بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / تیز نیم کش !

تیز نیم کش !


پندرہ دسمبر دوہزار پندرہ ’اِکتالیس اسلامی ممالک کی جانب سے عسکری اِتحاد کے قیام پر اتفاق ہوا‘ جسکی قیادت پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کو سپرد کی گئی تو اس کوپاکستان نے اپنے لئے اعزاز قرار دیا‘آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عسکری اتحاد کے رکن ممالک بشمول پاکستان سے وزیردفاع کی سربراہی میں نمائندہ وفود شریک ہو رہے ہیں تاکہ مستقبل قریب میں اس اتحاد سے کام لیا جا سکے جو امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خرید کر مسلح ہو چکا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ مشرق وسطیٰ نے مغربی ممالک کے دفاعی اتحاد نیٹو کی طرز پر تنظیم قائم کی ہے لیکن اسکے اہداف اور مقاصد ابھی تک واضح نہیں ہو سکے ہیں‘ اسلامی ممالک کے اس عسکری اتحاد کے قیام کا بنیادی مقصد ہم خیال ممالک کے درمیان دہشت گردی کیخلاف مشترکات کی تلاش ہے تاکہ کسی مشترک دشمن و ہدف کا متحد ہو کر مقابلہ کیا جا سکے‘ اس مقصد کیلئے رکن ممالک کو ایک دوسرے سے نہ صرف خفیہ معلومات کا تبادلہ کرنے پر رضامند ہونا پڑے گا بلکہ سعودی عرب کے بادشاہ کی بلاشرکت غیرے قیادت بھی تسلیم کرنا پڑیگی اور سعودی عرب کی نظر میں جو بھی دہشتگرد ہوگا‘ وہی اکتالیس رکن ممالک کی نظر میں بھی ممکنہ اور موجود خطرے کی علامت سمجھا جائیگا‘درپردہ مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ مغربی دنیا بالخصوص اسرائیل کو یقین دلایا جائے کہ وہ چاہے کسی بھی مسلم ملک پر فوج کشی کریں یا الزامات لگانے میں جس انتہاء تک بھی جائیں‘ اس اتحاد کے اسلحے کا رخ انکی جانب نہیں ہوگا۔ اکتالیس اسلامی ممالک کا اتحاد درحقیقت بادشاہتوں اور اقتدار پر قابض شاہی خاندانوں کے تسلط کو برقرار رکھنا اور مستقبل میں اگر بالخصوص عرب ممالک کے عوام شاہی اقتدار کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں تو انہیں دہشت گرد قرار دیکر کچلنے کا جواز فراہم کریگا۔ توقع ہے کہ عسکری اتحاد کے پہلے اجلاس میں وہ لائحہ عمل بھی ترتیب دیا جائیگا جس کا پوری دنیا کو انتظار ہے‘۔

علاوہ ازیں اس عسکری اتحاد آپریشن کمانڈ‘ فعالیت اور ممالک کی حصہ داری بارے حساس معاملات خوش اسلوبی سے طے کرنیکی راہ میں کوئی اختلافی نکتہ حائل نہیں! مذکورہ عسکری اتحاد کے رکن ممالک کے تحفظات موجود ہیں کیونکہ تشکیل سے لیکر اس دوسال کے دوران ان ممالک کو خود بھی علم نہیں کہ اس پوری کوشش کا اصل مقصد کیا ہے۔ سعودی عرب میں طلب کئے گئے اسلامی اِنسداد دہشت گردی فوجی اِتحاد کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی تقرری‘ پاکستان کی پارلیمانی سیاسی جماعتوں بالخصوص پیپلزپارٹی کیلئے ناقابل ہضم ہے کہ وہ پاکستان کا نام کسی ایسے دفاعی اتحاد سے منسلک دیکھے جو ایک خاص اسلامی ملک کی خاص نظریاتی تعلیمات کے تابع ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے پہلے ایسے کسی اتحاد میں شمولیت سے معذرت کرتے ہوئے انکار کیا‘ پھر اقرار کیا اور ایک مرتبہ پھر انکار کرتے ہوئے ’ہاں میں ہاں‘ ملا دی ہے۔چوبیس نومبر کو ایوان بالا کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ’سینیٹر فرحت اللہ بابر‘ نے کہا کہ ’’اِس فوجی اتحاد کے دائرہ کار اور مستقبل کے منصوبوں پر کئی سوالات ہنوز جواب طلب ہیں اسلئے پاکستانی وزیردفاع سعودی عرب سے کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے پہلے اِس قانون ساز ایوان کو اعتماد میں لیں۔ فرحت اللہ بابر کا سینٹ سے خطاب قومی نشریاتی رابطے کے ذریعے براہ راست دیکھا گیا اور یوں محسوس ہوا‘ جیسے ’ذوالفقار علی بھٹو‘ بول رہے ہوں۔ وہ گرجدار آواز میں کہہ رہے تھے اور بارہا تائید میں سپیکر کی گردن ہلنے کے مناظر بھی دنیا نے دیکھے کہ اِس منطقی دلیل اور حقیقت حال سے اختلاف آسان نہیں۔ افغان جنگ کے بعد پاکستان کسی بھی ایسی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا جو اُس پر مسلط کی جائے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا جو لفظ بہ لفظ کچھ یوں تھے کہ ’’مذکورہ اسلامی اتحاد کے نتائج انتہائی دور رس ہیں‘ کیونکہ اب اس اتحاد کی حکمت عملی طے ہوگی؟ فیصلوں کااختیار کسے ہوگا؟

اس عسکری اتحادکی منجملہ سرگرمیاں اور مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ جناب چیئرمین‘ اِس ایوان کی جانب سے یہ بات ان (سعودی حکمرانوں اُور اتحاد میں شریک ممالک) تک جانی چاہئے کہ جب ہمارا وزیردفاع وہاں جائے اور اتنے بنیادی مسائل کی وہاں بات ہو رہی ہو تو (پاکستان کی جانب سے کمٹمنٹ سے قبل وہ ’پلان‘ اِس ایوان کے سامنے رکھا جائے تاکہ بعد میں مشکلات نہ ہوں‘ سعودی عرب ہمارا دوست برادر ملک ہے لیکن جہاں تک نظریات کا تعلق ہے‘ جناب چیئرمین‘ میں اس پر بات کرنا نہیں چاہتا‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ (سعودی عرب کی) آئیڈیالوجی سے بھی اور دہشت گردی کی مالی سرپرستی کرنے سے متعلق بھی بڑے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔‘ فرحت اللہ بابر جس باریک نکتے کی جانب سینٹ ایوان‘ حکومت اور پاکستانی قوم کی توجہ مبذول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس جانب علامہ اقبالؒ اشارہ کر گئے ہیں‘ صرف غور کرنے اور سمجھنے کی دیر ہے۔ ’’مثل کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی: اب بھی درخت طور سے آتی ہے بانگ لاتخف۔۔۔ خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ: سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف!‘‘