بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / سیاسی تعمیر

سیاسی تعمیر


صورتحال کے کئی رخ اور کئی بنیادی سوالات ہنوز جواب طلب ہیں جیسا کہ آخر ’ختم نبوت‘ سے متعلق ایک انتخابی قانون میں تبدیلی کیوں کی گئی؟ قانون ساز ایوانوں سے منظوری کے بعد جب اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں‘ سینیٹرز‘ علمائے کرام اور ذرائع ابلاغ نے سنگین غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے توجہ دلائی تو وفاقی حکومت کی جانب سے اعتراف کرنے کی بجائے حقیقت کا مسلسل انکار کیا گیا اور پھر ڈرامائی طور پر مذکورہ آئینی تبدیلی واپس تو لے لی گئی لیکن مطالبے کے دوسرے حصے یعنی قوم سے معافی اور ذمہ داروں کو سزا دینے جیسے منطقی مطالبے کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دی گئی؟ قانون میں تبدیلی کے معاملے پر مذہبی حلقوں کی جانب سے اِحتجاج زور پکڑنے لگا تونوازشریف نے جماعتی بنیادوں پر تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے صبروتحمل کے مظاہرے کا مطالبہ کیا لیکن پھر کمیٹی کی سفارشات منظرعام پر نہیں لائی گئیں‘ جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اگر ختم نبوت سے متعلق آئین سے چھیڑ چھاڑ ’مسلم لیگ (نواز)‘ کی جماعتی حکمت عملی نہیں تھی تو پھر کسی ذمہ دار کی نشاندہی کیوں نہیں کی جا سکی؟کیا آئین میں لکھے ہوئے الفاظ خودبخود تبدیل ہو گئے تھے؟ختم نبوت سے متعلق انتخابی امیدوار کے حلف نامے میں تبدیلی کی کوشش اور اِس غلطی کی درستگی کے درپردہ مقاصد‘ کرداروں کو بے نقاب کرنے کا رسمی مطالبہ و مذمت یوں تو ہر سیاسی و مذہبی جماعت اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کی جانب سے درج کروائی گئی بلکہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے بھی ختم نبوت سے متعلق حلف نامے میں تبدیلی کی کوشش کو غیرضروری قرار دیا لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ پاکستان کی سب سے غیرمعروف اور نوزائیدہ مذہبی تحریک ’لبیک یارسول اللہ‘ سے الگ ہوئے ایک دھڑے نے چھ نومبر کولاہور سے اسلام آباد‘ کے لئے جو مارچ شروع کیا وہ پورے ملک کی آواز بن جائے گا۔

ذرائع ابلاغ عمومی غلطی یہ کر رہے ہیں کہ وہ جڑواں شہروں کے سنگم ’فیض آباد‘ پر جاری احتجاجی دھرنے کو ’لبیک یا رسول اللہ‘ نامی جماعت سے منسوب کرنے لگے ہیں‘ جسکے نامزد اُمیدوار (شیخ اظہر حسین رضوی) نے سترہ ستمبر دوہزار سترہ کے روز ہوئے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120کے ضمنی انتخاب میں بطور آزاد اُمیدوار‘ حصہ لیا تھا اور 7 ہزار 130 ووٹ لیکر مدمقابل 42 امیدواروں میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی انتخاب میں پہلی مرتبہ حصہ لینے والی کسی غیرمعروف جماعت کو تیسری پوزیشن ملنا‘ کسی بھی طور پر معمولی بات نہیں تھی جبکہ اس نے پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی پاکستان جیسی منظم و معروف جماعتوں کے نامزد امیدواروں کو چاروں شانے چت کر دیا ہو! ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کے خلاف ’لبیک یارسول اللہ‘ نے احتجاج کا اعلان کیا اور لاہور میں چھ روز تک احتجاج کرتے رہے مگر خاطرخواہ عوامی توجہ حاصل نہ کر سکے اور یہی وجہ تھی کہ قیادت نے اسلام آباد مارچ کا فیصلہ ملتوی کردیا لیکن ایک دھڑا جس کی قیادت ’مولانا خادم حسین رضوی‘ کر رہے تھے اس نے اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا اور 6 مطالبات بھی پیش کئے۔

توہین رسالت کرنے والوں کے خلاف آئین کی شق 295/C کے تحت مقدمات درج کرنے کو بحال کیا جائے۔توہین رسالت کے مرتکب زیرحراست مجرموں کو حسب قانون پھانسی کی سزائیں دی جائیں۔ ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی کرنیوالوں کیخلاف قانونی کاروائی کی جائے‘ مساجد و مذہبی اجتماعات کے لئے لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر عائد پابندی ختم کی جائے۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف عائد مقدمات ختم کئے جائیں اور اسلامی تعلیمات پر مبنی جن مضامین کو تعلیمی نصاب سے خارج کیا گیا ہے انہیں پھر سے بحال کیا جائے۔ چھ نومبرسے تحریک لبیک یارسول اللہ یا لبیک پاکستان کے نام سے شروع ہونے والی تحریک کے قائدین جب تین روز میں براستہ جی ٹی روڈ‘ راولپنڈی پہنچے تو رات گئے اس ریلی میں صرف تین سے پانچ سو افراد شامل تھے‘ جنہیں ضلعی انتظامیہ نے فیض آباد‘ کے وسیع و عریض چوک پر احتجاج کی اجازت دی اور یہ تاثر دیا کہ سرد موسم کی سختیوں اور ذرائع ابلاغ کی توجہ نہ ملنے کی وجہ سے یہ چند سو لوگ ازخود منتشر ہو جائیں گے لیکن سارے اندازے‘ خفیہ اداروں کی رپورٹیں اور وزراء کے مشورے غلط ثابت ہوئے۔

یہ نظریہ بھی باطل ثابت ہوا کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے کہنے پر ذرائع ابلاغ کسی عوامی احتجاج کا بائیکاٹ کریں گے تو وہ غیراہم اور ازخود تحلیل ہو جائے گا۔ تین ہفتے سے جاری احتجاج سے پیدا ہونیوالی صورتحال اور عوامی مشکلات و شکایات کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے حکم دیا کہ حکومت دھرنے کے شرکاء کو سامان رسد کی فراہمی بند کر دے لیکن جب کھانا پانی بند کرنے کے باوجود بھی وہ مرعوب نہیں ہوئے تو 25 نومبر کی صبح قریب سات بجے آنسوگیس‘ تیزدھار پانی کے چھڑکاؤ اور لاٹھی بردار پولیس و ایف سی اہلکاروں کے ذریعے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی گئی جو پہلے ہی ذہنی طور پر تیار تھے اور انہوں نے اینٹوں اور پتھروں کا اچھا خاصا ذخیرہ کر رکھا تھا۔ فیض آباد دھرنے کی سیاسی تعبیر کیا ہوگی جبکہ حکومت نے فوج طلب کر لی ہے اور ملک گیر احتجاج کے جاری سلسلے میں وقت گزرنے کے ساتھ تیزی آ رہی ہے۔