بریکنگ نیوز
Home / کالم / گوانتاناموبے سے نظر آنیوالاسمندر

گوانتاناموبے سے نظر آنیوالاسمندر


میرے سامنے’نیویارک ٹائمز‘کے انٹرنیشنل ایڈیشن میں شائع ہونیوالی ایک تصویر ہے‘ جسکا عنوان ہے ’’سمندر کنارے ہمارے قیدخانے میں‘‘ یہ تصویر کیوبا میں واقع امریکی عقوبت گاہ گوانتاناموبے میں قید ایک مسلمان محمد آنسی نے مصور کی ہے… بلیک اینڈ وائٹ اس تصویر میں سمندر چپ چاپ خاموش پڑا ہے اور اسکے اندر ایک راستہ جارہا ہے… محمد آنسی کو بھی دیگر قیدیوں کی مانند’’ پانی‘‘ سے اذیت دی گئی‘ بھوکا پیاسا رکھا گیا‘ آنکھوں پر پٹیاں اور چہرے پر ایک کنٹوپ اوڑھایا گیا کہ نہ اسے کچھ نظر آتا تھا اور نہ کچھ سنائی دیتا تھا…اکثر زدوکوب کرکے ایک صندوق میں بند کردیا جاتا تھا اور وہ سمجھتا تھا کہ اسے دفنادیاگیا ہے‘ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ دنیا کے کونسے خطے میں قید ہے‘ کتنے برس سے قید ہے اور کیوں قید ہے…وہ صرف یہ جان گیا تھا کہ کبھی کبھی اسکے کانوں میں پانیوں کے شور کی آواز آتی ہے ‘ وہ سمندرکنارے کہیں قید ہے… اس نے ابھی تک اس سمندر کو دیکھا نہ تھابلکہ اسکے کئی افغان ساتھیوں نے تو سرے سے کوئی بھی سمندر نہ دیکھا تھا‘ وہ اسکی آواز سنتے تو خوفزدہ ہو جاتے‘ ان تمام اذیتوں‘ ذلتوں اور مارکٹائیوں کے باوجود محمد آنسی نے ہمت نہ ہاری‘ خوفزدہ ہو کر تنگ آکر اپنے کچھ ساتھیوں کی مانند خودکشی کی کوشش نہ کی‘ پاگل نہ ہوا‘ہر سانس جو آتا تھا اسکے ساتھ زندہ رہنے اور حواس میں رہنے کا پیغام آتا تھا تبھی تو اس نے سمندر کو دیکھے بغیر سمندر کو اپنے خواب وخیال کے مطابق تصور کی مدد سے پینٹ کیا اور سمندر میں ایک راستہ بنایا جو آزادی کی جانب جاتاتھا ‘ امریکیوں کے دوجڑواں ٹاورز گرائے گئے تو انہوں نے اسکے بدلے میں پورے دو ملک ڈھا دیئے..

. عراق اور افغانستان کو مسمار کردیا حالانکہ جڑواں ٹاورز کے ڈھانے والوں میں کوئی ایک بھی افغان یا عراقی نہ تھا‘ بیشتر سعودی باشندے تھے اور چونکہ آل سعود انکی مطیع تھی‘ اس حد تک فرمانبردار تھی کہ جب ایک نیم پاگل امریکی صدر ٹرمپ نے قدم رنجہ فرمایا تو بڑے شاہ صاحب کہولت کے باوجود انہیں لبھانے کی خاطر ناچنے لگے…امریکیوں نے ہر افغان کو دہشتگرد قرار دیا اور جو ہاتھ آیا کوئی گڈریا‘ کوئی کسان ‘کوئی طالب علم سب کو جکڑ کر طیاروں میں بھر کر لے گئے اور عقوبت خانے میں ڈال دیا…بہت سے لوگ یوں شکار ہوئے کہ پانچ سو ڈالر انعام کے لالچ میں خود اپنے معصوم ہم وطنوں کو پکڑ کر امریکیوں کے حوالے کیاگیا اور وہ انکو عقوبت خانے کی قبر میں دفن کرکے بھول گئے…میں امریکی فلموں‘ موسیقی‘ عجائب گھروں اور عقوبت خانوں کا بے حد مداح ہوں . . . انکے عقوبت خانے بھی سپرپاور کی رعونت کے شاہکار ہوتے ہیں‘ عراق کا ابوغریب عقوبت خانہ کون بھول سکتا ہے‘ اسکی سب سے شاہکار تصویر وہ تھی جس میں ایک عراقی کو بجلی کی تاروں سے منسلک کرکے باندھا گیا ہے ‘ایک تصویر میں متعدد عراقیوں کے گلے میں پٹے ڈال کر انہیں جانوروں کی مانند چلنے پر مجبور کیاگیا ہے‘ کتوں کیساتھ بھی یہ سلوک تو کبھی نہ ہوا اور سب سے اعلیٰ شاہکار وہ تصویر تھی جس میں تقریباً برہنہ عراقی قیدیوں کے ڈھیر پر پاؤں رکھ کر مسکراتی ایک امریکی باوردی سپاہی تھی…امریکیوں کا کچھ جواب نہیں‘ سائنسی ایجادات کے علاوہ اذیت دینے اور بے عزت کرنے کے کیسے کیسے انمول اور نادر طریقے ایجاد کرتے ہیں‘۔

