بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / پارلیمنٹرینز اثاثے

پارلیمنٹرینز اثاثے


الیکشن کمیشن آف پاکستان نے’’ حسب معمول‘‘ اراکینِ سینٹ ، قومی و صوبائی اسمبلی کو اپنے اثاثوں کی تفصیلات 30ستمبر تک جمع کرانے کی ہدایت کر رکھی ہے جس کے بعد اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے اراکین کواُس وقت تک معطلیوں کا سامنا کرنا پڑے گاجب تک وہ یہ تفصیلات کمیشن کو فراہم کر نہیں دیتے۔اراکین پارلیمنٹ کا الیکشن کمیشن کو اپنے اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنااور کمیشن کا انہیں داخل دفتر کر لینا روایتی قانونی تقاضا ہے۔ قومی اسمبلی ، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین قواعد کے مطابق اس تقاضے کی تکمیل کرتے ہیں اورالیکشن کمیشن آف پاکستان اراکین پارلیمنٹ کے اثاثوں کی تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر جاری کرکے فرائض سے عہدہ برا ہوجاتا ہے۔ میڈیارپورٹس میں بارہا اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو دی گئی اثاثوں کی تفصیلات خصوصاََ’’ ٹیکس ریٹرنز‘‘ سے متعلق اعداد و شمارکو حقائق کے منافی قرار دیاجاتا رہا ہے تاہم ان رپورٹس کے جواب میں الیکشن کمیشن کا موقف رہا ہے کہ وہ اپنے طور پر ان ٹیکس ریٹرنز کی تفصیلات کو جانچنے کی پوزیشن میں نہیں اگر کسی کا دعوی ہے کہ منتخب نمائندوں نے الیکشن کمیشن میں ٹیکس ریٹرنز کی تفصیلات جمع کراتے وقت اخفاء یا دروغ گوئی سے کام لیا ہے تووہ الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کرنے یا عدالت سے رجوع کرنے کے آپشنز استعمال کر سکتا ہے۔

اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے جمع کی گئی اثاثوں کی تفصیلات کمیشن کی ویب سائٹ پر عوام الناس کے روبرولا نے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایک یا زیادہ اراکین پارلیمنٹ کے ظاہر کردہ اثاثوں کی تفصیل کودرست نہیں سمجھتاتو وہ اسے کمیشن یامتعلقہ عدالت میں چیلنج کر سکتا ہے۔اسی گنجائش کی بنیاد پر بعض اوقات مختلف فورمز سے یہ دعوے سامنے آتے رہتے ہیں کہ فلاں فلاں سیاسی راہنما کے اثاثوں کی تفصیلات کی نجی طور تحقیق کی جائے گی اور اس حوالے سے نہ صرف حقائق سامنے لائے جائینگے بلکہ اگر اثاثوں کی تفصیلات زمینی حقائق سے متصادم ہوئیں تو انہیں عدالت میں چیلنج بھی کیا جائیگا ‘تاہم یہ دعوے دعوے ہی رہتے ہیں۔یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اثاثوں اور ذرائع آمدن کے حوالے سے اراکین پارلیمنٹ کی فراہم کردہ معلومات کی تحقیق نجی ادارے ، جماعتیں یا عوام کیوں کریں؟ کیا ریاست کی سطح پر ایسا نظام وضع کرنے کی ضرورت نہیں جس کے تحت نہ صرف اراکین پارلیمنٹ کی آمدن‘ اثاثوں اور ٹیکسوں وغیرہ سے متعلق الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی معلومات کی شفاف تحقیق و تصدیق یقینی ہو سکے بلکہ اگر تفصیلات حقائق کے برعکس ثابت ہوں تو متعلقین کو فوری سزائیں بھی دی جاسکیں؟۔

منتخب عوامی نمائندوں کے مال و متاع میں اضافے کا احوال وقتاََ فوقتاََ میڈیا رپورٹس کا حصہ بنتا رہتا ہے جن سے واضح ہو تا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ، افراط زر، صنعتوں کی بدحالی، اداروں کی زبوں حالی اور کاروبار میں مندی کے رحجانات کبھی بھی اراکین پارلیمنٹ کے اثاثوں اور جمع پونجی پر منفی اثرات مرتب نہیں کر سکے‘ مختصراََ یہ کہ غربت ٗ مہنگائی اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے ٗ اشیاء صرف کے حصول کی ضرورت عوام کی قوت خرید پر کاری ضربیں لگا ر رہی ہے اورمنافع خوروں ، آڑھت مافیا، قبضہ مافیا،بھتہ ما فیا اور ان جیسے دیگرگروہوں نے کمزورو لاچار طبقات کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں‘ ایسی صورت حال میں اسمبلیوں اور سینٹ میں براجمان عوام کے منتخب نمائندوں کے مالی حالات میں ’’غیر متوازن‘‘ بہتری دیکھنے میں آرہی ہو تومعاملے کا باعث تشویش ہونا یقینی ہے۔یہ تشویش یقیناًریاستی نظام میں ایسی اصلاحات کی متقاضی ہے جن کے طفیل منتخب نمائندوں کے اثاثوں کی تواتر کے ساتھ چھان بین یقینی ہو اور اثاثوں سے متعلق غلط اعداد و شمار پیش کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی ہو سکے۔