بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / حبیب الرحمن ‘ایک ہمہ گیر شخصیت

حبیب الرحمن ‘ایک ہمہ گیر شخصیت


80ء کی دہائی کے وسط میں جب پشاورسے انگریزی اخبار دی فرنٹیئرپوسٹ کااجرا ہواتواس اخبارمیں ملک بھرسے تعلق رکھنے والے ترقی پسند اورجمہوریت پسندصحافیوں نے کام شروع کیا جبکہ پہلے ہی سے مقامی اخبارات میں اسی ذہن اور فکر و عمل کے کارکن صحافی موجود تھے مگربدقسمتی سے سابق فوجی آمرضیاء الحق کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے وہ منتشرتھے انکی آوازدب چکی تھی 1986 کے اواخرمیں جمہوریت پسند اورامن واستحکام پر یقین رکھنے والے کارکن صحافیوں کاپہلااجلاس پشاورکے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہوااوراس اجلاس میں خیبر یونین آف جرنلسٹس کی بحالی کا باضابطہ طورپرفیصلہ ہوامختلف اخبارات میں خدمات سرانجام دینے والے کارکن صحافیوں کو خیبریونین آف جرنلسٹس کی ممبرشپ لینے کی دعوت دی گئی اورمرحوم اے کے امین صاحب جو اسوقت روزنامہ مشرق میں خدمات سر انجام دے رہے تھے کوالیکشن کمیٹی کا سربراہ بنادیا گیا خیبر یونین آف جرنلسٹس کی بحالی اورفعال بنانے میں جن چنداہم صحافیوں نے کردار اداکیاان میں حبیب الرحمن سرفہرست تھے جبکہ دیگر صحافیوں میں روزنامہ فرنٹیئرپوسٹ کے ظفرعالم سردار‘حسن مثنیٰ مرحوم زبیرمیر‘ناصرعالم‘خیبرمیل کے مرحوم شیخ سلیم اللہ اوردیگرشامل تھے انتخابی عمل کے نتیجے میں روزنامہ دی نیوزکے موجودہ ریذیڈنٹ ایڈیٹر اور اس وقت روزنامہ دی مسلم کے بیورو چیف رحیم اللہ یوسفزئی صدراورروزنامہ دی فرنٹیئرپوسٹ کے جناب مرحوم قاضی پرویز سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے اوریوں جس یونین کو فوجی آمر ضیاء الحق نے پشاورہی میں ختم کردیا تھا کارکن صحافیوں نے اس یونین کوپشاورہی میں دوبارہ فعال کردیااس سارے عمل میں محترم حبیب الرحمن صاحب کا کردارانتہائی نمایاں تھاانہوں نے کبھی بھی اپنے لئے عہدے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا تھابلکہ ہر موقع پر کارکن صحافیوں میں اتحاداوراتفاق کیلئے بڑے کاکرداراداکیاتھا 1986میں جب کارکن صحافیوں نے یونین کی بحالی اورفعالی کا فیصلہ کیا تو اس وقت پی ایف یو جے میں حبیب الرحمن صاحب نائب صدر تھے اوراسی بنیادپرایک بار پھر خیبریونین آف جرنلسٹس پی ایف یوجے کی ایک فعال شاخ بن گئی اور مرحوم وزیراعلیٰ ارباب محمد جہانگیرخان کے تعاون سے 1987میں پی ایف یوجے کے ایگزیکٹوکونسل کااجلاس بھی پشاورمیں منعقد ہوا جس میںآل پاکستان نیوز پیپر ایمپلائز کنفیڈریشن کے انتخابات ہوئے اوران انتخابات میں حبیب الرحمن صاحب کوپی ایف یوجے کے علاوہ اپنیک کا بھی سینئر نائب صدرمنتخب کیا گیا۔

