بریکنگ نیوز
Home / کالم / پی ٹی وی کی سالگرہ

پی ٹی وی کی سالگرہ


پاکستان ٹیلی وژن نے1964 میں آنکھ کھولی ۔ ایک عرصے تک یہ پاکستان کا واحد ٹی وی چینل رہا۔اس وقت پاکستان میں الیکٹرانک معلومات کا ذریعہ صرف ریڈیو پاکستان تھا ۔ ہاں کچھ لوگ بی بی سی کو بھی معلومات کا ذریعہ سمجھتے تھے مگر پاکستان کے حالات اور وقت کی ضرورت کے پیش نظر ریڈیو پاکستان پر ہی زیادہ تر بھروسہ کیا جاتا تھا‘پاکستان ٹیلی وژن کے اجرا نے اسکوعوام میں انٹرٹینمنٹ کیساتھ ساتھ خبروں کا بھی ایک با اعتماد ذریعہ بنا دیا ‘پاکستان ٹیلی وژن کے ابتدا کے ڈرامے اور تفریحی پروگرام اس قدر پسند کئے جاتے تھے کہ جب کوئی ڈرامہ نشر کیا جاتا تو اس کا وقت عام طور پر آٹھ سے نو بجے کا ہوتا تھا‘ اس وقت بازار بند ہو جاتے اور لوگ اپنے اپنے ٹی وی کھول کربیٹھ جاتے اور خاندان سمیت ڈرامہ دیکھتے پی ٹی وی کے ڈرامے حقیقت کے بہت قریب ہوتے تھے‘ ڈرامہ نویس ملک کے مانے ہوئے ادیب ہوتے تھے‘ڈرامے کو حقیقی زندگی کے بہت قریب رکھا جاتا تھا اور یہ بھی خیال کیا جاتا تھا کہ پی ٹی وی ایک اسلامی مملکت کا ٹی وی سٹیشن ہے اس لئے اسلامی اقدا ر کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔کسی قسم کی فحش حرکت سے اجتناب کیا جاتا تھا اور زبان کا بھی بہت خیال کیاجاتا تھا۔ ٹی وی سٹیشن عموماً تین بجے کھلتا اور دس بجے یا زیادہ سے زیادہ گیارہ بجے بند ہو جاتا ۔ شروع میں بچوں کے پروگرام ہوتے جس میں بچوں کواردو اور قرآن حکیم کا سبق دیا جاتا ٹیلی وژن کا پروگرام ’ نیا دن ‘ ایک ایسا پروگرام تھا کہ جس سے بچے اردو ابجد پڑھنا اور لکھنا سیکھتے تھے۔ بہت سے بچوں نے پری پریپ اسی پروگرام سے سیکھا۔

اسی طرح درس قرآن میں ابتدائی قاعدہ سے لے کر مکمل قرآن کریم کا درس بچوں نے اس پروگرام سے گھر بیٹھے سیکھا۔بچے یہ دونوں پروگرام نہایت دلچسپی سے دیکھتے تھے‘ اسی طرح پاکستان ٹیلی وژن کے مزاحیہ پروگرام بھی بہت دلچسپی سے دیکھے جاتے تھے‘سب سے بڑی خوبی جو پاکستان ٹیلی وژن کے پروگراموں میں تھی وہ خوبصور ت اردو تلفظ تھا ‘اردو بولنے میں بہت احتیاط برتی جاتی اور کسی طرح کا بھی غلط تلفظ نشر نہیں کیاجاتا تھا‘اسی طرح ریڈیو پاکستان بھی صاف اردو سیکھنے کا ذریعہ تھا‘ریڈیو پاکستان سے نہایت شستہ اردو بولی جاتی تھی اور پہ ٹی وی میں بھی زبان کا خا ص خیال رکھاجاتا تھا ۔ علاقائی زبانوں کو بھی پی ٹی وی اچھا خاصا وقت دیتا تھا‘جب تک پی ٹی وی کی نشریات سارے صوبوں کے دارالخلافوں سے نشر ہونا شروع نہیں ہوئی تھیں مرکز سے اسکے سارے صوبوں کی زبانوں کو وقت دیا جاتا تھا‘جب مختلف سٹیشنوں سے اس کا اجرا ہوا توہر سٹیشن سے اس صوبے کی زبانوں سے بھی پروگرام نشر ہونے لگے۔ پی ٹی وی کا یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ اسکے ہاں سے کوئی بھی ایسا پروگرام نشر نہیں ہوا کہ جسے ساری فیملی یکجا بیٹھ کر نہ دیکھ سکتی ہو۔ پی ٹی وی کے کسی ڈرامے کسی بھی اشتہار کوئی ایک بھی ایسا لفظ یا ایسی حرکت ڈھونڈکے بھی نہیں ملتی تھی جس سے فحاشی یا عریانی کا شائبہ تک ہوتا تھا یہ امتیاز اب بھی پاکستان ٹیلی وژن کو حاصل ہے 21ویں صدی کے اس ماڈرن دور میں بھی پی ٹی وی کے پروگرام اہل خانہ کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے جا سکتے ہیں بقایا پرائیویٹ چینلز کے بارے میں کچھ نہ ہی کہیں تو بہتر ہیپی ٹی وی ہر دور میں پاکستانیت کا سمبل رہا ہے۔

‘آج بھی دیگر ٹی وی چینلوں کے مقابلے میں پاکستانیت کے پروگراموں کا خیال رکھا جاتا ہے اور کسی بھی طرح کی فحش حرکت اس چینل سے آن ائر نہیں ہوتی۔پاکستان ٹیلی وژن کا یہ خاصارہا ہے کہ اس سے نشر ہونیوالے ڈراموں کی ہر قسط کیلئے اچھی خاصی ریہرسل کی جاتی ہے ‘جس میں ادائیگی اور تلفظ کا بہت خیال رکھا جاتاہے‘ ا ب کچھ عرصے سے کہ جب سے پرائیویٹ چینلز کی دیکھا دیکھی ریہر سل پر اتنا زور نہیں دیا جا رہا مگر پھر بھی اس چینل کے پروگراموں میں شرافت کا خاص خیال رکھا جاتاہے‘ اب بھی ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی پاکستانیت کے سمبل ہیں۔ خبروں میں بھی بہت احتیاط برتی جاتی ہے کہ کسی بھی طرح ایسا پروگرام آن ائر نہ ہو کہ جس سے نسل نو میں کسی طرح کی فحاشی یا بے چینی کاامکان پیدا ہوتا ہو۔اب چونکہ پرائیویٹ ٹی وی چینلوں میں زیادہ بحث مباحثے کا اہتمام ہوتا ہے اسکی دیکھا دیکھی پی ٹی وی سے بھی ایسے پروگرام نشر کئے جا رہے ہیں مگر ان میں اور پرائیویٹ چینلوں میں فرق ہے کہ اس میں خیال رکھا جاتا ہے کہ بات صحیح طرح سے عوام تک پہنچ بھی جائے اور اس میں تجسس اور گنوار پن نہ ہو اور معلومات سادہ طریقے سے عوام کو پہنچ پائیں۔