بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / یرغمال سروس روڈز

یرغمال سروس روڈز


اچھے وقتوں میں تعمیر ہونیوالی سروس روڈز کا مقصد پشاورمیں ٹریفک کے بہاؤکوقابو میں رکھنا اور شہریوں کی مشکلات کو کم کرناتھا حالانکہ ان دنوں ٹریفک کی یہ حالت نہ تھی جواب ہے جی ٹی روڈ اتنا چوڑا نہ ہونے کے باوجودٹریفک کی روانی کے لئے کافی تھا پھربھی سروس روڈ رکھے گئے کہ اضافی ذمہ داریوں سے نبردآزمائی کے لئے کام آئیں گے تب سسٹم میں جان تھی اورادارے فعال تھے اسلئے شہریوں کو ٹریفک کے ان مسائل کاسامنا نہیں تھا جن سے آج انکی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے ہمارے ہاں انتظامیہ کی ناکامی کی وجہ سے ہی اکثر اوقات حکومت کی طرف سے شہریوں کی سہولت کیلئے شروع کئے جانیوالے منصوبے بھی وبال جان بن جاتے ہیں چلیں مان لیتے ہیں کہ انتظامیہ کو سابقہ ادوار میں بدترین سیاسی مداخلت کاسامنا تھا مگراب تو خودصوبائی حکومت مسلسل دعوے کررہی ہے کہ پولیس سمیت تمام اداروں کو ہرقسم کی مداخلت سے پاک کردیاگیاہے اور کسی کو جرات نہیں کہ کارسرکار میں بے جا مداخلت کرسکے دوسری طرف سوشل میڈیا اس قدر طاقتور ہو گیا ہے کہ کوئی لاکھ چاہے بھی تواداروں کے معاملات میں اس طرح کھل کرمداخلت نہیں کرسکتا جو پہلے ہوا کرتی تھی اس کے بعدبھی اگرادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہیں تو پھرسوائے افسو س کے او ر کیاکیا جاسکتاہے یہ ساری صورتحال اسلئے بیان کرنیکی ضرورت پیش آئی کہ جب صوبائی حکومت نے ریپڈ بس منصوبہ کا افتتا ح کیا تو ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کیلئے پلان تیار کرلیا گیاہے۔

اسلئے شہریوں کو کم سے کم سے تکلیف ہوگی ابتدائی چنددنوں تک تو یہ دعویٰ ٹھیک تھا مگر جوں جوں جی ٹی روڈ کو اکھاڑا جا رہاہے تو ں توں ٹریفک نظام کی سانسیں بھی اکھڑتی جارہی ہیں اور گذشتہ چند دنوں سے جس طرح جی ٹی روڈ اور اطراف میں ٹریفک جام نظر آرہاہے اس نے یقیناًشہریوں کے اوسان خطا کردیئے ہیں کیونکہ جب اس منصوبے پرکام کاسلسلہ خیبر بازار اور پھر صدر تک پھیل جائے گا تو پھر پورا شہر ہی جام ہو کر رہ جائیگا انتظامیہ محض پہلے فیز کے پہلے مرحلہ کے ابتدائی کام کے دوران ہی کھل کرناکام ہوچکی ہے جسکے بعد اس پرتکیہ کرنا کہاں کی عقلمندی ہوگی جو انتظامیہ جی ٹی روڈ کے کنار ے موجود سروس روڈ کو اس نازک مرحلہ پربھی تجاوزات اورغیرقانونی پارکنگ سے نجات نہ دلا سکے تو پھر اسکی موجودگی کا جوازہی کیا باقی رہ جاتاہے اس وقت جناح پارک سے لیکر جنرل بس سٹینڈ تک جس طرح سے سروس روڈ کو حالت یتیمی میں چھوڑا گیاہے اس نے اس کو یرغمال بنانے والوں کے حوصلے مزید بڑھا دیئے ہیں جب جی ٹی روڈ کی ٹریفک کابڑا حصہ اس سروس روڈ پرمنتقل ہو چکاہے تو اس کے بعد اس پر ٹریفک پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹیاں نہ لگا کر جی ٹی روڈبلاک کئے جانے کے امر کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے پچھلے کئی دنوں سے سروس روڈ پر ٹریفک کا جو حال ہے اس نے انتظامیہ کے تمام دعوؤں کاپول کھول دیاہے کہیں پر کسی ہوٹل کی وجہ سے گاڑیاں پارک ہیں توکہیں میڈیکل سنٹر اور کاروباری مراکزنے ٹریفک کی روانی متاثرکی ہوئی ہے افسوسنا ک امریہ ہے کہ انتظامیہ کی تمام تر توجہ جی ٹی روڈ پرہے کیونکہ اس پر سے وی وی آئی پیز نے گزرنا ہوتاہے چونکہ پبلک ٹرانسپورٹ کو سروس روڈ پر منتقل کیاگیاہے اس لئے اس کا کو ئی پرسان حال ہی نہیں اگر انتظامیہ تھوڑی سے تکلیف گوارہ کرلے اور افسران بالا اپنے دفاتر سے نکل کر موقع ملاحظہ کریں ۔

تو سروس روڈکو واگزار کروا کر اس پر ٹریفک کی روانی ممکن بنائی جاسکتی ہے جس سے کافی حد تک لوگو ں کو ریلیف مل سکے گا مٹھی بھر عناصر کی من مانیاں اب ختم کرنا ہونگی ریپڈ بس منصوبہ کی تکمیل تک جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف واقع سروس روڈز کو مکمل طور پر پارکنگ فری قراردیتے ہوئے اس پر سختی کیساتھ عملدر آمدکرایا جائے اس دوران پارکنگ کرنے والوں کو بھاری جرمانے جبکہ ساتھ اس پارکنگ کی وجہ بننے والے شادی ہالوں‘میڈیکل سنٹروں‘ مارکیٹوں اور ہوٹل مالکان کو بھی بھاری جرمانے کئے جائیں تاہم اتمام حجت کے لئے پہلے ان سب کو ایک مرتبہ اچھی طرح سے خبردار کردیاجائے تو کسی کو ناانصافی کاگلہ نہیں ہوسکے گا اور اس ضمن میں اب ہنگامی بنیاد وں پرکام کرناہوگا بصورت دیگر صوبائی حکومت کاشروع کردہ ایک اچھا منصوبہ شہر بھر کے لئے وبال جان بن کررہ جائے گا ۔