گوانتاناموبے بھی انکے ان کمالات کامظہر ہے…بہت سے قیدیوں کو عدالتوں نے بے گناہ قرار دیا لیکن وہ ہمیشہ کیلئے اپاہج اور معذور ہوگئے…کچھ عرصہ پیشتر ایک مسلمان کپتان کو ایک ڈاکٹر کے طورپر گوانتاناموبے میں تعینات کیا گیا وہ امریکی تھا اگرچہ انڈونیشیا کاتھا اس نے جو کچھ وہاں دیکھا جو ظلم اور بربریت دیکھی وہ اسکی تاب نہ لا سکا اور احتجاج کے طورپر امریکی فوج سے کنارہ کش ہوگیا‘ اس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام شاید میرا ملک‘ میرا خدا‘ تھا یعنی میرا ملک امریکہ ہے لیکن میرا خدا بھی تو ہے تو میں کس کے ساتھ وفا کروں‘ کسے رکھوں کسے ترک کر دوں…نیو یارک میں ایک ٹیلی ویژن چینل پر میں نے اس منحرف شدہ امریکی کپتان کا ایک گھنٹے پر مبنی انٹرویو دیکھا اور اس نے یہی کہا کہ میں امریکہ کا وفادار ہوں‘ میرے لئے یہ ایک اعزاز ہے کہ میں امریکی فوج میں کپتان کے عہدے پر فائز تھا لیکن مجھے اپنے اللہ کی بھی تابعداری کرنی ہے…گوانتاناموبے کے قید خانے میں سے ایک شخص منصور ادے فی نام کا بے گناہ قرار دیکر رہا کیا گیا اور وہ ان دنوں اپنی اس قید کے شب و روز کے قصے ایک کتاب میں تحریر کر رہا ہے‘ اس میں سب سے دلچسپ اور دل کو رنج سے دوچار کرنے والا قصہ سمندر کا ہے…منصور کی تحریر میں ایک الف لیلوی طلسم ہے‘ وہ اپنے دکھ کو بھلا کر صرف سمندر کو یاد رکھتا ہے‘ میں یہاں اسکی کتاب کے ایک باب کو مختصر مختصر ترجمہ کر کے پیش کرتا ہوں’’ جب ہمارا طیارہ جانے کہاں اتر گیا تو ہم سب کو پنجروں میں بند کر دیا گیا‘ خوف اور بدن میں اٹھتے درد کے باوجود ہم سرگوشیاں کر رہے تھے‘‘ یہاں آس پاس سمندر ہے‘ بہت کم قیدیوں نے سمندر دیکھ رکھا تھا‘ افغانوں کا خیال تھا کہ بہت سارا پانی ہوتا ہے جو انسانوں کو ہڑپ کر جاتا ہے… افغانوں نے بتایا کہ امریکی تفتیش کاروں نے انہیں دھمکی دی تھی کہ جب ہم یہاں سے فارغ ہو جائینگے تو تم سب کو سمندر میں پھینک دینگے…

