بریکنگ نیوز
Home / کالم / مفاہمت کی خواہش

مفاہمت کی خواہش


بڑے میاں صاحب کا اب جی چاہ رہا ہے کہ زرداری صاحب کو ایک مرتبہ پھر گلے لگا لیا جائے ‘ پی پی پی اور(ن) لیگ کے رہنما ایک دوسرے سے اب گلے شکوے کرنا چھوڑ دیں ‘ انکو اچانک میثاق جمہوریت کی یاد بری طرح ستانے لگی ہے اندھا کیا چاہے ‘ دو آنکھیں‘ڈوبتے کو تنکے کا سہارا اس کا ہی تو نام سیاست ہے جو اس ملک میں سکہ رائج الوقت ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا رات گئی بات گئی والی بات ہوتی ہے آج اس ملک کے کرپٹ سیاستدان اور بیورو کریٹس لرزہ براندام ہیں وہ نوشتہ دیوار پڑھ رہے ہیں کہ جس میں وہ بمعہ اپنے بال بچوں کے بری طرح پھنس گئے ہیں آج ان کو زرداری بھی اچھے لگنے لگے ہیں لیکن زرداری نے بھی گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے وہ اتنی آسانی سے میاں صاحب کی باتوں میں آنے والے تھوڑی ہیں وہ میاں صاحب کی اس خواہش کا احترام تو ضرور کریں گے کہ وہ بھی اسی کشتی میں سوار ہیں کہ جس میں میاں صاحب بیٹھے ہوئے ہیں اگر وہ ڈوبتی ہے تو ان کی بھی غرق یابی کا خدشہ ہے لیکن میاں صاحب سے اب کی دفعہ مفاہمت کرنے کی وہ بھاری قیمت وصول کریں گے اب کی دفعہ تو اقتدار میں آنے کی زرداری صاحب کی پارٹی کی باری ہے چنانچہ پہلے تو وہ الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کا اس طرح اہتمام کروائیں گے کہ ان سے پی پی پی کو کماحقہ فائدہ ہو اور الیکشن جیت کر وہ اپنے فرزند ارجمند بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنوا سکیں اور یا پھر خود یا اپنی پارٹی کے کسی اور منظورنظر کو اس منصب پر بٹھوا سکیں شنید ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر پانچ سال تک ایوان صدر میں براجمان ہونا چاہتے ہیں کہ صدر کے عہدے میں کشش یہ ہے کہ فوجداری مقدمات سے آپکو ہر قسم کااستثنیٰ حاصل ہوتا ہے ویسے 1973ء کے آئین میں یہ بڑی عجیب شق ڈال دی گئی ہے۔

ایک طرف تو پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دیا گیا تو دوسری جانب اس کے صدر کو فوجداری مقدمات سے مبرا‘ قرون اولیٰ میں تو ایسا نہ تھا !میاں صاحب کو شاید اپنی صاحبزادی مریم صفدر کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھانے کیلئے 2023 کے الیکشن کا انتظار کرنا پڑے پی پی پی اور (ن) لیگ کے درمیان اس میوزیکل چیئر کے کھیل میں انکی حلیف سیاسی پارٹیوں کے رہنما بھی شامل ہوتے ہیں ان کی مثال شطرنج کے مہروں یا پیادہ سپاہیوں یا ہر کاروں جیسی ہوتی ہے یہ لوگ مرکز میں برسر اقتدارحکومتی پارٹی کی امداد خدا واسطے یا کسی اصول کے تحت بالکل نہیں کرتے اس کے عوض وہ بھی بھاری قیمت وصول کرتے ہیں جو یا وزارتوں کی صورت ان کو ملتی ہے اور یا پھر کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز کے ذریعے ان کی جھولی بھر دی جاتی ہے یہ اب خدا کو پتہ ہے کہ ان فنڈز میں سے کتنی رقم واقعی ترقیاتی سکیموں پر خرچ ہوتی ہے اور کتنی پرائیویٹ جیبوں میں جاتی ہے یہ لوگ پورے پانچ برس تک حکومت وقت کے اعصاب پر برُی طرح سوار رہتے ہیں اور اس کو بلیک میل کرنے کا کوئی موقع بھی اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تادم تحریر تو زرداری صاحب اکڑے ہوئے ہیں اور میاں صاحب کو گھا س نہیں ڈال رہے لیکن واقفان حال کا یہ کہناہے کہ بہت جلد وہ ایک پیج پر آنے والے ہیں کیونکہ ان دونوں کو عمران خان سے برابر کا خدشہ ہے کہ وہ کہیں ان کے ووٹ بینک کو خراب نہ کر دے دشمن کا دشمن دوست کہلاتا ہے جونہی الیکشن کی تاریخ نزدیک آئے گی من ترا حاجی بگویم تو مراحاجی بگو‘‘ والی بات ہو جائیگی۔