بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / دوسری بہارِعرب

دوسری بہارِعرب


کرپشن کی زد میں آئے ہوئے ممالک پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سب مغرب والوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتے انکا بس چلے توپلک جھپکتے میں انکے حصے بخرے کر دیں بد عنوانی اور بد دیانتی کے نام پر چلائی جانے والی اس عالمی مہم میں جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے ان میں کئی باتیں حیران کن حد تک مشترک ہیں اس فہرست میں چند ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے جنگ دہشت گردی میں بڑی مشکل سے اپنا دفاع کیا انہیں بھرپور طاقت کے استعمال سے عراق‘ شام‘ لیبیا اور افغانستان کی طرح مکمل طور پر تباہ کرنیکی کوشش کی گئی مگر ان کشتہ ہائے ستم ریاستوں نے گرتے پڑتے کسی نہ کسی طرح اپنا دفاع کر لیاانکی اس کامیابی نے دشمنوں کو مزید بر افروختہ کر دیا ہے اب سفارتکاری کو بالائے طاق رکھ کر کھلم کھلا دھمکیاں دی جا رہی ہیں امریکی حکومت کے آئے روز پاکستان کے خلاف بیانات اس نئی حکمت عملی کا ثبوت ہیں مغربی ذرائع ابلاغ چین اور روس میں کرپشن کی خبریں تواتر کے ساتھ شائع کرتے ہیں اس میڈیا مہم کا ایک مقصد بڑی کمپنیوں کو ان ملکوں میں سرمایہ کاری کرنے سے روکنا ہے ان دونوں ممالک کے ریاستی اداروں میں اگر مغربی ایجنٹوں کی بھرمار ہوتی تو انکی حکومتیں بھی آئے روز تبدیل ہوتی رہتیں مگر یہ اپنے دشمنوں کو پہچانتے ہیں اوراپنا دفاع کرنا جانتے ہیں۔

ایران کرپشن کی ہٹ لسٹ میں اسلئے شامل نہیں کہ وہ اپنے وسائل کی وجہ سے مغربی ممالک کے رحم و کرم پر نہیں سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جو گذشتہ اڑتیس برس تک اپنا موثر دفاع کرنے کے بعد اب طویل جنگوں میں الجھ کر کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے ماہ رواں کے پہلے ہفتے میں ریاض ایئر پورٹ پر یمن کا میزائل حملہ ایک خطرناک پیش رفت ہے ‘ عراق شام اور لبنان میں‘ ایران روس کی مدد سے قدم جما چکا ہے اسی مہینے لبنان کے وزیر اعظم سعدالحریری کا سعودی عرب پہنچ کر پہلے استعفیٰ دینا اور پھر چند دنوں بعد اچانک واپس بیروت جاکر اقتدار سنبھال لینا انکے سعودی میزبانوں کیلئے خاصی سبکی کا باعث بنا ہے ریاض میں گیارہ شہزادوں اور دو سو کے لگ بھگ ممتاز کاروباری شخصیتوں کی حالیہ گرفتاری ایک ہمہ گیر بحران کا پتہ دے رہی ہے اسلامی دنیا کا دینی مرکز ارض حرمین شریفین اڑتیس برس بعدبلا خیز تبدیلیوں کی زد میں ہے پاکستان اور سعودی عرب دونوں اڑتیس برس پہلے ہوشربا تبدیلیوں کا شکار ہوئے تھے سوویت یونین کو افغانستان میں شکست دینے کیلئے ان دونوں ممالک نے دل کھول کر امریکہ کا ساتھ دیا تھا ریاض کے حکمرانوں نے اسوقت خزانوں کے منہ کھول دینے کے علاوہ اسلامی ممالک کے انتہا پسند نوجوانوں کو افغان جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا تھا اس بھیانک مہم جوئی کی کوکھ سے نو گیارہ نے جنم لیا تھاسولہ برس قبل نیویارک اور واشنگٹن پر ہونے والے فضائی حملوں نے امریکہ اور مسلم دنیا کے تعلقات کو ہمیشہ کیلئے تبدیل کر دیا تھا واشنگٹن کے حکمت کاروں نے پہلے اپنی برپا کی ہوئی جنگ دہشت گردی میں پاکستان اور سعودی عرب کو بری طرح استعمال کیا پھر مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہونے پر ان دونوں کو نشانے کی زد پر لے لیا۔ّ آج امریکہ ایک طرف پاکستان کو افغانستان میں اپنی شکست کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔

