بریکنگ نیوز
Home / کالم / چین سے سبق حاصل کریں

چین سے سبق حاصل کریں


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کانام لئے بغیر ان کو یہ کہہ کر تنقید کانشانہ بنایا کہ یہ جو تم ہتھیار حاصل کر رہے ہو یہ تمہیں محفوظ نہیں بنا سکتے اس سے قبل انہوں نے جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے بھی کچھ اسی قسم کے نہایت سخت الفاظ استعمال کئے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ان کے ان دھمکی آمیز بیانات کے دو مطلب نکالے جا سکتے ہیں ایک تو یہ کہ بادی النظر میں انہوں نے شمالی کوریا کو دھمکی دی ہے تو دوسری طرف شمالی کوریا کی آڑ میں انہوں نے چین کو بھی دھمکانے کی کوشش کی ہے دراصل چین کی حیرت انگیز ترقی امریکی لیڈروں کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے امریکہ نے 250 برس میں اتنی ترقی نہیں کی کہ جتنی چین نے نصف صدی میں کر لی ہے وہ قوم جو کسی دور میں افیمی اور کام چو ر کہلایا کرتی آج اتنی جفاکش ہے کہ دنیا میں اس سے زیادہ کوئی قوم کام نہیں کرتی اور اس کا تمام کریڈٹ ماوزئے تنگ اور انکے ان کامریڈوں کی ٹیم کو جاتاہے کہ جس میں چو این لائی جیسا غریب دوست رہنما بھی شامل تھا ابتدائی میں تو کامریڈوں کی اس ٹیم نے خود سادگی اپنائی اور اپنا طرز زندگی عام آدمی کے طرز زندگی کے سانچے میں ڈھالا سادہ لباس ‘ ساد ہ خورک اور سب کیلئے یکساں سہولیات امیر غریب کا فرق مٹا دیا گیا ہمارے رہنما تو بس صرف بھڑکیں ہی مارتے تھے اور اب بھی مار رہے ہیں کہ ہم پاکستان کو ایشین ٹائیگرز بنا کے چھوڑیں لیکن جنہوں نے بلند و بانگ دعوؤں کے بجائے عملاً یہ کام کر کے دکھایاچینوں نے اپنے رہنما ماوزنگے تنگ کی اکثر باتوں پر من و عن عمل کیا جلدی سونا ‘ جلدی اٹھنا ۔

ہلکی پھلکی غذا صبح تڑکے ناشتہ12 بجے دوپہر کا کھانا اور پھر 6 بجے آخری کھانا نو بجے رات و ہ سو جاتے ہیں ٹھنڈے پانی سے تو جیسے ان کو چڑ ہے ہمیشہ وہ نیم گرم پانی پیتے ہیں اور غالباً اسی وجہ سے ان کے ہاں پیٹ کی بیماریاں نہ ہونے کے برابر ہیں کرپشن ایک ایسی ذہنی بیماری ہے کہ جو ہر ملک میں موجود ہے دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ حکومتیں اس سے کیسے بنٹتی ہیں چین نے کرپشن کرنے والوں کیلئے موت کی سزا رکھی ہوئی ہے بالکل اسی طرح کہ جس طرح بعض ممالک میں اگر کوئی ہیروئن یا اس قسم کی منشیات سمگل کرتا ہوا پکڑا جائے تو یا تو اس کا سر تلوار سے اس کے بدن سے جدا کر دیا جاتا ہے اور یا پھر اس کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کرکے گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے ماوزئے تنگ کے شاگردوں نے کمیونزم کو اپنی انا مسئلہ نہیں بنایا انہوں نے کیپٹلزم کے معاش نظام کو بھی باریک بینی سے دیکھا اور پرکھا اوراس میں انہیں جو باتیں بہتر لگیں ان کو انہوں نے اپنانے میں کوئی وقار کا مسئلہ نہیں بنایا چنانچہ ان دونوں نظاموں کے حسین امتزاج سے اس کی معیشت کا رنگ مزید نکھر گیا ہے بھارتی بنیا بڑا کایاں ہے کسی زمانے میں وہ سوویت یونین اور امریکہ دونوں سے مالی مفادات حاصل کرتا رہا اور یہ سلسلہ ایک عرصے تک چلتا رہا جبکہ ہمارے عاقبت نا اندیش رہنما صرف امریکہ کی گود میں ہی بیٹھے رہے اب وہ بھارت میں چینی سرمایہ کاری کا بھی خیر مقدم کرتا ہے اور امریکہ کیساتھ بھی اس نے محبت کی پینگیں بڑھا رکھی ہیں امریکہ اس سے نہیں پوچھتا کہ بھئی تم نے دو کشتیوں میں بیک وقت پاؤں رکھتے ہوئے ہیں۔

چین کا مال بھی کھا رہے ہیں اورہمارا بھی امریکہ کے اندر البتہ ایک ایسی لابی بھی موجود ہے کہ جودل سے یہ بات مانتی ہے کہ دہشتگردی کیخلاف پاکستان نے بھرپور کردار ادا کیا ہے لہٰذا پاکستان کیلئے اس کے دل میں نرم گوشہ ضرور موجود ہے ‘اس لابی سے تعلق رکھنے والوں کا بھارت پر کچھ زیادہ یقین نہیں ان کو خدشہ ہے کہ اگر بھارت کو یقین ہو گیا کہ چین واقعی امریکہ سے زیادہ بڑاسپر ملک بن رہا ہے تو بھارت کہیں اپنی ترجیحات بدل کر چین کے ساتھ شر و شکر نہ ہو جائے لہٰذا اس لابی کے لوگ پاکستا ن کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے کے حامی ہیں اب وہ کس حد تک ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات اور ان کی پالیسی پر اثر انداز ہوں گے اس کا فیصلہ تو صرف وقت ہی کرے گا جو نظا م معیشت چین نے اپنایا اس میں عام آدمی کو بنیادی سہولیات زندگی بہ آسانی میسر آ جاتی ہیں اس ملک کا عام آدمی آج ماوزئے تنگ چو این لائی یا اس قسم کا ذہن رکھنے والے رہنماؤں سے کیوں عقیدت رکھتا ہے ؟ محض اس وجہ سے کہ وہ عوام دوست تھے ان کے دل عام آدمیوں کیلئے دھڑکتے تھے ۔