بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / ایک اورحملہ

ایک اورحملہ


ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس اشرف نور کی پشاور کے علاقے حیات آباد میں ایک خود کش حملے میں شہادت کئی عوامل کی جانب توجہ مبذول کرا رہی ہے واقعہ یہ ہے کہ ایک موٹر سائیکل سوار خود کش حملہ آور حیات آبادکے فیز ٹو کی حدود میں ایک اعلیٰ پولیس آفیسر کو ٹارگٹ کرنے میں کامیاب رہا۔ جائے وقوعہ سے تھوڑے ہی فاصلے پر باغ ناران کے قریب رواں سال جولائی میں بھی ایک دہشت گردحملہ ہوا تھا اس حملے میں بھی ایک موٹر سائیکل سوار خود کش حملہ آور ہی نے فرنٹیئر کورکی گاڑی کو نشانہ بنایا تھاجس کے نتیجے میں میجرجمال اپنے گن مین ظاہر شاہ سمیت شہید ہو گئے تھے ۔ اس سے قبل بھی حیات آباد میں خود کش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں‘۔آپریشن ضرب عضب کے تناظر میں پولیس‘انٹیلی جنس ایجنسیاں اور سکیورٹی فورسز کافی مستعد ہیں اور دہشت گردوں کیلئے شہر کے اندرونی علاقوں تک پہنچنا مشکل ہے اس لئے دہشت گردوں کی جانب سے پشاور کے فاٹا سے متصل ان علاقوں میں کاروائیوں کا امکان زیادہ ہے جہاں تک رسائی انکے لئے آسان ہے۔ اگر صوبائی دارالحکومت کی قبائلی علاقوں سے متصل آبادیوں پر نظر ڈالی جائے تو ایک حیات آباد ہی وہ بستی ہے جسے ہر لحاظ سے پوش علاقہ قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ دیگر آبادیاں پسماندہ علاقوں کی فہرست میں آتی ہیں۔حیات آباد میں با قاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعمیرہونے والی سرکاری و نجی تعمیرات ‘بڑی تعداد میں سرکاری دفاتر بشمول حساس اداروں کے دفاترکی مو جودگی ‘ یہاں دستیاب شہری سہولتیں اور سب سے بڑھ کر اس بستی میں اعلیٰ سرکاری و غیر سرکاری شخصیتوں کی رہائش اس لحاظ سے دہشت گردوں کو حیات آباد کی طرف متوجہ کرنے کا باعث ہیں کہ یہاں انھیں متعدد ’ہائی ویلیو ٹارگٹس‘ دستیاب ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ حیات آباد میں سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے تواتر سے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

حال ہی میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے نجی سکیورٹی ایجنسی کی مدد سے’ محفوظ حیات آباد ‘پروگرام شروع کیا ہے جسکے تحت مذکورہ سکیورٹی ایجنسی کے اہلکار خصوصی موبائل گاڑیوں میں حیات آباد کے مختلف حصوں میں پٹرولنگ کرتے نظر آتے ہیں ۔ ایف سی کے جوان بھی مختلف اہم مقامات پر سکیورٹی کے فرائض انجام دیتے ملتے ہیں جبکہ پولیس موبائل گاڑیاں بھی علاقے میں موجود ہوتی ہیں۔ اس کیساتھ ساتھ سکیورٹی انتظامات کے تحت ہی حال ہی میں حیات آباد کی مشرقی حد پر دوکلو میٹر سے زائد طویل باؤنڈری وال بھی تعمیر کی گئی ہے اور بعض دیگر اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے پچھلے چار ماہ کے دوران دو خود کش حملہ آور موٹر سائیکلوں پرنہ صرف حیات آباد کے مرکزی مقامات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے بلکہ انھوں نے اپنے اہداف کو نشانہ بھی بنایا ۔یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ خود کش حملہ آوروں کا ہائی ویلیو ٹارگٹس تک پہنچناآسان نہیں ہوتا ‘دہشت گرد کاروائی سے قبل ٹارگٹ کی روز مرہ نقل وحرکت اور معمولات پر نظر رکھی جاتی ہے ‘حملہ آور کو علاقے کے محل وقوع سے اچھی طرح روشناس کرایا جاتا ہے اور پھر اسے بارودی مواد سے لیس کر کے جائے وقوعہ تک اس کی رسائی ممکن بنائی جاتی ہے ۔ یہ تمام امور کئی سہولت کاروں کی مربوط کوششوں کے بغیر نہیں نمٹائے جا سکتے۔ اس تناظر میں موٹر سائیکل سوار خودکش حملہ آوروں کا حیات آبادمیں کاروائیاں کرنا سکیورٹی اور انٹیلی جنس کمزوریوں و کو تاہیوں کی جانب اشارہ کر رہا ہے‘

حیات آباد میں پیش آنیوالے دہشت گردی کے واقعات کا تانا بانا عموماًخیبر ایجنسی سے جوڑا جاتا ہے لہٰذا خیبر ایجنسی سے حیات آباد کے مختلف علاقوں میں ہونے والی آمد ورفت اور اس مقصد کیلئے استعمال میں ہونے والے داخلی و خارجی مقامات کی نگرانی کی صورتحال مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے ‘اسی طرح رنگ روڈ اور دیگر اطراف سے بھی حیات آباد کے داخلی راستے کی نگرانی مزید سخت کرنا اور ساتھ ہی ساتھ دہشت گردوں کیلئے ہونے والی سہولت کاری کے قلع قمع کی غرض سے موثرحکمت عملی کے تحت پیش قدمی بھی ضروری ہے‘ ایسی حکمت عملی جس میں حیات آباد میں رہائش پذیرافرادکی سرگرمیوں اور رہائش گاہوں پر نگاہ رکھنا اور اس مقصد کیلئے یہاں کے باشندوں کا سکیورٹی فورسز سے تعاون حاصل کرنا ممکن ہو۔ نہ صرف حیات آباد بلکہ پورے ملک میں اب وقت آگیا ہے کہ ایسی حکمت عملی وضع کی جائے کہ دہشت گردی کا تدارک ہمیشہ کیلئے ہو جائے یہ جنگ ہمیں پہلے ہی کافی نقصان پہنچا چکی ہے۔