بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / ملٹی نیشنل کا رپوریشن اور استحصال

ملٹی نیشنل کا رپوریشن اور استحصال


پولکا پاکستان کا مقبول عام آئس کریم تھا۔ یمی دوسرا برانڈ تھا اور انہی دونوں کے درمیان مقابلہ رہتا تھا‘ 1995ء میں انٹرنیشنل برانڈ والز نے پاکستان میں اپنا کاروبار شروع کیا۔ یاد رہے کہ والز کی بنیادی کمپنی یونی لیور ہے۔ جب والز نے پاکستان میں اپنے آئس کریم متعارف کروائے تو بازار میں پہلے ہی سے دو کمپنیاں کامیاب بزنس کررہی تھیں۔ اچانک والز نے پولکا آئس کریم کو خرید لیا۔ کچھ عرصے تک تو والز اپنے آئس کریم کے ساتھ ساتھ پولکا بھی بیچتے رہے لیکن رفتہ رفتہ پولکا کے پراڈکٹس ایک ایک کرکے ختم کردیئے گئے اور یوں میدان عملی طور پر صرف والز کیلئے کھلا رہا کیونکہ اسکے مقابلے میں یمی ایک چھوٹی سی کمپنی تھی۔ اس وقت پورے ملک کے آئس کریم کے کاروبار کے اٹھائس فیصد مارکیٹ والز کی گرفت میں ہے۔ یہی صورت ملک پیک کے ساتھ ہوئی ۔ ملک پیک ایک خالصتاً پاکستانی کمپنی تھی۔ نیسلے نے پاکستانی مارکیٹ پر قبضے کی کوشش کی تو پہلی کیجولٹی ملک پیک ہی کی ہوئی جو نیسلے نے خرید لی۔ اِس وقت نیسلے کے پاس نہ صرف دودھ کا کاروبار ہے بلکہ دوسری چھوٹی موٹی لیکن مقبول خوراک کی کمپنیاں بھی اسکے قبضے میں ہیں۔حتیٰ کہ نیسلے ہمارا اپنا پانی خوشنما بوتلوں میں بھر کر ہمیں ہی بیچ رہی ہے۔

یہ سرمایہ دارانہ نظام کا خاصا ہے۔ ہمارے ہاں پہلے ہی سے مشہور ہے کہ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے۔ یہ محاورہ کیپٹل ازم کے ہر ہر قدم پر بالکل فِٹ آتا ہے۔ اور معاملہ اس حد تک آگیا ہے کہ پوری دنیا چند ہی کمپنیوں کے چنگل میں پھنس چکی ہے۔ جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ہے کہ والز آئس کریم یونی لیور کی ملکیت ہے۔ یونی لیور اسکے علاوہ بیسیوں اشیاء پر اجارہ داری رکھتی ہے خواہ وہ صابن ہو یا شیمپو۔ عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کیلئے اسکا مقابلہ پراکٹر اینڈ گیمبل کے ساتھ ہوتا ہے جو کہ ہیڈ اینڈ شولڈر شیمپو کیلئے شہرت رکھتی ہے لیکن وہ بھی وہ تمام روزمرہ کے استعمال کی اشیاء بناتی ہے جو یونی لیور بیچتی ہے۔بظاہر تو کم از کم مہذب ممالک میں کسی کمپنی کو کسی ایک میدان میں اجارہ داری کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ لیکن وہاں بھی بظاہر جن کمپنیوں میں مسابقت نظر آتی ہے، وہ بھی کسی نہ کسی طریقے سے ایک ہی کمپنی کی دو شاخیں ہی ثابت ہوتی ہیں۔ چشموں کی مثال لیں تو حیرت کی انتہا نہیں رہتی۔ چشموں کے جتنے بھی لگژری برانڈ بازار میں دستیاب ہیں، وہ سب ایک ہی کمپنی بناتی ہے۔ یہ بات مذاق لگتی ہے لیکن حقیقت میں ان برانڈز کی جو کاپیاں تیار ہوتی ہیں وہ بھی وہی کمپنی بناتی ہے۔ یعنی میں کسی چشموں کی دکان میں جاؤں اور کوئی بھی فریم پسند کروں ، میری جیب سے خرچ کا رخ ایک ہی کمپنی کی طرف ہوتا ہے۔

