بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بلوچستان خودکش دھماکہ

بلوچستان خودکش دھماکہ


بلوچستان کے ضلع خضدار میں درگاہ شاہ نورانی میں ہونے والے خودکش دھماکہ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد50 سے زیادہ ہوگئی ہے جس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ مزار کے احاطے میں شام کو دھمال ڈال رہے تھے بلوچستان میں ایڈمنسٹریشن کسی بھی مقام پر دہشتگردی کے حوالے سے الرٹ پہلے ہی جاری کر چکی تھی اس دھماکہ سے متعلق اصل صورتحال تو انکوائری رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئیگی تاہم مزار پر اجتماع کے موقع پر سکیورٹی انتظامات کے ساتھ وطن عزیز کے دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان بھی سوالیہ نشان ہے کراچی سے 200 کلومیٹر دور دشوار گزار علاقے میں امدادی سرگرمیوں میں پیش آنیوالی مشکلات کا جائزہ لیکر پورے ملک کے دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات اور ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے انتظامات پر مشتمل جامع پروگرام کی ضرورت ہے بلوچستان میں خودکش دھماکہ عین اس روز ہوا جب سی پیک کی شروعات میں چین سے کنٹینروں پر مشتمل پہلا تجارتی قافلہ گوادر کی بندرگاہ پر پہنچا دھماکے کے اگلے روز یعنی اتوار کو گوادر ہی سے وطن عزیز کی سب سے بڑی ایکسپورٹ کا آغاز شیڈول تھا۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کسی بھی ریاست میں معاشی استحکام اور تجارتی سرگرمیاں امن وامان کی صورتحال اور مستحکم اقتصادی پالیسیوں سے جڑی ہوتی ہیں اس سب کیلئے سیاسی استحکام بھی ناگزیر ہوتا ہے امن کے قیام کیلئے متفقہ طور پر طے کردہ نیشنل ایکشن پلان پوری طرح عمل درآمد کا متقاضی ہے تودوسری جانب سیاسی استحکام کیلئے افہام و تفہیم کی پالیسی ناگزیر ہے کیا ہی بہتر ہو کہ سیاسی قیادت ایک بارپھر ایک ہی چھت تلے اکٹھی ہو کر امن کے قیام اور معیشت کے استحکام جیسے معاملات پر جامع حکمت عملی ترتیب دے اور سکیورٹی اداروں کو ان کے فرائض کی ادائیگی میں بھرپور سپورٹ کیساتھ سہولیات بھی دے سکیورٹی کے معاملات پر کمیونٹی کی شرکت کیساتھ یہ بھی قاعدہ بنایا جائے کہ اجتماعات کے ذمہ دار افراد کو اپنے رضا کاروں کے ذریعے بھی نگرانی کے کام میں شامل کیا جائے بلوچستان کے واقعات میں کسی بھی مرحلے پر بیرونی مداخلت کامعاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے۔

اداروں کا آپریشن سوالیہ نشان

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ نظام کی تبدیلی کیلئے مسیحا نہیں آئیگانظام سیاستدانوں نے بگاڑا ہے سیاسی قیادت خود کو غیر فعال نظام سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی وزیر اعلیٰ نے پرائمری نظام تعلیم ضلعی حکومتوں کے سپرد کرنے کا عندیہ بھی دیا اور کہا کہ اساتذہ کیساتھ ڈاکٹروں کو بھی ڈنڈے کے زور پر حاضری کا پابند بنایا گیا ہے وزیر اعلیٰ نے نہایت کھلے دل کیساتھ نظام کی خرابی کا اقرار کیا ہے جو قابل تحسین ہے تاہم حکومت کو اپنے اصلاحاتی ایجنڈے میں یہ بات شامل رکھنا ہوگی کہ مرض کا علاج پورے دفتری نظام کو سافٹ وئیرز پر لانے اور ہر کام کیلئے ٹائم فریم دینے میں ہے اگر کسی دفتر میں پورا عملہ حاضر ہو بھی جائے اور وہاں کے کام بروقت انجام نہ پائیں تو ساری سعی لاحاصل ہی رہیگی۔

اساتذہ حاضر ہو کر معیاری تعلیم نہ دیں اور ڈاکٹر خدمات نہ فراہم کریں تو اصلاح احوال مکمل نہیں ہوگی حکومت کو اپنے اقدامات ثمرآور بنانے کیلئے سروسز اور منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کیلئے مانیٹرنگ سسٹم دینا ہوگا جس میں فائلوں کی گردش کی سپیڈ چیک کرنا ہوگی یہ دیکھنا ہوگا کہ وزیر اعلیٰ اور دوسرے حکام کے احکامات پر عملدرآمد میں کتنا وقت لگتا ہے اور یہ عام آدمی کیلئے کتنے ثمرآور ثابت ہورہے ہیں۔