بریکنگ نیوز
Home / کالم / ساحل پہ ریت چھوڑ کے دریا اتر گئے

ساحل پہ ریت چھوڑ کے دریا اتر گئے


کبھی سیانوں نے کہا تھا کہ امورِ مملکتِ خویش خسرواں دانند گویاحکمران ہی کارِ حکمرنی جانتے ہیں۔کیا زمانہ رہا ہو گا۔جب ہر شخص اپنا ہی کام کرتا ہو گا اور اگر کسی کے کام میں کوئی دخل در معقولات کرتا تو تان اسی بات پر ٹوٹتی کہ بھائی ’’ جس کا کام اْسی کو ساجھے، یا پھر کہیں کوئی شیخ ابراہیم ذوق ہو تا تو بے ساختہ کہہ اٹھتا۔
تجھ کو پرائی کی پڑی اپنی نبیڑ تو
سو ہر شخص اپنی اپنی نبیڑتا تھا، اپنے اپنے مدار میں رہتا تھا۔ اشیاء اپنے اپنے مدار میں ہی رہیں تو سارا نظام ٹھیک رہتا ہے۔ مگر زمانہ کا دستور ہے کہ یکسانیت سے اکتا جاتا ہے تو تبدیلی کا ڈول ڈالتا ہے۔ اور یہ تبدیلی ہمیشہ نئی پرانی اقدار کوساتھ لے کر ہی ظہور میں آتی ہے کبھی کبھی پرانی اقدار کی یکسر نفی سے بھی تبدیلی لانے کی کوشش کی جاتی ہے مگر اس سے کچھ نت نئے مسائل اس لئے بھی سر اٹھانے لگتے ہیں کہ ابھی وہ نسل زندہ ہوتی ہے جس نسل کے اند ر پرانی اقدار پختہ ہو چکی ہوتی ہیں اور ان کو قائل کرنا ناممکن کی حد تک مشکل ہو تا ہے۔ اس لئے تبدیلی کو اپنا آپ منوانے کے لئے لمبا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ نئی نسل کے لئے نئے حالات سے دوستی کرنا اس لئے آسان ہوتا ہے کہ ابھی انہوں نے سابقہ اقدار و روایات سے پوری طرح طرح وابستگی اختیار نہیں کی ہوتی۔ یہ تبدیلی زندگی کے ہر شعبے پر اثر انداز ہو تی ہے، مگر پہلے پہل یہ تمدن و تہذیب اور فن و ثقافت کو اپنا شکار بناتی ہے، چنانچہ لباس بدلتا ہے،رہن سہن میں بدلاؤ آتا ہے، روایتی کھانے کیا سے کیا ہو جاتے ہیں،بود و باش کا رنگ ڈھنگ اور سے اور ہو جاتا ہے، مصوری میں نئی نئی اختراعات ایجاد ہونے لگتی ہیں،موسیقی ہمیشہ کی طرح مصوری کے ساتھ ہی اپنا چولابدل دیتی ہے، شعر و ادب میں نئے افق تلاش کر لئے جاتے ہیں،اور وہ غزل جو محبوب کیلئے مخصوص تھی اس کے بارے میں نئے زمانے کا عاشق فراز کا ہم خیال ہو جاتا ہے

اب تر ا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے
اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں
مگر یہ تبدیلی ایک دن میں اپنا چہرہ نہیں دکھاتی اس کے لئے ایک لمبا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مگر یار لوگوں کے پاس زیادہ وقت کہاں ہو تا ہے وہ زبردستی تبدیلی بپا کرنے کے خواہش مند ہو تے ہیں اور بزرگوں کی یہ نصیحت بھول جاتے ہیں کہ ’’ تالے پر زور آزمائی مت کروچابی ڈھونڈ کر لاؤ آسانی سے کھل جائے گا، اور یہ بھی کہ سرسوں ہتھیلی پر نہیں پھولا کرتی‘ اسلئے راتوں رات تبدیلی کے خواہشمند وں کا سانس پھول جاتا ہے چہرے پر سختی اور کرختگی ڈیرے جما لیتی ہے، اور وہ اپنے آس پاس سے بیگانہ ہو کر غیر فعال ہو جاتے ہیں یا پھر ان لوگوں کے درپے ہو جاتے ہیں جو کسی طور کوئی کامیابی اپنے نام لکھوا چکے ہوتے ہیں، کیونکہ اس کے بارے میں کہا جاچکا ہے کہ ’’ چلاگر چال کوا ہنس کی تو اپنی بھی وہ بھولے‘‘ اسلئے اپنے اپنے مدار میں رہنے کو ترجیح دی جاتی رہی مگر اب ایسا نہیں ہے اب سب سے پہلے دوسروں کے مدار میں تاکا جھانکی ہی ترجیحات میں سرِ فہرست ہے، یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ریستوران میں اپنا کھانا آرڈر کرنے کے بعد دوسروں کی میز پر سرو ہونیوالے کھانے کو دیکھنا اور بسا اوقات یہ سوچ کر کڑھنا کہ ایسا آرڈر کیوں نہیں دیا یہ بھی ایک وقت گزارنے کا مشغلہ ہے، اپنے کام سے کام رکھنے کا حوالہ تو ہر کلچر میں رائج ہے مائنڈ یور اون بزنس کی بازگشت تو ہر جگہ سنائی دیتی تھی۔ مگر شومئی قسمت کہ یہ سارے اسباق اب بھلا دئیے گئے ہیں اب اپنے حصے کا کام بھلے سے کیا جائے یا نہ کیا جائے اپنے کام ٹھیک سے آتاہو یا نہ آتا ہو لیکن دوسروں کے کام پر ماہرانہ تبصرے فرض اولین سمجھا جاتا ہے۔

