بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / غیر جانبداری شرط ہے

غیر جانبداری شرط ہے


ویسے تو پچھلی سات دہائیوں سے پاکستان اور چین کے مابین انتہائی خوشگوار تعلقات قائم ہیں‘ مگر ان خوشگوار تعلقات میں مزید اضافہ دونوں ممالک کے مابین چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر کے سلسلہ میں ہونیوالے معاہدے سے ہوا ہے‘ کوئی مانے یا نہ مانے اس راہداری کی تعمیر کیلئے دونوں ممالک میں تفاہم کے معاہدے پر دستخط سابق صدر آصف علی زرداری کے22 مئی 2013کو دورہ چین کے موقع پر ہوئے تھے‘ تاہم اس معاہدے کو عملی شکل دینے میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)کا کردار نہ صرف نمایا ں ہے۔ بلکہ قومی تاریخ میں اس کو سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔اس اقتصادی راہداری منصوبہ پر کام شروع کرنے کے بعد دونوں ممالک کے مابین وفود کا تبادلہ کافی زور پکڑتا جا رہا ہے۔اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، ماہرین اورلکھاری ایک دوسرے ممالک دوسرے کے دوروں پر آتے جاتے ہیں۔حال ہی میں کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرزکے ایک وفد کاتفصیل سے دورہ کیا۔ وفد میں دیگر سینئر ایڈیٹروں ،صحافیوں اور کالم نگاروں کے علاوہ نامور تجزیہ کار امتیاز عالم بھی شامل تھے۔واپسی پر امتیاز عالم نے اپنی اراء میں نہ صرف ماضی بلکہ مستقبل کے بارے میں مفصل لکھاہے۔امتیاز عالم کا شمار ان مترقی ذہن والے حلقوں میں سے ہے۔جو عرصہ دراز سے جمہور کے اقتدار ،آئین وپارلیمان کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی کے قیام کے لئے کو شاں ہیں۔

امتیاز عالم کی اس تحریر میں چین میں برق رفتار ترقی کا جو خاکہ کھینچا گیا ہے۔اس کے مطابق چین میں غربت کا خاتمہ ہونے کے قریب ہے اور ان کے مطابق،،ایسی ترقی،،اتنی ہمہ نو،،اتنی برق رفتار،، اتنی انسان دوست اور اتنے قلیل عرصے میں کبھی تاریخ میں کسی قوم کسی تہذیب نے نہیں دیکھی‘ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی سالگرہ پر چین کو 2021 میں ایک جدید اور خوشحال معاشرے میں ایسے بدلنا چاہتی ہے۔کہ کوئی غربت کا مارا نہ رہے۔اس فوری ہدف کے ساتھ ساتھ وہ عوامی جمہوریہ کے قیام کی 100ویں سالگرہ پر 2049تک چین کوایک عالمی طاقت بنانے پر کمر بستہ ہے۔جبکہ 2035تک چین امریکہ اور یورپ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن چکا ہوگا۔چینیوں کے پاؤں اپنی زمین اور نگاہیں آسمان پر ہیں۔،، امتیاز عالم کے بقول چین کی انمول اور بے تحاشہ ترقی کا راز اس کی قیادت کی ترجیحات اور پالیسیوں پر ہی ہے‘ آزادی کے ساتھ ہی چین کا ہندوستان کے ساتھ سرحدی تنازعہ پیدا ہوا اور اس سرحدی تنازعے پر ایک بار دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین ایک مختصر سی جنگ بھی ہوئی ہے‘ ۔

مگر اس تنازعہ کے باوجود بھی چین اور ہندوستان کے مابین سفارتی اور سیاسی تعلقات قائم و دائم ہیں۔بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت بھی قائم ہے۔اس طرح چین نے اگر ایک طرف امریکہ کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کیے ہیں تو دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں چین کی کوشش رہی ہے کہ امریکہ کو چھوٹے ممالک کے خلاف جارحیت کرنے سے منع کرے۔اب چونکہ پاکستان چین ہی کی ترقی کو اپنے مستقبل کے لئے تابناک سمجھتا ہے۔لہذا پاکستان کے قائدین کو چاہئے کہ وہ چینی قیادت کی پالیسیوں اور ترجیحات کو مد نظر رکھیں۔