بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / سیاسی جماعتوں کی محاذ آرائی

سیاسی جماعتوں کی محاذ آرائی


فیض آباد کے دھرنے سے ایک بڑا ایشو آنکھوں سے اوجھل ہوگیاگزشتہ دنوں قومی اسمبلی کی جا نب سے 98کے مقا بلے میں 163 ووٹو ں کی وا ضح برتری سے سینٹ سے منظور شدہ پا ر ٹی سر براہ کی نااہلی سے متعلق بل کی نامنظوری سے مسلم لیگ (ن) اور خا ص کر میاں نواز شریف کو جو نیا جنم ملا ہے اس نے ان میں ایک نئی توانا ئی بھر دی ہے‘ ا س بل کی منظوری کے بعد میاں نواز شریف کی خو د اعتمادی قا بل دید ہے‘ وہ اس بل کی منظوری کے اگلے روز احتساب عدالت سے استثنیٰ کے با وجود نہ صرف بہ نفس نفیس عدالت میں حا ضر ہوئے بلکہ پیشی کے بعد انھو ں نے میڈیا سے جو گفتگو کی اور اس میں انھو ں نے جو لب و لہجہ اپنا یا اس سے یہ بات صاف جھلک رہی تھی کہ قو می اسمبلی نے پارٹی سربراہ کی نا اہلی کے فیصلے کی حما یت میں پیپلز پارٹی کے پیش کئے جا نے والے بل کوجس واضح عددی اکثر یت سے مسترد کیا ہے اس پر وہ نہ صرف مطمئن ہیں بلکہ اس فیصلے نے انکی خود اعتمادی میں بھی اضافہ کر دیاہے‘ میا ں نواز شریف کی نااہلی سے لیکر اب تک پیپلز پا رٹی کی جا نب سے یہی تاثر دیا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی میاں نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے کی نہ صرف حمایت کرتی ہے بلکہ اس نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کا احترام کیا ہے ۔پیپلز پارٹی اس ضمن میں جہاں زرداری کی قید وبند اور عدالتی پیشیوں اور بالآخر تمام مقدمات میں انکی باعزت بری ہونیکی مثال دیتی ہے وہاں محترمہ بے نظیر بھٹو کے عدالتی ٹرائلز کو بھی بطور دلیل پیش کیا جاتاہے حالانکہ حقائق ان دعوؤں کے برعکس ہیں‘کیونکہ پیپلز پارٹی نہ صرف بھٹو صاحب کی پھانسی کے فیصلے کو عدالتی قتل قرار دیتی رہی ہے بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے پاکستانی عدالتوں کے بارے میں کینگرو کورٹس کے کہے گئے الفاظ آج بھی پاکستانی قوم کے حافظے میں محفوظ ہیں‘یہاں یہ تلخ تاریخی حقائق بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ہاں عدالتوں اور انکے فیصلوں پر کیچڑ اچالنے اور ان کی تضحیک کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اس حوالے سے جب جب بھی کسی کے مفاد پر زد پڑتی رہی ہے تو تب تب انکی عدلیہ کے احترام کے نام نہاد دعوؤں کی قلعی بھی کھلتی رہی ہے‘یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ ان دونوں بڑی قومی جماعتوں کا اعلیٰ عدالتوں کے حوالے سے ماضی اور حال ایک دوسرے سے قطعاً مختلف نہیں بلکہ در حقیقت عدالتوں سمیت اکثرقومی اور ریاستی معاملات جن میں کرپشن کے الزامات‘ انتظامی نااہلی‘آئین و قانون سے انحراف‘ میرٹ کی خلاف ورزی ا ور عوام کی فلاح وبہبود سے چشم پوشی وہ معاملات ہیں جن میں یہ دونوں جماعتیں ایک ہی صف میں کھڑی نظر آتی ہیں۔

‘یہاں عمران خان کے ان بیانات کو بطورحوالہ پیش نہ کرنا زیادتی ہو گی جن میں وہ تسلسل کیساتھ ان دونوں جماعتوں اور انکے سربراہان پر تنقید کے نشترچلاتے ہوئے ان پر باریاں لینے کیلئے ایک دوسرے کیساتھ مک مکا کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں ‘دریں اثناء قومی اسمبلی سے رد ہونیوالے حالیہ بل کے بعدوزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے توسط سے سینٹ میں زیر التواء قومی اسمبلی کے حلقہ بندیوں سے متعلق بل کی منظوری کے سلسلے میں جو مدد طلب کی ہے اور اسی روز میاں نواز شریف نے زرداری کیساتھ ملاقات اور میثاق جمہوریت پر عمل درآمد کے حوالے سے جو موقف اپنایا ہے یہ سب کچھ محض اتفاق ہے یا پھر یہ سب کچھ ایک طے شدہ انڈرسٹینڈنگ اور بارگیننگ کے تحت کیا جا رہاہے یہ وہ سوال ہے جسکی بنیاد پر یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے کہ در اصل یہ سب کچھ ایک طے شدہ ڈیل کے تحت ہی کیا جا رہا ہے۔

اگر ایسانہیں ہے تو کیا جب پیپلز پارٹی سینٹ میں اپنی اکثریت کی بنیاد پر عدالت سے نا اہل شخص کی پارٹی سربراہی کے حق میں بل پا س کر رہی تھی تو کیا اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس کیلئے قومی اسمبلی سے اس بل کی منظوری ممکن نہیں ہوگی‘اسی طرح جب نئی حلقہ بندیوں کے ایشوپر طویل ڈیڈ لاک کے بعد این ایف سی کے فورم پر اتفاق رائے ہو چکا ہے اور اسی تسلسل میں یہ بل قومی اسمبلی سے بھاری اکثریت سے منظور ہو چکا ہے تو سینٹ میں اس کی منظوری پر لیت ولعل سے کام لینے کا مقصد سوائے اسکے اور کیا ہو سکتا ہے کہ یہ سب کچھ محض دکھاوے یا پھر کچھ لو اور کچھ دو کے لئے کیا جا رہا ہے۔پاکستان کی گھمبیر سیاسی تاریخ اور خاص کر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ماضی کے کردار کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہنے میں کسی کو باک نہیں ہونا چاہئے کہ سیاست میں نہ تو کوئی بات حرف آخر ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی بھی سیاسی قوت بتاشے مفت میں بانٹنے کی متحمل ہو سکتی ہے لہٰذا ان دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان جاری سیاسی محاذ آرائی کے درپردہ کسی ممکنہ ڈیل کو خارج از امکان قرار دینا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہوگا۔