بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / انصاف کارڈ کی مستقلی کیلئے قانون سازی کا فیصلہ

انصاف کارڈ کی مستقلی کیلئے قانون سازی کا فیصلہ


پشاور ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے غریب اور مستحق لوگوں کے علاج کیلئے صحت انصاف کارڈ پروگرام کے تحت 25لاکھ کارڈتقسیم کرنے کے تیسرے مرحلے کا آغاز کرنے کے ساتھ ہی اس میں مستحقین کی کمی بیشی دور کرنے اور معذور افراد کو خصوصی طور پر شامل کرکے اُن کا سو فیصد کوٹہ مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس پروگرام کو باقاعدہ قانون سازی کے تحت مستقل بنایا جا رہا ہے تاکہ بعد کی حکومتیں اسے ختم نہ کرسکیں اسی طرح صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں مفت ایمرجنسی علاج اور آلات کی خریداری کیلئے مزید 9 ارب روپے جاری کئے جارہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ تنقید برائے تعمیر کو شعار بنائیں اور حکومتی خامیوں کی نشاندہی کے علاوہ سابقہ اور موجودہ حکومت کے اقدامات کا موازنہ بھی ضرور کریں میڈیا سابقہ حکومتوں کا گند ہمارے کھاتے میں نہ ڈالیں بلکہ ماضی وحال کے ادوار کا فرق واضح کریں تاکہ عوام کی صحیح معنوں میں رہنمائی ہو سکے ۔ماضی میں سکول و ہسپتال اور سڑکوں کی تعمیر کی آڑ میں کرپشن اور کمیشن کا بازار گرم رکھا گیا ۔

ایسی عمارات اور سڑکوں کا کیا فائدہ جن سے عوام کو ریلیف نہ ملے بلکہ اُلٹا قوم پر بوجھ اور عوامی پریشانیوں کا سبب بنیں۔ہم تعلیم اور صحت کو میگا پراجیکٹ سمجھتے ہیں جس میں اسی بنیاد پر ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے تاہم سوات موٹروے اور پشاور ریپڈ بس ٹرانزٹ جیسے منصوبے میگا پراجیکٹ نہیں تو کیا ہیں ۔وہ وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں صحت انصاف کارڈ کی تقریب تقسیم سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔

تقریب سے سینئر صوبائی وزیر صحت شہرام خان ترکئی ، صحت انصاف پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر ریاض تنولی ، پروگرام کے جرمن سرپرست ادارے جی آئی زی کی الیگزینڈرا اور دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا اور غریب عوام کے علاج کیلئے پروگرام کی اہمیت کے علاوہ صوبائی حکومت کے عوام دوست اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس سکیم کے پہلے دو مرحلوں کی شاندار کامیابی کے بعد آج تیسرے مرحلے کا اجراء کیا جارہا ہے جس سے مجموعی طور پر ایک کروڑ 99 لاکھ افراد یعنی صوبے کی آبادی کا 69 فیصد صحت انصاف کارڈ سے مستفید ہوگا۔

تیسرے مرحلے کے تحت عوام میں مزید 10 لاکھ کارڈ تقسیم کئے جارہے ہیں۔ اس کارڈ کی بدولت غریب افراد سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں سالانہ پانچ لاکھ روپے سے زائد تک مفت علاج کی سہولت حاصل کر سکیں گے ۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں خیبرپختونخوا کاحکمرانی کا سارانظام جمود کا شکار رہا۔دیگر شعبوں کی طرح صحت کا شعبہ بھی سیاسی مداخلت کا شکار اور تباہ حال تھا۔ہماری حکومت نے صحت کے شعبے میں قابل عمل اصلاحات کی ہیں جس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ان اصلاحات کے نتائج بھی ملنا شروع ہوگئے ہیں۔