بریکنگ نیوز
Home / کالم / کشمیر تنازعہ: مختلف جنگی محاذ!

کشمیر تنازعہ: مختلف جنگی محاذ!


جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں لیکن یہ کسی کی خواہش نہیں ہونی چاہئے کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کی تباہی میں اپنی فتح کے آثار دیکھیں۔ تعجب خیز ہے کہ بھارت کے انتہاء پسند اور سیاسی حکومت کا جنگی جنون ختم ہونے کو نہیں آرہا۔ مقبوضہ کشمیر میں فوجی نقل و حرکت تیزکردی‘ بھارتی فوج نے کئی جگہوں پر بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیار اگلے مورچوں پر پہنچانا شروع کر دیئے۔ بوفرز توپیں ایل او سی پر نصب کر دی گئیں‘ سونہ مرگ میں بھی بڑے ہتھیار نصب کر دیئے گئے‘ ان مقامات سے آزاد کشمیر میں دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے زیادہ وقت ملٹری آپریشن روم میں گزارا جہاں وہ لائن آف کنٹرول پر فوج کی نقل و حرکت کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیتے رہے۔ اُنہیں سرجیکل سٹرائیکس پر بریفنگ دی گئی۔ دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف نے اپنے دورہ امریکہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب اور دیگر ملاقاتوں میں ہونے والی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’جنرل اسمبلی میں خطاب اور تمام رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا تاہم حکومت پاکستان اپنے ’’مشن کشمیر‘‘ کے حوالے سے اس پر اکتفا نہیں کرے گی بلکہ اس حوالے سے مزید اقدامات بھی کئے جائیں گے۔ وزیراعظم نوازشریف اور اُن کی ٹیم کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر‘ کشمیریوں کی خواہشات اور قوم کی اُمنگوں کے مطابق اٹھایا گیا۔ مسئلہ کشمیر اٹھانے کی کامیابی کا اندازہ بھارت کے واویلے سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ جھوٹ اس کی فطرت ہے‘ کبھی جھوٹ پر ڈٹا رہتا ہے اور کبھی ثبوت سامنے آنے پر مکر جاتا ہے۔ جھوٹ اور لغویات میں بھارتی حکومت اور میڈیا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے ہمیشہ کوشاں دکھائی دیئے ہیں۔

اُوڑی حملے کے پاکستان پر بے بنیاد الزامات کوئی نئی بات نہیں۔ ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں کے الزامات بھی پاکستان پر لگائے گئے‘ ان کے بھی بھارت پاکستان کو ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کر سکا۔ دونوں حملوں کی تحقیقات کے لئے پاکستانی ٹیمیں بھارت گئیں جن سے بھارتی حکام نے تعاون نہیں کیا۔ اجمل قصاب تک رسائی نہ دی گئی جسے عجلت میں پھانسی دیدی گئی۔ سمجھوتہ ایکسپریس حملے میں انڈین فوجی مجرم نکلے۔ پاکستان نے ہر حملے کے بعد عالمی عدالت میں معاملہ لے جانے پر زور دیا اس پر بھارت کبھی تیار نہ ہوا۔ پاکستان نے اوڑی حملے کی تحقیقات بھی عالمی عدالت سے کرانے کی پیشکش کی ہے اگر بھارت کے موقف میں ذرہ بھر بھی صداقت ہو تو وہ پاکستان کی پیشکش قبول کرے مگر وہ حقائق‘ اپنی سازش اور ڈرامہ بازی سامنے آنے کے خطرے کے باعث ایسا کرنے پر آمادہ ہے اور نہ کبھی ہوگا۔ آج 1965ء والی صورتحال نہیں‘ جب بھارت نے اچانک حملہ کردیا تھا‘ اس کو بھی پاک فوج اور قوم نے مل کر ناکام بنایا اور اسے شکست فاش سے دوچار کیا۔ مسلح افواج ممکنہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہیں‘ قوم اپنی فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ پاکستان نے یواین او میں مسئلہ کشمیر پوری قوت سے اٹھانے‘ بھارتی سازشوں کو بے نقاب کرنے اور جدوجہد آ زادی کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ حکومتی سطح پر یہ سلسلہ نہ صرف جاری رہنا چاہئے بلکہ اسے مزید تیز کیا جائے۔

بھارت نے بلوچستان میں علیحدگی کی آگ بھڑکانے کے لئے سرگرم براہمداغ بگٹی کی پناہ کی درخواست قبول کرلی اور بلوچستان میں ریڈیو نشریات شروع کرکے علیحدگی پسندوں کو پاکستان کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا‘ اس سے زیادہ عالمی برادری کو بھارت کے پاکستان میں مداخلت کے اورکیا ثبوت درکار ہیں؟ کشمیر مقصد پر قوم کا اتحاد اور حکومت کی یک سوئی اپنی مثال آپ ہے۔ حریت قیادت نے بھی وزیراعظم نوازشریف کو اُن کی حقیقی ترجمانی کرنے پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کی ایک فضا بنتی نظرآرہی ہے لیکن اِس ماحول میں داخلی قومی سلامتی کے تقاضوں کو پس پشت نہیں ڈالنا چاہئے کیونکہ پاکستان کا مقابلہ جس دشمن سے وہ ہے وہ شاطرانہ چالیں کرنے کا ماہر ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ سرحد پر ہی حملہ آور بلکہ دیگر کئی سمتیں ایسی بھی ہیں‘ جن سے مختلف انداز میں حملہ آور ہو رہا ہے اور اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو پاکستان پر جنگ مسلط کرنے میں بھارت اکیلا نہیں بلکہ اس کی معاونت کرنے والے ہر شعبے میں پاکستان کو ناکام دیکھنا چاہتے ہیں۔ اِمتحان کی اِس گھڑی میں سیاسی و عسکری قیادت کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں جو بیک وقت ایک سے زیادہ محاذوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