بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / خاموش نقصان

خاموش نقصان


انسان چونکہ احساس رکھنے والی مخلوق ہے اس لیے اردگردکے ماحول اور حالات سے بہت زیادہ اثر بھی یہی مخلوق لیتی ہے چنانچہ خرابی حالات کی وجہ سے جس تیزی سے معاشرے میں بے چینی اورعد م تحفظ کااحساس پھیل رہاہے اسی بدولت اب ڈپریشن کے جراثیم بھی تیز ی سے سرایت کرتے جارہے ہیں ایک رپور ٹ کے مطابق ڈپریشن سے دنیا کے تقریباً20 فیصد لوگ متاثر ہیں جبکہ پاکستان میں بد قسمتی سے یہ بیماری34فیصد سے بھی زیادہ ہے یعنی ہر تیسراشخص اس کا شکار ہے اگر ہم اپنے صوبہ خیبر پختونخوا کی بات کریں تو صورت پورے ملک سے زیادہ سنگین اور قابل توجہ نظر آتی ہے کیونکہ یہاں اس کی شرح پورے ملک سے بھی زیادہ ہے جس کی بہت سی وجوہات بھی ہیں جن پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے صوبہ میں ڈپریش بڑھنے کی ایک وجہ دہشت گردی اور لاقانونیت ہے جب حالات مسلسل بدامنی کی طرف جاتے ہیں تو لامحالہ پریشانیاں اور تفکرات بھی بڑھتے ہیں جو آگے چل کر ڈپریشن کاباعث بنتے جاتے ہیں جبکہ دیگر مشترکہ وجوہات غربت، بے روزگاری، منشیات، گھریلو مسائل اور تعلیم کی کمی ہے۔منشیات کا استعمال ہمارے ہاں ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ چرس، ہیروئن ، افیون اور نشہ آور ادویات کھلے عوام دستیاب ہیں ان کا خصوصاً شکار نوجوان ہیں منشیات کی لعنت سے بھی مسائل بڑھتے جارہے ہیں افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے67لاکھ لوگ نشے کے عادی ہیں جس سے نہ صرف ملک کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے بلکہ جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا ہے جدید تحقیق سے قبل عام خیال یہی تھاکہ ذہنی امراض زیادہ تر بڑوں میں ہوا کرتے ہیں۔

مگر اب ماہرین نفسیات کے مطابق حیران کن طور پر بچے بھی ذہنی امراض کا نہ صرف شکار ہیں بلکہ اکثر ان کی تشخیص بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کا علاج کیا جاتا ہے18سال کی عمر تک کے لوگوں کی شرح کل آبادی کے50فیصد سے زیادہ ہوگی چونکہ وطن عزیز میں قانون ہونے کے باوجود بھی بچوں کی مشقت یعنی چائلڈ لیبر میں کوئی کمی نہ کی جا سکی اس لیے ان کو ہر روز جبری مشقت کے کٹھن مراحل سے گذرنا پڑتاہے اس کے علاوہ بھی بچوں کے حقوق کی پامالی آئے روز کا معمول بن چکی ہے ساتھ ہی ملکی امن و امان کی صورت حال اور بچوں کے خلاف پر تشدد واقعات کے نتیجے میں بھی بچے مختلف قسم کے خوف Phobias ، اینگزائٹی Anxiety اور ڈپریشن کا شکار ہیں جہاں آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے وہاں یہ امر بھی قابل ذکراور افسوسناک ہے کہ ملک کے 20 کروڑ عوام کیلئے صرف چار سو 400 ماہرین نفسیات ہیں یعنی ہر 5لاکھ کیلئے صرف ایک ماہر نفسیات جبکہ اس کے مقابلہ میں ترقی یافتہ ممالک میں ہر10ہزار لوگوں کیلئے ایک ماہر خدمات انجام دیتا ہے ماہرین کا حکومت سے ہمیشہ یہ مطالبہ رہاہے کہ ذہنی امراض و علاج سے متعلق قانون Mental Health Act کو اس کی حقیقی حالت میں نافذ کیا جائے تاکہ ان مریضوں کے حقوق کی حفاظت کی جا سکے۔ ذہنی دباؤ اور بے چینی دماغی امراض میں سے سب سے زیادہ عام ہے جس سے کام کرنے والے اور کام دونوں متاثر ہوتے ہیں۔پوری دنیا میں30لاکھ سے زائد افراد دماغی تناؤ کے باعث معذوری کا شکار ہوتے ہیں۔

اسی طرح26 لاکھ سے زائدبے چینی کا شکار ہیں۔ ان سے کہیں زیادہ لوگ دونوں بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں ڈبلیو ایچ اوکی ایک تحقیق کے مطابق ذہنی تناؤ اور بے چینی کے باعث سالانہ پیداوار میں ایک ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے ظاہر ہے کہ اس میں اربوں ڈالرہمار ا نقصان بھی شامل ہے اور اس کو ہم خاموش نقصان کہہ سکتے ہیں جو کسی کو نظر بھی نہیں آتاجس کے بعدا ب اس طرف پہلے سے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے ڈپریشن سے جس طریقے معاشرہ کو دیمک لگتی جارہی ہے اس پر قابو پانا ضروری ہوچکاہے بصورت دیگر دہشتگردی سے ہونیوالی نقصان کے مقابلہ میں ڈپریشن سے جنم لینے والے مسائل ہمارا سارا نظام لپیٹ میں لے کر سب کچھ جام کرسکتے ہیں۔