بریکنگ نیوز
Home / کالم / امن عامہ اورادارے

امن عامہ اورادارے


احسن اقبال کو24 نومبر2017ء کے دن یہ بھڑک مارنے کی بھلا کیا ضرورت تھی کہ اگر ہم چاہیں تو فیض آباد ‘ اسلام آباد میں دھرنے والوں کو بزور شمشیر تین گھنٹوں کے اندر اندر بھگا دیں یہ بیان توجلتی آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ثابت ہوا مشتعل ہجوم سے نمٹنے کا یہ طریقہ نہیں ہوتا حکومتوں سے اکثر اس قسم کی حماقتیں ہوا کرتی ہیں جو بعد میں ان کے گلے پڑ جاتی ہیں ختم نبوت کے قانون کے بارے میں موجودہ حکومت نے فاش غلطی کی بلاوجہ اس ترمیم کی کیا ضرورت تھی کہ جس نے پورے ملک میں آگ لگا دی ‘ آبیل مجھے مار ‘ اگر یہ صرف وزیر قانون کی غلطی نہ تھی اور پورے 16 یا34 ارکان پارلیمنٹ کی مشترکہ لغزش تھی تو کیا ان سب کو کھلے عام اپنی غلطی کا اعتراف کرکے اور قوم سے معافی مانگ کر از خود اپنی اپنی نشستوں پر سے استعفے دیکر ایک طرف نہیں ہو جانا چاہئے تھا ؟ لیکن کون چھوڑتا ہے اتنی آسانی سے اپنی کرسی اس ملک میں اور وہ بھی کہ جب اس کرسی کیساتھ کئی مالی مراعات جڑی ہوئی ہوں؟ اس مسئلے پر جن لوگوں نے وفاقی دارالحکومت کی ٹریفک کو یرغمال رکھا وہ بھی خلقت خدا کیلئے ازحد تکلیف کا باعث بنے کیا احتجاج کرنیوالے اس سے بہتر کوئی اور طریقہ اپنا نہ سکتے تھے کہ جس سے ایوان اقتدار میں ان کی آواز موثر انداز میں پہنچ جاتی اور لوگوں کے معمولات زندگی بھی بری طرح متاثر نہ ہوتے ؟

یہ بات تو طے ہے کہ اگر کسی مرض کا بروقت اور ابتدا میں علاج نہ کیا جائے تووہ بڑھتا رہتا ہے پھروہ سرطان کی شکل بھی اختیارکر سکتا ہے امن عامہ کے نفاذکے ذمہ دار ریاستی اداروں کیلئے کسی بھی چھوٹے گروہ یا جھتے کیساتھ نمٹنا آسان ہوتا ہے لیکن اگر چھوٹے چھوٹے گروپ ایک ہجوم کی شکل اختیار کر جائیں تو پھر ان کو سنبھالنا یا منتشر کرنا جان جوکھوں کاکام ہوتا ہے یہ جو اسلام آباد میں ایک جم غفیر فیض آباد کے قریب جمع ہواآسمان سے اچانک تو نہیں اترا تھا؟ مختلف علاقوں سے ‘ شہروں سے کوئی بس تو کوئی کار تو کوئی ویگن تو کوئی پیدل وفاقی دارالحکومت میں داخل ہوا ہو گا ان کو راستے میں ہی کیوں نہ روکا گیا؟ کیوں ان کو کھلی چھٹی دی گئی کہ وہ اسلام آباد میں جمع ہو جائیں ؟ ہم نے مخبری پر کئی ادارے لگا رکھے ہیں کسی کو ہم سی آئی ڈی تو کسی کو آئی بی کے نام سے پکارتے ہیں اور کسی کو کسی اور نام سے‘ انکی تنخواہوں اور دیگر فنڈز پر حکومت ہر ماہ کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے کیا انہوں نے حکومت کو بروقت اطلاع دی تھی کہ اس قسم کا کوئی اجتماع اسلام آباد میں ہونیوالا ہے؟

اگر دی تھی تو پھر حکومت نے یقیناًاس معاملے میں تساہل سے کام لیا اور وہ اس صورتحال کی ذمہ دار ہے ہم نے دیکھا کہ دھرنے کے شرکاء کو منتشر کرنے میں مقامی پولیس اور انتظامیہ کا کردار بڑا مایوس کن تھا پولیس میں تو اب عرصہ دراز سے بھرتیاں خصوصا نچلے کیڈر میں سیاستدانوں کی سفارشی چٹ پر ہو رہی ہیں نہ کہ میرٹ پر لہٰذا اس میں جو پروفیشنل ازم یعنی پیشہ ورانہ مہارت اور خصوصیات جو کسی زمانے میں ہوا کرتی تھیں اب ناپید ہیں اس طرح جب سے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں کی تعیناتی سیاسی مصلحتوں پر کی جا رہی ہے تب سے ضلع کے بااثر طبقے اب ان کو توقیر کی نظر سے نہیں دیکھتے ایک دور تھا کہ جب اس قسم کے افسران کو اس منصب پر لگایا جاتا کہ جو غیر سیاسی ہوتے وہ خالصتاً سویلین ایڈمنسٹریٹر ہوتے اور ان پر کسی بھی سیاسی پارٹی کی چھاپ بالکل نہ ہوتی۔