بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ہر ضلع میں یونیورسٹی کا قیام صوبائی حکومت کی ترجیحات

ہر ضلع میں یونیورسٹی کا قیام صوبائی حکومت کی ترجیحات


پشاور۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پورے صوبے میں ہر ڈویژن کی سطح پر یونیورسٹیوں کے قیام کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ہر ضلع میں کم از کم ایک یونیورسٹی کا قیام ہماری صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اسی طرح یونیورسٹیوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ عمارات اور سہولیات کا معیار بہتر بنانا بھی ہمارے منشور میں سرفہرست ہے جس کیلئے متعلقہ حکام اور ماہرین تعلیم کو ہر سطح پر مشترکہ اور مربوط کوششیں کرنا ہوں گی وہ وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں بونیر یونیورسٹی کے قیام اور فعالیت سے متعلق اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں صوبائی وزیر اوقاف حاجی حبیب الرحمٰن، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق غنی ، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم سید ظاہر علی شاہ،سیکرٹری خزانہ شکیل قادر، چیف پلاننگ آفیسر محمد زمان خان مروت، عبدالولی خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور بونیر یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد خورشید خان، وزیر اعلیٰ کے سپیشل سیکرٹری اختر سعید ترک اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ بونیر میں یونیورسٹی ابتدائی مراحل میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے علاقائی کیمپس کے طور پر قائم کی گئی تھی جسے اب مکمل طور پر الگ یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا ہے جس میں اب ایک ہزار تک طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں ۔اجلاس میں بونیر یونیورسٹی کیلئے مختص کردہ تقریباً چھ کروڑ روپے کی فراہمی ،نو تعمیر شدہ اکیڈمک بلاک میں ناقص میٹریل کے استعمال سے متعلق شکایات کا جائزہ لینے ، مزید اراضی کے حصول اور یونیورسٹی کیلئے بسوں اور دیگر ترقیاتی سکیموں کی غرض سے گرانٹ ان ایڈ سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ضروری فیصلے کئے گئے۔صوبائی وزیر اوقاف حبیب الرحمٰن نے یونیورسٹی کی فوری ترقیاتی ضروریات کیلئے 20کروڑ روپے کی فراہمی پر وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا تاہم بتایا کہ ضابطے کی کاروائیاں طول پکڑنے کی وجہ سے یہ فنڈ تا حال استعمال نہیں کیا جا سکا۔پرویز خٹک نے حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ یونیورسٹی میں تعلیم اور تعمیرات دونوں کا معیار بہتر بنانے کیلئے پوری تندہی سے کام کریں۔

انہوں نے اکیڈمک بلاک کی ناقص تعمیر اور دیگر شکایات کیلئے ایک کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی جو ذمہ داران کے تعین کے علاوہ شکایات کے ازالے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرے گی اور اسکی رپورٹ ایک ہفتے کے اندر انہیں بھی پیش کرے گی۔انہوں نے یونیورسٹی کیلئے بسوں اور دیگر مشینری کی خریداری کیلئے یونیورسٹی کے وسائل کے مطابق پی سی ون تیار کرنے اور اسکی متعلقہ حکام سے فوری منظوری کی ہدایت بھی کی۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کا مقصد ان دونوں شعبوں کی اہمیت واضح کرنا اور انکی بہتری کیلئے دن رات کام کرنا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے میں معیار تعلیم پر کسی بھی صورت اور کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کوتاہی کے مرتکب حکام کی سخت ترین سرزنش سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