مہذب ممالک میں چونکہ عوام باشعور ہوتی ہے اس لئے ان کے پارلیمنٹ ایسے قوانین بنانے پر مجبور ہوتی ہیں جن میں کسی مارکیٹ پر اجارہ داری جرم بن جاتی ہے۔ کہنے کو تو ہمارے ہاں بھی اجارہ داری کے خلاف قوانین موجود ہیں۔2007ء میں ہمارے ہاں کمپیٹیشن کمیشن کے نام پر ایک ادارہ وجود میں لایا گیا جس کے ذمے کسی بھی مارکیٹ میں اجارہ داری قائم نہ ہونے دینا ہے۔ یعنی اسکے قوانین کے مطابق کوئی ایسی بڑی کمپنی جو مارکیٹ کا زیادہ حصہ اپنے قبضے میں رکھتی ہے،قانوناً اپنے اس طاقت سے کسی شے کی من مانی قیمت متعین نہ کرسکے۔ تاہم اس لنگڑے لولے قانون کا نفاذ کبھی بھی عمل میں نہ آیا۔ اسکی بد ترین مثال چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ چندسال قبل تمام شوگر ملوں نے مل کر اچانک چینی کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ کردیا۔ مونوپولی کمیشن نے اس پر سٹینڈ لینے کی کوشش کی لیکن چونکہ تمام شوگر ملیں سیاستدانوں کے پاس ہیں اور قوانین بھی وہی بناتے ہیں، اس لئے کمیشن کو بے دست و پا بنادیا گیا۔ اس پر سپریم کورٹ نے سو موٹو ایکشن لے لیا کہ پوری دنیا میں شوگرکی قیمتیں کم ہورہی ہیں، یہاں بھی نہ گنے کی قیمت خرید میں اضافہ ہوا اور نہ ہی خام مال میں کوئی اور کمی واقع ہوئی تو یکایک شوگر کی قیمت نہیں بڑھنی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے مقدمے کا فیصلہ کیا اور شوگر کی ایک قیمت مقرر کی لیکن آج تک اس قانون کو حکومت لاگو نہیں کرسکی۔

کارپوریٹ سیکٹر تو ویسے ہی بہت سے مارکیٹ کو اپنے قابو میں رکھتی ہے لیکن مغربی ممالک میں چند بڑے بڑے ناموں نے روزمرہ کی ساری ضروریات پر بھی یوں قبضہ جمایا کہ سپر سٹور بناکر محلے کے پنساریوں کا دھندا ختم کردیا۔ چند سال قبل جب وال مارٹ نے انگلینڈ کے دیہاتی علاقوں میں بھی اپنے سٹور کھولنے کا فیصلہ کیا تو مقامی چھوٹے چھوٹے دوکانداروں نے احتجاج کرنا شروع کردیا ۔ وال مارٹ نے حسب معمول اسے غنڈہ گردی قرار دیا اور لیکچر دیا کہ کس طرح سے وال مارٹ نے ایک چھوٹے سے گاؤں میں اتنا بڑا سٹور کھول کر دراصل یہاں پر قیمتی سرمایہ کاری کی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کو روزگار فراہم ہوگا بلکہ عوام کو روزمرہ استعمال کی اشیاء کم قیمت پر بھی ملیں گی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس علاقے کے تمام چھوٹے دکان بند ہوجائیں گے اور ان دکانوں کے مالک وال مارٹ کے سٹور میں معمولی تنخواہ پر کام کرسکیں گے۔ پاکستان کی مڈل کلاس ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ جس پر قبضہ کرنے کیلئے ہر ملٹی نیشنل کارپوریشن ہر حربہ استعمال میں لاتی ہے۔ پاکستان ایشیا بھر میں فی کس کے حساب سے سب سے زیادہ دودھ پیدا کرنے والا ملک ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی دودھ خوشنما پیکیج میں بند کرکے بے تحاشا منافع کے ساتھ ہمیں بیچا جارہا ہے اور کہیں حکومت کی آشیر باد سے پیکیجڈ ملک جو محکمہ زراعت پنجاب آدھی قیمت پر فراہم کررہا تھا، اس کاکارخانہ بند کروادیا اور کہیں میڈیا کے ذریعے سے الٹے سیدھے چھاپے ڈلواکر عام گوجروں کو بدنام کرکے ایک طریقے سے عوام کو باور کرایا جارہا ہے کہ یہی دودھ جو ملٹی نیشنل ڈبوں میں بند کرکے ایک سو بیس روپے لٹر بیچ رہی ہے وہ بالکل خالص ہے۔ حالانکہ یہ کمپنیاں بھی ہمارے ہی گوجروں سے آدھی سے بھی کم قیمت پر خرید کر اور اس سے مکھن ملائی نکال کر تین گنا قیمت پر ہمیں ہی بیچ دیتی ہے۔

پوری دنیا میں کارپوریشنوں کے ساتھ مقابلہ عام آدمی ہار رہا ہے۔ تاہم اب بھی کئی ممالک میں عوام اپنے لوکل پنساریوں ، چھوٹے موٹے کاریگروں اور چھوٹے سروس والے اداروں سے خریداری کرکے کم از کم ان کو بند ہونے سے بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایک اور قسم کی کوشش دوسرے ممالک میں کوآپریٹو سوسائٹیوں کی شکل میں ہو رہی ہے۔ کہنے کو تو پاکستان میں بھی کوآپریٹو سوسائٹیاں موجود ہیں لیکن کرپش کی وجہ سے ان پر بھی سخت وقت آن پڑا ہے کیونکہ ان کا زمام کار افسر شاہی کے ہاتھ میں دیا گیا ہے۔ ورنہ اگر صرف ایگریکلچر کے میدان میں بھی یہ سوسائٹیاں اجتماعی طور پر کارخانوں سے معاہدے اور خرید و فروخت کرے تو ہمارا کسان بھوکوں نہیں مرے گا بلکہ اپنے فصل کی صحیح قیمت بروقت ادائیگی پر وصول کرسکے گا۔