بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مسلم لیگ (ن) کے 14 اراکین اسمبلی کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ

مسلم لیگ (ن) کے 14 اراکین اسمبلی کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ


پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ محمد اکرم نے کہا ہے کہ ان سمیت حکمراں جماعت کے 14 دیگر اراکین اسمبلی نے اپنا استعفے سرگودھا سے تعلق رکھنے والی مذہبی شخصیت پیر حمیدالدین سیالوی کو جمع کرادیا ہے۔

  شیخ اکرم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور دیگر 14 ارکین اسمبلی نے اپنے استعفے پیر سیالوی کے پاس جمع کرادیے ہیں کیونکہ وہ ‘ختم نبوت قانون پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے’۔ ان کا کہنا تھا کہ استعفوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ اب پیر سیالوی کریں گے۔

جھنگ سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی نے کہا کہ ‘ہم نے پیر سیالوی کے پاس اپنے استعفے جمع کرتے ہوئے انھیں کہا ہے کہ حکومت سے اس معاملے پر مذاکرات کے بعد فیصلے کریں’۔

وزیر قانون زاہد حامد کی جانب سے وزارت سے علیحدگی کے بعد استعفے کا فیصلہ واپس لینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اب یہ فیصلہ پری سیالوی کریں گے۔

شیخ محمد اکرم نے کہا کہ پیر سیالوی کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعت کو فیض آباد میں دھرنا دینے کا حق ہے لیکن لوگوں کی زندگیوں کو متاثر نہیں کرنا چاہیے اور دھرنے کے دوران لوگوں کے املاک کو بھی نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔اس موقع پر پنجاب کے وزیر مذہبی امور و اوقاف ضعیم قادری کا کہنا تھا کہ انھوں نے پیر سیالوی سے رابطے کی کوشش کی تھی لیکن وہ دستیاب نہیں ہوئے۔

ضعیم قادری کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر پیرسیالوی سے ملاقات کرکے جلد ہی معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

یاد رہے کہ تحریک لبیک یارسول اللہ کی جانب سے انتخابی بل 2017 میں حلف نامے میں ختم نبوت کے حوالے سے مبینہ ترامیم کے خلاف وفاقی وزیرقانون زاہد حامد کے استعفے سمیت دیگر مطالبات کے حق میں اسلام آباد کے سنگم میں فیض آباد انٹرچینج میں دھرنا دیا تھا جس کو حکومت کی جانب سے عدالتی حکم پر ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا جس کے بعد ملک بھر میں احتجاج کیا گیا تھا۔

بعد ازاں ایک معاہدے کے تحت زاہد حامد نے وزارت سے استعفیٰ دیا جس کے بعد دھرنے کے شرکا نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