مجھے یا د ہے جب ستر کی دہائی میں سوشلزم کے سنگ چلتے چلتے اچانک ایک رہنما نے ملک میں قران و سنت کے نظام لانے کے وعدے اپنے انتخابی جلسوں میں کرنے لگے خصوصاََ مردان کے ایک جلسہ میں کئے جانے والا یہ اعلان دوسرے دن اخبارات کی شہ سرخی بن گیا تو اسی دن شام کو چوک یادگار میں مولانا احتشام الحق تھانوی کا جلسہ تھا جس میں انہوں نے اپنے مخصوص پیرائے میں کہا کہ کیا کبھی کوئی اپنی جوتی ٹھیک کرانے سنارکے پاس جاتا ہے یا کوئی اپنے بال کٹوانے کسی موچی کے پاس جاتا ہے یا اپنے کپڑے سلانے کوئی نائی کے پاس جاتا ہے اور چلا بھی جائے تو کیا وہ اس کی مدد کر پائے گا۔ اسلئے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے،اسلامی نظام کا لانا اور اسے لاگو کرنا علماء کا کام ہے، آپ خود کو ہلکان مت کیجئے۔ اس وقت کیلئے اس دلیل میں میں بہت وزن تھا، مگر زمانے نے جب کروٹ بدلی تو یہ ساری منطق ناکام ہو گئی کیونکہ اب زندگی کا قافلہ ایک نئی پر خار وادی میں قدم رکھ چکا تھا یہ فرق تو بہت پہلے علامہ اقبال کو نظر آ چکا تھا جسے اس نے اکبر الہ آبادی کی تتبع میں کچھ یوں کہا ہے
تھے وہ بھی دن کہ خدمتِ استاد کے عوض
دل چاہتا تھا ہدیۂ دل پیش کیجئے
بدلا زما نہ ایسا کہ لڑکا پس از سبق
کہتا ہے ماسٹر سے کہ بل پیش کیجئے

سو تبدیلی کی اس روش نے ہر شخص کو ہر شعبے کا ماہر بنا دیا، کسی کے لئے ۔سوائے اپنے کام کے ، کوئی کام مشکل نہ رہا۔ اسی دوران ایک حیران کن سہولت سوشل میڈیا کی بھی میسر آ گئی، جیسے ایک زمانہ تھا جب ایک ہی ٹی وی چینل تھا تو اس سے جڑے ہوئے لوگ ایک جادوئی حیثیت اختیا کر گئے تھے جیسے اس سے قبل فلمی شخصیات ہوا کرتیں کیونکہ کام کرنے کا شوق تو سب کو تھا مگر مواقع کسی کسی کو ملتے، مگرجب چینلز زیادہ ہوئے تو وہ کریز اگر ختم نہیں تو کم ضرور ہو گیا، اسی طرح سوشل میڈیا میں فیس بک اور ٹوئیٹرایک طرح سے ہائید پارک بن گئے،ہر شخص یہیں پر اپنا کتھارسس کر لیتا ہے، کیونکہ کویہ کچھ بھی پوسٹ کر دے اگر اس کے ساتھ جڑے ہوئے دوستوں کی تعداد زیادہ ہے تو اگلے ہی لمحے اسے لائیکس ملنا شروع ہو جائینگے، میرے لاہور کے ایک شاعردوست نے ایک بار کہا کہ میرا شعری مجموعہ پڑھنے کا موقع ملا؟میں نے کہا کیوں نہیں جی پڑھا ہے میں نے۔کہنے لگا کیسا لگا؟ میں نے کہا کہ حضور اس پر تو میں تبصرہ بھی کر چکا ہوں وہ شائع بھی ہوا،فیس بک پر دوستوں سے شئیر بھی کیا۔ کہنے لگا اوہو میں نہیں دیکھ سکا گزشتہ ہفتے مصروف رہا فیس بک کو ’’ پورا ‘‘ وقت نہ دے سکا میں نے حضور اسے تو پوسٹ کئے تین ہفتے ہو گئے پھر اس پوسٹ کو نہ صرف آپ نے لائیک کیا بلکہ کمنٹس میں ’’ بہت خوب ‘‘ بھی لکھا تھا؂

کھسیانی ہنسی ہنس کر کہنے لگے ’’ یار تو تو جانتا ہے نا کہ دوست احباب کی پوسٹ کو لائیک کرنا اور بے ضرر سا کمنٹس بھی کرنا پڑتا ہے‘‘ بہر حال اس ہائیڈ پارک میں احباب ہر شعبے کے حوالے سے اپنے زرّین وغیرہ خیالات لکھتے رہتے ہیں اور ادب کے بعد جس شعبے پر ہاتھ صاف کیا جاتا ہے وہ ریاست اور سیاست ہے‘ امور مملکت ہوں کہ نشیب و فراز سیاست ہر دو میدان میں یار لوگ اپنے اپنے ماہرانہ کمنٹس کے گھوڑے دوڑاتے رہتے ہیں، اب یہ سوشل میڈیا سے لے کر چائے خانوں تک ہر جگہ ہر شخص کیلئے کار حکمرانی چائے کا کپ ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہو کہ اب خسروانِ مملکت بھی پہلے سے نہیں رہے محض چند طالع آزماؤں کا ٹولہ ہے جو ان کا روپ دھارے ہوئے ہے، گویا خاطر غزنوی کی زبان میں کہا جاسکتا ہے
پہلی محبتوں کے زمانے گزر گئے
ساحل پہ ریت چھوڑ کے دریا اتر گئے