بریکنگ نیوز
Home / کالم / حلقہ احباب تھا اورشام تھی

حلقہ احباب تھا اورشام تھی


ایک عمدہ شاعر کو کئی محاذوں پر اپنا ایک مثبت اور بھرپور کردار ادا کرنا ہوتا ہے اسے اپنی ذہنی اور قلبی واردات کو بھی بیاں کرنا ہوتا ہے،زمانے کے چلن کو بھی دیکھنا‘پرکھنا اور سہنا پڑتا ہے،وہ اپنے دور کا بیک وقت عکاس بھی ہوتا ہے اور مورّخ بھی،اسے حالات کو دیکھنے کیساتھ ساتھ اپنے لوگوں کو دکھانا بھی پڑتا ہے‘وہ کبھی ڈھارس بندھاتا نظرآتا ہے اور کبھی خنجر کی نوک سے گدگدی کرنے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے‘ زمانے کے حالات اور تقاضے ہوں تو ایک ہی زمانے میں سانس لینے والے شعرا کی تخلیقات میں حیرت انگیز طور پر مماثلت نظر آتی ہے،باہر کے موسم جب بہت تلخ ہو جائیں تو یہی شاعر انسانی فطرت کے نرم و نازک پہلوؤں اور گداز جذبات کو مرتعش کرنے کیلئے کبھی خوابوں ،تتلیوں‘ خوشبوؤں ،رنگوں ،جگنوؤں اور ابر و باراں کے قصے چھیڑ دیتا ہے اور کبھی مرلی اٹھا کر سرشار موسموں کے گیت بننے لگتا ہے تا کہ اسکے لوگ تازہ دم ہو کر روٹھی ہوئی بہاروں کو اپنے آنگن میں واپس لے آنے کی سعی کریں،ا س لئے وہ اپنے دور کی عکاسی میں فوٹو گرافر کی طرح جو ہے جہاں ہے اور جس طرح ہے دکھانے کی بجائے ایک طرحدار مصور کی طرح تصویر اور پینٹنگز میں اپنا آپ بھی ڈال لیتا ہے اور پھر اشیاء جیسی ہیں دکھانے کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ ان کو کس طرح ہو نا چاہئے‘گویا ہر تخلیق کار کی تخلیق کے پیچھے اس کی اپنی سوچ اور دلسوزی ساتھ ساتھ چلتی نظر آتی ہے اس لئے شعر کی دنیا بھی پڑھنے والے کوہر لمحے دو جہانوں میں لئے پھرتی ہے ایک جہاں جو گرد و پیش میں ہے اور دوسرا وہ سکھی اور پر سکون ماحول جس کی آرزو ہر دل میں ہمیشہ سے پروان چڑھتی رہتی ہے۔عرفان صدیقی نے کہا تھا نا

دو جگہ رہتے ہیں ہم، ایک ہے یہ شہرِ ملال
اور اک شہر جو خوابوں میں بسایا ہوا ہے
میں نے اسلم فیضی کے شعر کے ساتھ بہت وقت گزارا ہے اس لئے جب انہوں نے حکم صادر کیا کہ شعر کو پڑھنا ہی نہیں پرکھنا بھی ہے اور پھر لکھنا بھی ہے تو میں نے بڑی سہولت سے کہہ دیا کیوں نہیں جناب آپ کہیں اور ہم نہ لکھیں‘ یہ کیسے ممکن ہے مگر اب جو اسلم فیضی کے شعری نگارخانے میں داخل ہوا تو ہر پیکر شعر نے سرگوشیاں شروع کر دیں ’’کہ جا اینجا است‘‘ ایسا کرشمہ قدم قدم پر جلوہ دکھانے لگا کہ مجھے چپ کرادیا اب ادھر ان کا تقاضا کہ چند سطریں لکھ بھیجئے ادھر میں سحر میں گرفتار‘ کیا لکھنا‘ کیا بھیجنا‘ اب دیکھئے نا یہ شعر
پنچھیوں کی ڈاریں ہیں سرمئی پہاڑی ہے
جھیل کا کنارہ ہے شام ہونیوالی ہے
کون بدذوق ہوگا جو اس شعر کی کیفیت کی بکل مارکر آنے والی شام کے قدموں کی آہٹ سننے کی بجائے کاغذ کالا کرنا شروع کرے گا یوں بھی اسلم فیضی نے شعر کہاں لکھے ہیں تصویریں بنائی ہیں اور یہ تصویریں فطرت کی مہربانیوں کی ہیں موسموں کی چاہتوں کی ہیں‘ گدازلمحوں کی کہانیاں ہیں‘ نرم ساعتوں کے قصے ہیں ‘ان تصویروں پر سٹروک بارش کی کن من کن من بوندوں نے لگائے ہیں اور خوشبو کے سندیسوں نے انہیں چہرہ دیا ہے گہری ہوتی ہوئی شام تو جیسے ان کے شعری معبد کی دہلیز پر کھڑی مسلسل گھنٹیاں بجا رہی ہے اب یہ تصویر دیکھئے
ایک تنہا کونج گرلاتی ہوئی
بہتی ندیا پاس ہے اور شام ہے
بس شعر پڑھتے جایئے تصویریں خودبخود بنتی جائیں گی
چاند بھی آکر رک سا گیا ہے
کس نے اپنی کھڑکی کھولی

