بریکنگ نیوز
Home / کالم / موروثیت پر مبنی سیاست

موروثیت پر مبنی سیاست


راجیو گاندھی کو 1991ء میں قتل کردیاگیا تھا وہ کانگریس پارٹی کے بھی روح رواں تھے اور بھارت کے وزیراعظم بھی۔ اس وقت ان کے بیٹے راہول گاندھی کی عمر 21برس کے لگ بھگ تھی، یعنی کم وبیش وہی عمر تھی جو بلاول بھٹو کی اپنی والدہ کی موت کے وقت تھی‘ پر ذرا راجیو گاندھی کی بیوی سونیا گاندھی کی سیاسی فہم وفراست اور دوراندیشی کو دیکھیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے راہول گاندھی کو یکدم راجیو گاندھی کا سیاسی وارث نہ بنایا اس کو گزشتہ 26برس سے وہ سیاست کی بھٹی سے گزار رہی ہیں انہوں نے سب سے پہلے راہول گاندھی کو کانگریس پارٹی میں بطور عام سیاسی ورکر بنایا تاکہ وہ عوام الناس کے درمیان بیٹھے۔ اسے خبر ہو کہ عام آدمی کے کیا مسائل ہوتے ہیں اس کی زندگی کیسے گزرتی ہے حالانکہ راہول گاندھی منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوا تھا، آج راہول گاندھی 47برس کا ہوگیا ہے اور آج جاکر کہیں سونیا گاندھی نے اسے کانگریس پارٹی کے اندر ایک اہم انتظامی کیڈر پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور عین ممکن ہے کہ اگلے ماہ وہ اس پارٹی کے صدر چن لئے جائیں‘ بھارت کے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ گزشتہ 26برس تک سیاست کی چکی پیستے پیستے آج کہیں جاکر راہول گاندھی اس قابل ہوئے ہیں کہ ان کو کانگریس کی صدارت سونپی جائے‘ راہول گاندھی یکدم خاموش اور سنجیدہ قسم کے انسان بن گئے ہیں ان کی تقاریر سے ان کی سیاسی بلوغت جھلکنے لگی ہے اور شردپوار جیسے سینئر سیاستدان اب انہیں سنجیدہ لینے لگے ہیں‘ ۔

یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک بڑے عرصے کے بعد بھارتی جنتا پارٹی کے سرکردہ رہنما بشمول نریندرمودی کانگریس پارٹی سے خوف کھانے لگے ہیں‘ کانگریس نے 2014ء کے الیکشن میں نہایت ہی کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور اس الیکشن میں اسے ہار کی صورت میں جو زخم لگے تھے وہ اب تک انہیں چاٹ رہی ہے‘ بھارت میں نریندر مودی اور ان کی سیاسی پارٹی اور حلیف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی مذہبی انتہا پسندی سے بھارت کی ایک بڑی آبادی نالاں دکھائی دیتی ہے‘ لگتا یہ ہے کہ راہول گاندھی کی قیادت سے کانگریس کے مردہ جسم میں ایک نئی جان پڑ جائے گی اور وہ آئندہ ہونیوالے بھارتی الیکشن میں اتنی نشستیں ضرور جیتے گی کہ وہ مرکز میں حکومت بنانے کے قابل ہو جائے‘ اگر آپ کانگریس پارٹی کے صدور کی فہرست پر نظر ڈالیں تو آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اس پارٹی میں موروثیت کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ‘ یہ کبھی نہیں ہوا کہ بس ایک ہی خاندان کی ہر وقت پارٹی کے اندر بھی حکومت رہے ذرا ہم آپ کو کانگریس کے صدور کے نام گنوا دیتے ہیں۔

جس سے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ کون کون اس پارٹی کا صدر رہا ہم ریورس آرڈرسے نام لکھنا شروع کرتے ہیں سونیا گاندھی‘میتا رام کیری‘ نری سیما راؤ‘ راجیو گاندھی‘ اندرا گاندھی‘ شنکر دیال شرما‘ جگ جیون رام‘کامراج‘ریڈی‘نہرو‘کرپلانی‘ ابوالکلام آزاد‘ سبھاش چندر بوس‘راجندرپرشاد‘ پٹیل‘موتی لال‘ گاندھی جی‘ محمد علی جوہر‘ حکیم اجمل خان‘ لالہ لاجپت رائے‘ سید حسن امام‘ مدھوبکر‘ نرائن ڈار‘ مدن موھن‘ دادا بائی ناروجی‘ گھوکھلے‘ لال موھن گوش ‘ رحمت اللہ سایانی‘سریندر ناتھ بینرحی‘ بدر الدین ‘طیب جی وغیرہ ان صدور میں مسلمان بھی تھے اور ہندو بھی۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ بس ہر وقت ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد یکے بعد دیگرے کانگریس کے صدر رہیں‘ یہ ٹھیک ہے کہ نہرو خاندان کے کئی افراد اس پارٹی کے صدر بنے پر انہوں نے کبھی بھی باہر سے آنے والے کا راستہ نہیں روکا۔