اور جونہی ہمیں عقوبت خانے میں ڈالا گیا تو ہم جاننا چاہتے تھے کہ ہم کہاں ہیں تاکہ کعبے کا رخ متعین کرکے نماز ادا کرسکیں اور یہ ناممکن تھا ہم اندازے لگاتے رہے‘ اپنے خوابوں سے رہنمائی حاصل کرتے رہے‘ باقاعدگی سے نماز پڑھتے رہے‘ کئی ماہ کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ ہم کیوبا میں گوانتاناموبے کے قیدخانے میں ہیں ہمیں سمندر سنائی دیتا تھا پر دکھائی نہ دیتا تھا کہ چاروں اورخاردار تاروں کو ترپالوں سے ڈھک دیاگیا تھا تاکہ ہم باہر کا منظر نہ دیکھ سکیں‘ ایک بار میں نے چوری چھپے ایک ترپال بمشکل ہٹا کر دیکھا تو وہاں سمندر تھا‘ اسی لمحے ایک گارڈ نے مجھے دبوچ لیا اور مجھے سمندر دیکھنے کے جرم میں ایک ماہ کی قید تنہائی کی سزا سنائی گئی‘ سمندر کو دیکھنا بہت مہنگا پڑتا تھا… برس ہا برس گزر گئے ہم کبھی کوشش کرکے ایک دوسرے پر کھڑے ہو کر روزنوں میں سے جھانک کر سمندر دیکھتے اور پکڑے جاتے‘ ہمیں سخت سزا دی جاتی اور پھر2014 میں ایک سمندری طوفان نے کیوبا کا رخ کرلیا‘ تیز ہواؤں سے ترپالیں ٹھرٹھرانے لگیں تو امریکیوں نے مجبوراً وہ ترپالیں ہٹا دیں تب ہم نے پہلی بار سمندر دیکھا‘ سزا کے بغیر سمندر کا نظارہ کیا‘ تب بہت سے قیدی اور ان میں ان پڑھ بھی تھے سمندر کی شان میں شاعری کی نظمیں لکھیں‘ جو تصویر بنا سکتے تھے انہوں نے اسکی تصویریں بنائیں اور ہر تصویر میں رنگ الگ تھے لیکن آزادی کی خواہش کے راستے تھے اور یوں گوانتاناموبے کے آرٹ نے جنم لیا…

قیدیوں نے ان نظموں اور تصویروں میں اپنے خواب اور خواہشیں رکھ دیں کیونکہ سمندر قید میں نہ تھا آزاد تھا اور اسے کبھی عقوبت خانے میں نہیں ڈالا جا سکتا تھا…ان میں سے بہت سے ایسے تھے جو ہمہ وقت سمندر کو تکتے رہتے‘ کھانا پینا بھول گئے ‘ پانیوں کی آوازیں سنتے وہ سمندر کے عشق میں مبتلا ہوگئے‘ وہ ایک دوسرے کو پکار پکار کر متوجہ کرتے کہ..دیکھو یہ کتنا بڑا اور آسمان کی طرح نیلا ہے اور آزاد ہے..کبھی ہم بھی اسکی مانند آزاد ہونگے‘ پھر ہمیں دور افق پر ایک جہاز دکھائی دیا جو تیرتا ہماری جانب آتا تھا اور ہم اس فریب میں آگئے کہ یہ ہمیں لینے کے لئے آرہا ہے…ہم اس پر سوار ہو کر اپنے اپنے ملکوں کو چلے جائینگے جہاں ہمارے ماں باپ‘ بیوی بچے ہمارے منتظر ہیں اور کیا وہ ہمیں پہچان جائینگے…ہم بوڑھے ہوچکے ہیں‘ ہماری شکلیں بگاڑ دی گئی ہیں ہم میں سے کچھ اپاہج ہوچکے ہیں‘ کچھ دیوانے ہوگئے ہیں تو کیا وہ ہمیں پہچان جائینگے…اگلے روز سمندری طوفان تھم گیا اور امریکیوں نے پھر سے چاردیواری کو ترپالوں سے ڈھانپ دیا…سمندر اوجھل ہوگیا۔