تو دوسری طرف وہ سعودی عرب کو شام میں اپنی ناکامی کی وجہ سمجھتا ہے عراق جنگ میں اربوں ڈالر لگا دینے کے باوجود وہ بغداد میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو ختم نہیں کر سکامشہور انگریزی محاورہ ہے If you can’t fight them join them اگر تم انکا مقابلہ نہیں کر سکتے تو ان میں شامل ہو جاؤ اس پر عمل کرتے ہوئے صدر اوباما نے سعودی عرب کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا تھا چاہئے تو یہ تھا کہ ریاض کے حکمران امریکہ سے فاصلے بڑھا لیتے مگر ایران کے ساتھ بر سر پیکار ہونے کی وجہ سے وہ ایسا نہ کر سکے بیس مئی کو جب ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کا دورہ کیا تو انکے استقبال کیلئے سرخ قالین بچھایا گیا اور امریکی اسلحے کی خریداری کیلئے شاہ سلیمان نے دس ارب ڈالر کا چیک بھی پیش کیا مگر ڈو مور کی تکرار میں ابھی تک کمی نہیں آئی اب شہزادہ محمد بن سلیمان نے ایک نامور امریکی صحافی کو چار گھنٹے کے طویل انٹرویو میں یقین دلایا ہے کہ انکا ملک کرپٹ شہزادوں اور دولت مندلوگوں کے خلاف ٹاپ ڈاؤن کاروائی کرنے کے بعد اگلے مرحلے میں مذہبی اصلاحات نافذ کریگا ان اقدامات کے بارے میں ایک محتاط تبصرہ اس شعر کی صورت میں کیا جا سکتا ہے
مری داستان غم کی کوئی قیدو حد نہیں ہے
ترے سنگ آستاں سے ترے سنگ آستاں تک

ٹام فریڈمین نے چوبیس نومبر کے کالم میں لکھا ہے کہ M.B.S (محمد بن سلیمان) سعودی اسلام کو اسکی اڑتیس برس قبل کھوئی ہوئی جدید شناخت واپس دلانا چاہتا ہےHe wants to bring Saudi Islam back to its more open and modern orientation–whence it diverted in 1979 ‘‘ ٹام فریڈمین نے اسے حسن اتفاق قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 1979ہی وہ سال تھا جب اس نے ایک رپورٹر کی حیثیت سے بیروت میں اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز کیا تھا اسکے بعد اس نے دس برس تک لبنان میں رہ کررپورٹنگ کی تھی اس نے لکھا ہے کہ اڑتیس برس پہلے کے تین واقعات آج تک مشرق وسطیٰ کی سیاست پر چھائے ہوئے ہیں ان میں سے ایک خانہ کعبہ پر انتہا پسندوں کا قبضہ تھا ‘دوسرا ایران کا اسلامی انقلاب تھا اور تیسراسوویت یونین کا افغانستان پر حملہ تھا فریڈمین کی رائے میں ان تین بڑے واقعات نے سعودی عرب کو اپنے اندرونی دشمنوں کے خلاف دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیاتھااسکے نتیجے میں ریاض کے حکمران ملک کے اندر اور باہر سخت ترین اسلامی قوانین نافذ کرنے پر مجبور ہوئے‘۔

ریاض میں منگل کے روز Future Investment Initiative Conference سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ سلیمان نے کہا کہ وہ اپنے ملک کو دوسرے ترقی یافتہ ممالک کا ہم پلہ بنانے کیلئے تمام انتہا پسند نظریات کو ختم کرنے کیلئے تیار ہیںMBSنے کہا کہ” In all honesty we will not spend thirty years of our lives dealing
with extremist ideoligies. We will destroy them today and immediately.” سعودی شہزادے نے کہا کہ انکا ملک1979ء سے پہلے ایسا ہر گز نہ تھا وہ صرف اڑتیس برس پہلے کے سعودی عرب کو واپس لانا چاہتے ہیں انکا کہنا ہے کہ اب ایک مرتبہ پھر انکے ملک میں خواتین پہلے کی طرح آزاد اور بے خوف زندگی گذار سکیں گی ہم شہزادے کی کامیابی کیلئے دعا گو ہیں مگر اس تبصرے سے گریز ممکن نہیں کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں‘ دیکھنا انہیں غور سے… جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے…ٹام فریڈمین نے شہزادہ سلیمان کے انٹرویو کو Saudi Arabia’s Arab Spring, At Last کا عنوان دیا ہے اگر یہ واقعی Arab Spring ہے تو اسے دوسری بہار عرب کہا جا سکتا ہے پہلی کا انجام ہمارے سامنے ہے یہ دوسرا تجربہ کامیاب ہوتا ہے یا ناکام MBS ہر دو صورتوں میں اپنے امریکی مہربانوں سے یہ کہہ سکتے ہیں۔
یہ اور بات کہ خود کو تباہ کیا
مگر یہ دیکھ تیرے ساتھ تو نباہ کیا