بریکنگ نیوز
Home / شوبز / جنید جمشید کی زندگی پر مبنی فلم ‘آنسو’ ریلیز

جنید جمشید کی زندگی پر مبنی فلم ‘آنسو’ ریلیز


مرحوم نعت خواں جنید جمشید کی زندگی پر مبنی دستاویزی فلم ‘آنسو’ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ریلیز کردی گئی۔

جنید جمشید کی زندگی پر مبنی ڈاکیو مینٹری فلم ‘آنسو’ مشہور بینڈ ‘جنون’ کے گٹارسٹ سلمان احمد نے بنائی ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس فلم میں انھوں نے وہ کام مکمل کیا ہے جو جنید جمشید کی اچانک موت کی وجہ سے ادھورا رہ گیا تھا۔

سلمان احمد نے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جنید جمشید کی کچھ یادیں شیئر کیں اور بتایا کہ جنید جمشید اور وائٹل سائن بینڈ کے ساتھ ان کا سفر بہترین تھا جسے وہ کبھی نہیں بھلا سکتے۔

انہوں نے بتایا کہ ‘وائٹل سائن کی پہلی البم کالج کے زمانے میں ریلیز ہوئی تھی اور میں اس میں شریک تھا،  ‘دل دل پاکستان’ ہماری پہلی البم کا گیت تھا جس کے بعد ہمیں محترمہ بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم ہاؤس میں پرفارم کرنے کے لیے مدعو کیا جو ہمارے پورے بینڈ کے لیے باعث فخر تھا’۔

سلمان احمد نے بتایا کہ جنید جمشید اور ان کے پورے بینڈ کو پاکستان میں خوب شہرت ملی اور انہوں نے ملک کے ہر کونے میں جا کر پرفارم کیا، ‘ہم جدھر جاتے تھے لوگ پہچان جاتے تھے اور ہم سب کو یہ ایک خواب لگتا تھا’۔سلمان احمد نے مزید کہا کہ جب جنید جمشید نے اپنی زندگی کا رخ تبدیل کیا تو انہیں کوئی تعجب نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جنید جمشید کو اسلامی تعلیمات میں شروع سے ہی دلچسپی تھی، میں انہیں ‘اسلامک ہسٹری سرچ انجن’ سمجھتا تھا کیونکہ انہیں اسلامی تاریخ کے حوالے سے سب کچھ معلوم ہوتا تھا۔

سلمان احمد نے کہا، بعد ازاں جنید جمشید کا رجحان آہستہ آہستہ فکر آخرت کی طرف ہوگیا اور وہ روحانی سفر پر گامزن ہوگئے لیکن اس سب کے باوجود انہوں نے کبھی اپنے دوستوں کو نہیں چھوڑا جب کہ اس طرح تبدیل ہونا آسان نہیں ہوتا کیونکہ لوگ اس وقت تنقید کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے، لیکن اس سب کے باوجود جنید جمشید نے دینوی اور دنیاوی سفر کو بخوبی نبھایا۔

جنید جمشید کی موت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا، ‘میں خود ایک فلائٹ میں موجود تھا جب مجھے انٹرنیٹ کے ذریعے پتہ چلا کہ جنید جمشید ایک طیارہ حادثہ میں دنیائے فانی سے کوچ گئے’۔

دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ‘اس خبر کے بعد میں ہل کے رہ گیا، مجھے ایسا لگا کہ ہمارا 30 سالہ سفر دفن ہوگیا، پھر اس کے بعد میں نے سوچا کہ یہ سال میں اپنے دوست کے نام وقف کروں گا اور میں نے دستاویزی فلم ‘آنسو’ بنائی’۔

ڈاکیومنٹری فلم ‘آنسو’ مشہور صوفی شاعر بابا بلھے شاہ کی نظم ‘کدی آ مل یا پیاریا’ پر ترتیب دی گئی ہے۔