بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے

مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے


مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں تعلیم کے اندر امتیاز ختم کرنے اور معیار یقینی بنانے کیلئے ٹاسک فورس بنا دی گئی ہے ‘ فورس دستور میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد تعلیم کے معیار اور ہائیر ایجوکیشن کے کردار کے تناظر میں کام کرے گی ‘ کونسل کا اجلاس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہوا‘ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گیس فیلڈز کی قریبی آبادیوں و دیہات کو گیس کی فراہمی کیلئے تمام اخراجات تقسیم کار کمپنیاں برداشت کریں گی ‘ اجلاس کی کاروائی سے متعلق مہیا تفصیلات کے مطابق مردم شماری کے اعداد و شمار کی تھرڈ پارٹی توثیق کے عمل کو مختصر ترین مدت میں مکمل کرنے کی پوری کوشش کا عزم کیا گیا اس سب کیساتھ بجلی کی لوڈشیڈنگ پیداوار اور تقسیم کار کمپنیوں کیلئے تخصیص جیسے معاملات کی بھی ہمہ وقت مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے اجلاس میں توانائی کے مزید چار منصوبے بھی منظور کئے گئے ‘ مشترکہ مفادات کونسل ہو یا پھر قومی مالیاتی کمیشن اور دیگر اہم پلیٹ فارمز پر جب ذمہ دار قیادت اکٹھی ہوتی ہے تو ہمیشہ انتہائی اہمیت کے حامل امور نمٹائے جاسکتے ہیں۔

اس مقصد کیلئے اجلاسوں کا تواتر کیساتھ انعقاد ان کیلئے ہوم ورک اور اجلاسوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے فول پروف مکینزم کی ضرورت ہمیشہ سے رہی ہے جسکا احساس و ادراک ضروری ہے اس وقت بہت سارے اہم ایشوز ایسے ہیں جنہیں سیاسی قیادت باہمی رابطے اور اہم پلیٹ فارمز پر اکٹھے ہو کر یکسو کر سکتی ہے ‘ مشترکہ مفادات کونسل کے گزشتہ روز کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں میں تعلیم کے معیار اور امتیاز کو ختم کرنے کیلئے اقدامات تجویز کرنا قابل اطمینان سہی تاہم دستور میں اٹھارویں ترمیم کے بعد سے جبکہ ایجوکیشن کو صوبائی سبجیکٹ قرار دیا گیا ہے مختلف امور کی دیکھ بھال کیلئے اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی تاہم یہ بات ہر لیول پر مدنظر رکھنا ہو گی کہ ایجوکیشن سیکٹر میں اصلاحات امتیازی نظام کے خاتمے اور معیار کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات مرکز اور صوبوں کے ذمہ دار اداروں کے باہمی رابطے اور تعاون ہی سے ممکن ہیں اس مقصد کیلئے ثمر آور نتائج کی حامل پالیسی اسی صورت تشکیل پا سکتی ہے جب اس پر عملددرآمدکیلئے سب مستعد اور پر عزم ہوں اس کیساتھ بجلی وگیس سے متعلق امور بھی اسی صورت قابل اطمینان طورپر حل ہوسکتے ہیں جب اعلیٰ سطح پر ہونے والے فیصلوں کو عملی شکل دینے میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔

روزانہ کی بنیاد پرآپریشن

پشاور کی ضلعی انتظامیہ اور ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے ڈبگری گارڈن میں روزانہ کی بنیاد پر کریک ڈاؤن کافیصلہ قابل اطمینان ضرور ہے تاہم اس کے نتائج آپریشن کا سلسلہ بغیر کسی وقفے کے جاری رکھنے اور نگرانی کے کڑے نظام سے مشروط ہیں‘ پشاور کی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اورہیلتھ کیئر کمیشن نے گزشتہ روز شہر کی غیر اعلانیہ میڈیکل سٹی ڈبگری گارڈن میں کاروائی کے دوران 8 لیبارٹریاں سیل کرکے منیجرز کو گرفتار کرلیا ہے‘ان لیبارٹریوں میں غیر رجسٹرڈ اورزائد المیعاد کٹس استعمال ہورہی تھیں‘میڈیکل جیسے شعبے میں جس کا تعلق براہ راست انسانی صحت اور زندگی سے ہے اس طرح کی لا پرواہی یقیناًزیادتی ہے تاہم اس کاحل چند روزہ چیک اور سزائیں نہیں‘ اس مقصد کیلئے خود ہیلتھ سیکٹر سے بھی نمائندے ساتھ رکھتے ہوئے باقاعدہ نظم وضبط کیساتھ کام کرنا ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ مثبت نتائج حاصل کئے جاسکیں ‘ اس سزا کے ساتھ حوصلہ افزائی کا ہونا بھی ضروری ہے۔