بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان کے مسائل کا حل ٹیکنو کریٹ حکومت کا قیام ہے، پرویز مشرف

پاکستان کے مسائل کا حل ٹیکنو کریٹ حکومت کا قیام ہے، پرویز مشرف


کراچی۔آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اورسابق صدرجنرل (ر)پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل الیکشن نہیں ہیں بلکہ واحد حل ٹیکنوکریٹ حکومت کا قیام ہے جس کے لیے جمہوری نظام میں تبدیلیاں اور ازسرنو انتخابی اصلاحات کا ہونا لازمی امر ہے اور اس طرح کی آئینی اصلاحات دنیا کے تمام ممالک میں کی جاتی ہیں۔

ایک خصوصی انٹرویو میں پرویز مشرف نے کہاکہ پاکستان کے لیے مارشل لا بہتر نہیں ہوگا اور پاکستان میں جمہوریت کوکوئی خطرہ نہیں ہے تاہم اصلاحات بے حد ضروری ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن سے پہلے پاکستان آؤں گا اور انتخابات میں حصہ بھی لوں گا جو لو گ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں فوج کے کندھوں پرسوارہو کر پاکستان آؤں گا وہ غلطی پر ہیں، میں عمران خان کی طرح دعوے نہیں کرتا جنہوں نے 2002 میں کہا تھا کہ 100 نشستین جیتوں گا لیکن ایک سیٹ لے سکے تھے اور آئندہ بھی ناکام رہیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہ میں کشمیر میں پھرپور جواب دینے کا حامی ہوں اور میں لشکرطیبہ کا سب سے بڑا سپورٹر ہوں جب کہ لشکرطیبہ و جماعت الدعوہ دونوں مجھے بہت پسند کرتے ہیں اور حافظ سعید سے بھی ملاقات ہوچکی ہے جنہیں بھارت نے امریکا کے ذریعے دہشت گرد ڈکلیئر کروایا ہے۔پرویزمشرف نے کہا کہ لال مسجد اور اسلام آباد دھرنے کا موازنہ مناسب نہیں کیوں کہ میرا لال مسجد آپریشن کرنے کا فیصلہ 200 فیصد درست تھا کیوں کہ وہ لوگ دہشت گرد تھے جہاں 93 دہشت گردوں کو مارا گیا اور مقابلے کے دوران 13 سیکیورٹی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا جب کہ فیض آباد دھرنے میں پر امن اور نہتے شہری تھے۔

انہوں نے کہاکہ ختم نبوت میں تبدیلی کرنے والی حکومت ناکام ہو چکی ہے اور دھرنے والوں کے مطالبے کو مانتے ہوئے حکومت کو اب واپس گھر چلے جانا چاہیئے کیوں کہ ختم نبوت قانون میں تبدیلی میں ایک نہیں بہت لوگ شامل ہوں گے اور یہ مضحکہ خیز بات ہے کہ حلف نامے میں ٹائپنگ کی غلطی تھی۔پرویزمشرف نے کہا کہ پاکستان میں مارشل لا کا کوئی امکان نہیں ہے کیوں کہ اب پاکستان میں مارشل لا لگنے کا زمانہ گزر گیا ہے ، پہلے مارشل لا لگتا تھا توعدالتیں نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دے دیتی تھیں لیکن اب کسی نے مارشل لا کو آئینی تحفظ فراہم کیا تو اس پر بھی آرٹیکل 6 لاگو ہوگا۔