بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سیاسی گرما گرمی‘ معیشت اور مسائل

سیاسی گرما گرمی‘ معیشت اور مسائل


وطن عزیز میں سیاسی فضاء بدستور گرما گرمی کا شکار ہے اور تند و تیز بیانات کے ساتھ سیاسی رابطوں کا سلسلہ بھی زور و شور سے جاری ہے۔ دوسری جانب حلقہ بندیوں کا اہم معاملہ بھی زیر غور ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا حکومت نے محمود اچکزئی کے ذریعے پیپلز پارٹی سے رابطہ بھی کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کسی غیر جمہوری عمل کی حمایت نہیں کرے گی۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان گرما گرم بیانات کا تبادلہ اور رابطے سب معمول کا حصہ ہیں وطن عزیز میں تمام تر سیاسی مخالفتوں کے ساتھ اہم معاملات کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی روایت بھی چلی آرہی ہے اس وقت ملک کی معیشت کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔

83 ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں کی اقساط چکانے کیلئے نیا قرضہ لینا پڑتا ہے ایسے میں تجارتی خسارے پر قابو پانے میں ناکامی کی صورت میں قرضوں کا حجم مزید بڑھنے کا خدشہ بھی موجود بتایا جاتا ہے۔ دوسری جانب عام شہری بے پناہ ٹیکسوں اور مارکیٹ پر کنٹرول کا موثر نظام نہ ہونے کے باعث مہنگائی کے ہاتھوں نالاں ہے۔ ملک میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ اذیت ناک صورت اختیار کئے ہوئے ہے۔ عام شہری کو بنیادی سہولیات اور خدمات معیار کیساتھ نہ ملنے کا گلہ ہے اس سارے منظرنامے میں ضرورت معیشت کے استحکام اور عوام کو درپیش مشکلات کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات کی ہے مرکز اور صوبوں کی سطح پر متعلقہ اداروں کو اس ضمن میں موثر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کے ساتھ کڑی نگرانی کا انتظام بھی کرنا ہوگا اس سب کیساتھ معیشت سے متعلق ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے تجاویز بھی طلب کرنی چاہئیں۔ ان تجاویز اور برسرزمین حقائق کی روشنی میں ضرورت ایک منظم فنانشل ڈسپلن کی بھی ہے۔ ضرورت تمام تر سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ جیسے معاملات کو یکسو کرنے کی بھی ہے۔ ضرورت خیبرپختونخوا کے بجلی منافع کے بقایا جات اور دوسری ادائیگیوں کو یقینی بنانے کی ہے تاکہ تعمیر و ترقی کا عمل جاری رہ سکے۔

معیار تعلیم؟

وزیراعلیٰ پرویز خٹک صوبے کے ہر ضلع میں یونیورسٹی کا قیام یقینی بنانے کا عندیہ دینے کے ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایجوکیشن کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف خان کہتے ہیں کہ ان کے محکمے میں سزا و جزا کے اصول پر ہر صورت عمل ہوگا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اساتذہ اور اداروں کے سربراہان کی کارکردگی جانچنے کے لئے طریقہ کار طے کرلیا گیا ہے پشاور کے ضلع ناظم سرکاری سکولوں میں سیکنڈ شفٹ شروع کرنے کا مژدہ سنا رہے ہیں۔ سرکاری سطح پر تعلیمی اداروں اور جامعات کی سپر ویژن کے لئے باڈیز بھی قائم ہیں یہ سب قابل اطمینان سہی تاہم ضرورت تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ معیار یقینی بنانے کے لئے عملی اقدامات کی ہے جن کے نتائج برسرزمین نظر بھی آئیں۔ ضرورت سرکاری اداروں میں غریب طلباء سے چارجز وصولی کی شرح دیکھنے کے ساتھ نجی اداروں کی فیسوں کو معیار سے مشروط کرنے کی ہے اگر ہمارے ادارے صرف سرٹیفیکیٹ اور ڈگریاں ہی تقسیم کرتے رہے تو وطن عزیز ہنرمند باصلاحیت افرادی قوت سے محروم ہی رہے گا جس کا اثر پورے سسٹم پر مرتب ہوگا۔