بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / اہم اجلاسوں کے فیصلے

اہم اجلاسوں کے فیصلے


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں15 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے جبکہ5 لاکھ ٹن گندم فروخت کرنے کی منظوری دیدی گئی ہے ‘ اجلاس میں ایل پی جی کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ کی منظوری بھی دیدی گئی جس کی شرح کا اعلان نہیں ہوا‘ عین اسی روز خیبر پختونخوا کابینہ کے اجلاس میں صوبے کے 36 ہزار اساتذہ اورملازمین کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی ‘ صوبے میں آبیانہ اور دیگر ریونیو اکٹھا کرنے کا اختیار ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا گیا جبکہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے 23 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی پولیس میں اَپ گریڈیشن کے حوالے سے تجاویز طلب کر لی گئی ہیں حکومتی اقدامات کی تشہیر سے متعلق نئی پالیسی کی منظوری کیساتھ ملازمت پیشہ خواتین کے تحفظ کیلئے محتسب مقرر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا اقتصادی رابطہ کمیٹی ہو یا خیبر پختونخوا کابینہ اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں ہونے والے فیصلوں میں گرانی یا نئے ٹیکسوں کے نفاذ کا کوئی بھی فیصلہ ہو تو اس کے اثرات اعلان کیساتھ ہی ظاہر ہو جاتے ہیں اور کسی بھی چیز پر معمولی شرح سے ٹیکس یا ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہونے پر اسکی قیمت میں شرح سے زیادہ ہی اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

دوسری جانب کسی بھی مثبت فیصلے کے ثمرات عام شہری تک پہنچ ہی نہیں پاتے اور خوش کن اعلانات اور فیصلے چند روز ہی میں بھلادیئے جاتے ہیں ‘ ایل پی جی پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہونے پر قیمتوں میں اضافہ گرانی کے طوفان میں مزید شدت کا باعث بنے گادوسری جانب خیبر پختونخوا میں36 ہزار اساتذہ اور ملازمین کی اَپ گریڈیشن قابل اطمینان ضرور ہے تاہم اس میں دفتری کاروائی جلد نمٹانا اس لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ ملازمین اور ٹیچرز اس کا بروقت فائدہ حاصل کر پائیں اس کیساتھ 23 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کا استعمال ایک جانب ان کے استعمال میں ترجیحات کے تعین کیساتھ فنڈز کا استعمال موثر منصوبہ بندی کا متقاضی ہے اعلیٰ سطحی فیصلے مرکز میں ہوں یا پھر کسی بھی صوبے میں ضرورت ان کے مثبت ثمرات عوام تک پہنچانے اور فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے ٹائم فریم کیساتھ فول پروف مکینزم ترتیب دینے کی ہے ۔

آلودگی میں اضافہ

پشاور میں بس منصوبے کے تحت تعمیرات سے پیدا ہونے والی مشکلات سے انکار ممکن نہیں کسی بھی آبادی میں تعمیر و ترقی کے مراحل میں اس طرح کی مشکلات کا آنا معمول کا حصہ ہے ‘ پشاور کے شہری بھی صورتحال کو عارضی اور مثبت سمت میں قدم کے طورپر برداشت کر رہے ہیں تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مناسب ہوم ورک اور عملی اقداما ت مشکلا ت کی شدت کو کم کرنے میں معاون ضرور ہو سکتے ہیں ٹریفک کا مسئلہ متبادل روٹس کو بہتر سے بہتربنا کر کسی حد تک حل ہو سکتاہے دوسری جانب کنسٹرکشن ورک کے باعث فضاء میں گردو غبا ر کی شدت تعمیراتی منصوبے کے ارد گردکے علاقوں میں محسوس کی جا سکتی ہے ‘ اس گرد و غبار پر قابوپانے کیلئے پراجیکٹ کی سائٹس پر چھڑکاؤ اور صفائی کا انتظام ضروری ہے جی ٹی روڈ پر پودوں کو پانی دینے کیلئے گاڑیاں باقاعدگی سے آتی ہیں اَب جبکہ اکثر پودے رہے ہی نہیں لہٰذا ان گاڑیوں کے ذریعے چھڑکاؤ کیا جا سکتا ہے اس کیساتھ سیوریج لائنوں کو تعمیراتی ملبے سے بچانا ضروری ہے لوگوں کو درپیش مشکلات اس بات کی بھی متقاضی ہیں کہ ٹریفک پلا ن پر فوری نظر ثانی کی جائے اور اس میں موجودسقم دور کئے جائیں۔