اور ان تصویروں کی محفل چھوڑ کرلکھنے کا مجھے ذرا بھی خیال آتا تو چیت کی بارش میری فائبر گلاس کی چھت پر میلے لگانے لگتی اور میں پھراسلم فیضی کے شعر کے نگار خانے کی طرف رجوع کرلیتا
کھلا ہے گھر کا دروازہ ابھی تک
کوئی بارش میں دستک دے گیا تھا
سرشاری کا موسم بھی کیا موسم تھا
میں اور بارش مل کر گایا کرتے تھے
اب کہانی کچھ کچھ دوستی پر آمادہ ہو رہی تھی’’ سرشاری کا موسم بھی کیا موسم تھا‘‘ یہ کون موسم ہے جو انگلی چھڑا بیٹھا ہے اور اب شعر سپردشام ہونے لگے باربار شام کا ذکر بارش کی بات بہانے بہانے شعر میں درآتی ہے یہ خیال کیا آیا کہ اب نظریں تو اشعار پر تھیں مگر پڑھ میں کچھ اور رہا تھا کس دور ابتلا میں زندگی کا قافلہ آن پہنچا ہے کیسے اپنے اندر سمٹ کریار لوگ بیٹھ گئے دن کے ہنگامے آلودگی کی نذر ہوگئے بیگانگی کا سانپ ہر آنگن میں پھنکار نے لگا یہ ابتر شام وسحر قیامت سے الگ نہیں کہ یہاں نفسانفسی کی چیخ وپکار نہیں لوگ اپنے اپنے پسینے میں شرابور نہیں یا کم از کم کسی سے شیئر نہیں کرتے آوازوں کو دھیما رکھتے ہیں چپ چپ اپنی آگ میں سلگ رہے ہیں نفسانفسی بھی بلاکی ہے مگر چیخ وپکار نہیں بس بیگانگی کا‘ لاتعلقی کا احساس ہے جو فربہ ہوتا جارہا ہے عجیب خالی خالی سے دن گزر رہے ہیں کسی کو دن کے ہنگاموں میں یادہی نہیں رہتا کہ اگلا موڑ شام کا بھی توآنا ہے جب وہ اکیلا رہ جائیگا مگر اکیلا تو وہ اب بھی ہے ایک ہی کھونٹے سے بندھا دائرہ دائرہ گھوم رہا ہے اور اس اداس شام کا انتظار کر رہا ہے جب زندگی اس سے انگلی چھڑا لے گی بس یہی بات اسلم فیضی کی انسان دوستی اور اپنے لوگوں سے بے پناہ محبت کے تاج محل میں پیلاہٹیں بھر رہی ہے سدا کا شائستہ اورمہذب اسلم فیضی اپنی تہذیبی روایات کا امین‘ کہیں بھی لاؤڈ نہیں ہوتا وہ تو نرم وگداز لہجے میں یاددلاتا ہے کہ کبھی یہاں انہی گلیوں میں دوسروں پر اپنی خوشیاں نچھاور کرنے کا چلن عام تھا بیگانگی اور لاتعلقی کا عفریت یہاں کے محبت کرنیوالوں کے قریب آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔

اسلئے اس کی کسی شعری تصویر میں شوخ رنگ استعمال ہی نہیں ہوا وہ اچھے موسموں کی بات کرتا ہے تووہ چیزوں کو اچھا دیکھنا ہی نہیں دکھانا بھی چاہتا ہے وہ بارش کی بوندوں اور پانی کا ذکر کرتا ہے تو وہ ماحول کی آلودگی کو ختم کرنا چاہتاہے وہ ندی‘ تالاب اور جھیل کی تصویر بناتا ہے تو وہ پاکیزہ اور شفاف رویوں کی عکاسی کرتا ہے وہ آج کے ناگفتہ بہ حالات کو ناگفتہ بہ ہی چھوڑ کر سرشاری کے زمانے یاد کرتا ہے اسکی خواہش اورتمنا ہے کہ وہ اپنے آج کو گزشتہ کل کے پرامن اور محبت بھرے رنگوں سے خوبصورت بنائے اور یہ جو آج ہم مجلسی زندگی سے دور ہو کر اپنے گھروں اور لاؤنج سے ہوتے ہوئے اپنے کمرے کے ایک کونے میں لاتعلقی کی بکل مار کر خوش خوش بیٹھے ہیں اسلم فیضی اس حالت سے باہر نکالنے کے لئے کوئی بوجھل مشورہ‘ نصیحت یافلسفیانہ موشگافیوں کا سہارا لینے کی بجائے بہت ہی شیریں اورمدھر لہجے میں یادوں اور اچھے دنوں کی یادوں کی ایک ٹپہ کھاتی ہوئی گیند کمرے میں پھینک دیتا ہے اور اس امید پر کہ گیند کا یہ دھمال آپ کا رشتہ اچھے موسموں سے جوڑ کر آپ کو احباب کی صحبت میں گزاری ہوئی ان گنت سانولی سلونی شاموں کے رنگوں میں شرابور کردے گا لیجئے میں آپ کی مدد کرتا ہوں۔
یاد ہیں چوپال کی رنگینیاں
حلقۂ احباب تھا اور شام تھی
کیوں نہ پھر فیضی قدم رکتے وہاں
کونج تھی‘ تالاب تھا اور شام تھی