1989 میں جب محترم فیض الرحمن صاحب خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدراورراقم جنرل سیکرٹری تھے تو پشاورہی میں پی ایف یوجے کے مندوبین کا دوسالہ اجلاس منعقدہوااوراس اجلاس میں دیگر رہنماؤں کے علاوہ مرحوم منہاج محمدخان برنا‘مرحوم نثار عثمانی ‘ مرحوم عبدالقدوس شیخ‘آئی اے رحمن‘ عبد الحمیدچھابڑااوردیگرنے شرکت کی تھی اور مندوبین کے اس سالانہ اجلاس کے موقع پر ہونیوالے انتخابات میں روزنامہ ڈان لاہور کے بیوروچیف مرحوم آئی ایچ راشدصدر‘کراچی کے حبیب غوری‘سیکرٹری جنرل اورحبیب الرحمن کو سینئر نائب صدربھاری اکثریت سے منتخب ہو گئے اورپی ایف یوجے کی کاوشوں سے چوتھا ویج ایوارڈ کیلئے بورڈمیں خیبرپختونخواسے حبیب الرحمن صاحب کو نامزد کردیاگیاتھاحبیب الرحمن صاحب نہ صرف پشاور کے موقراردواخبارات میں خدمات سرانجام دینے والے مایہ نازاورتجربہ کار ایڈیٹروں‘سب ایڈیٹروں اور رپورٹروں کے استاد رہے ہیں بلکہ انہوں نے صحافی اوراخباری صنعت سے تعلق رکھنے والے کارکن صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے بھی نمایاں خدمات سرانجام دیں 1977 میں جب سابق فوجی آمرضیاء الحق نے مارشل لاء کانفاذ کیاتواس وقت جمہوریت کی بحالی کیلئے کراچی پریس کلب کو ایک مرکزی حیثیت حاصل تھی مارشل لاء کی مخالفت کرنے اور جمہوریت کی بحالی کیلئے کوشاں سیاسی کارکن ‘ وکلاء ‘ صحافی اورلکھاری کراچی پریس کلب میں جمع ہوکر جمہوریت کی بحالی کیلئے آواز اٹھاتے تھے اوران آوازوں کی بدولت 1979میں ہم خیال سیاسی جماعتیں ایم آرڈی یعنی تحریک بحالی جمہوریت قائم کرڈالی ۔

اس دوران مارشل لاء کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کیلئے ایک ملک گیرتحریک کا آغازہوااوررضاکارانہ طور پر گرفتاریاں پیش کرنیکا فیصلہ ہواملک کے تمام اہم شہروں اور قصبوں سے تعلق رکھنے والے کارکن صحافی بھی گرفتاریاں پیش کرنے والوں میں پیش پیش تھے اسلام آباد‘ لاہور‘کوئٹہ‘ پشاور اوردیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے صحافی کراچی پریس کلب کے با ہرمارشل لاء مردہ باداورجمہوریت زندہ بادکے نعرے لگوا کر گرفتاریاں پیش کرتے اور ان کارکن صحافیوں میں حبیب الرحمن خیبریونین آف جرنلسٹس کی نمائندگی کرتے تھے کراچی سنٹرل جیل میں جب جگہ کم ہوئی توکئی ایک قیدیوں کو کراچی اور حیدر آبادکے درمیان غیر آباد جگہوں پر چھوڑا جاتا تھا اوران قیدیوں میں ایک بارحبیب الرحمن صاحب بھی تھے جب انکوحیدرآبادکے قریب غیر آباد علاقے میں چھوڑدیاگیاتووہ وہاں سے پیدل جا کردوبارہ دوسرے روز گرفتاریاں دینے والوں میں شامل ہوگئے حبیب الرحمن صاحب کے انتقال سے اگرایک طرف صحافی برادری ایک عظیم استاداوربزرگ سے محروم ہوئی ہے تودوسری طرف انکے انتقال سے جمہوریت پسنداورآئین وقانون کی بالادستی پریقین رکھنے والوں کوبھی شدید دھچکا لگا ہے۔