماری ریگولیٹری اتھارٹیز بھی زیادہ زور رجسٹریشن اور سالانہ ادائیگیوں پر دیتی رہتی ہیں، اصل ضرورت معیار اور رجسٹریشن کیلئے مقررہ قواعد وضوابط پر مستقل عمل درآمد کی ہے اس مقصد کیلئے نگرانی کا کڑا نظام ضروری ہے، کوئی بھی ادارہ صرف رجسٹریشن سرٹیفکیٹ فریم میں لگوا کر نمایاں مقام پر آویزاں کرکے چیک اینڈبیلنس کے سسٹم سے آزاد نہیں ہونا چاہئے اور یہ صرف میڈیکل کالجوں تک محدود بات نہیں بلکہ ہر شعبے میں کوالٹی یقینی بنانے کے ذمہ دار اداروں کو آن سپاٹ شرائط وضوابط پر عمل درآمد کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ کوالٹی کسی مرحلے پر بھی متاثر نہ ہونے پائے۔