بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / فیض آباد دھرنا

فیض آباد دھرنا


وفاقی وزیر قانون زاہد حامد مستعفی ہوگئے ہیں خبررساں ایجنسی کے مطابق حکومت کے ساتھ معاہدہ طے پاجانے پر فیض آباد میں جاری دھرنا ختم کر دیاگیا ہے۔ ختم نبوت کے قانون کی شق میں تبدیلی کے حوالے سے راجہ ظفر الحق کمیٹی کی انکوائری رپورٹ30 روز میں منظرعام پر لائی جا رہی ہے اس کے ساتھ ہی دھرنے میں موجود شرکاء کے خلاف حکومتی آپریشن کی انکوائری کیلئے بورڈ تشکیل دیا جائیگا جو تیس روز کے اندراپنی رپورٹ مکمل کرے گا۔ تحریک لبیک کے دھرنے کے آغاز سے لیکر اختتام تک ہونے والے املاک کے نقصان کا تعین کرکے اس کا ازالہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کریں گی۔ دریں اثناء اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے حکومت اور دھرنا قائدین کے درمیان معاہدے پر برہمی کا اظہار بھی کیاگیا ہے‘ عدالت نے دھرنا ختم کرانے کیلئے فیض آباد آپریشن کی ناکامی سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی ہے‘حکومت اور دھرنا مظاہرین کے درمیان معاہدے کی کاپی بھی عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیاگیا ہے‘

اس سے قبل پاک فوج نے فیض آباد دھرنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال سے انکار کر دیا‘ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کر دیا کہ قوم فوج سے پیار کرتی ہے اور اپنے لوگوں کیخلاف طاقت استعمال نہیں کی جا سکتی‘ اتوار کے روز عسکری اور سیاسی قیادت کا اجلاس ہوا‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جبکہ شہباز شریف اور چوہدری نثار بھی آرمی چیف سے ملے‘ وزیرداخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ فیض آباد آپریشن انکی نگرانی میں نہیں ہوا ذاتی طورپر انتہائی قدم نہیں اٹھاناچاہتا تھا دوسری جانب سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی موجودہ وزیرداخلہ پر برس پڑے اور انہیں غیر ذمہ دار قرار دیا‘ دھرنے سے پیدا صورتحال مذاکرات کے ذریعے آگے کی جانب بڑھی‘پوری تفصیل انکوائری بورڈ کی رپورٹ میں ہی سامنے آئیگی ضرورت اس بات کی ہے کہ زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ساری صورتحال کا تجزیہ کیاجائے اس میں یہ بھی دیکھاجائے کہ غیر یقینی کی صورتحال کس طرح پیش آئی تاکہ مستقبل میں اس طرح کے حالات پیش نہ آئیں اس کیساتھ ضرورت تناؤ کے خاتمے پر عوامی مسائل کے حل کی جانب پیش رفت کی ہے۔

بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ

موسم سرما کے آغاز کیساتھ گیس کی لوڈ شیڈنگ اور پریشر میں کمی کا مسئلہ روز بروز شدت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے‘وطن عزیز کے شہری بجلی کی کمی کے باعث لوڈشیڈنگ اور لائن لاسز کی سزا کے طورپر بندش کے ہاتھوں پہلے ہی مشکلات کا سامنا کرتے چلا آرہے ہیں‘ گیس کی بندش اور پریشر میں کمی سے متعلق عوامی آگہی کا کوئی واضح سسٹم نظر نہیں آرہا‘صارفین کو اس بات کی کوئی معلومات نہیں کہ انکی رہائشی آبادی میں کس وقت اور کتنے وقفے کیلئے گیس سپلائی معطل ہوگی یا پریشر میں کمی آئیگی‘ اگر ایسا ہو تو وہ اس ضمن میں کوئی پیشگی انتظامات کرلیں‘موسم سرما اچانک نہیں آیا‘سردی سے قبل اگر لوڈشیڈنگ کی بجائے بہتر انداز میں مینجمنٹ کا کوئی انتظام کرلیاجاتا تو شہریوں کو مشکلات سے بچایا جاسکتا تھا اور اب چولہے ٹھنڈے پڑنے پر گھریلو اور کمرشل صارفین اس اذیت ناک صورتحال سے دوچار نہ ہوتے۔ اب بھی ضرورت قدرتی گیس کی پیداوار میں طلب کے تناسب سے اضافے کیساتھ مینجمنٹ کے حوالے سے قابل عمل حکمت عملی ترتیب دینے کی ہے تاکہ شہریوں کو ریلیف مل سکے۔