بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / ہم کہاں کھڑے ہیں

ہم کہاں کھڑے ہیں


حیرانی ایک نعمت ہے حیران نہ ہونا محرومی اور بے حسی ہے حیرانی جستجو ہے یہ سوچنے اور کچھ کرنے پر آمادہ کرتی ہے مفکر اور فلسفہ دان اگر حیران نہ ہوتے توعلم و ہنر کے موتی دریافت نہ کر سکتے علامہ اقبال جیسے صاحب فکر‘ عالی دماغ اوردانائے راز کا کلام حیرت و استعجاب سے لبریز ہے اس دنیائے رنگ و بو کی پیچیدگی اور پر اسراریت کے دبیز پردوں کو تہہ در تہہ کھول دینے کے باوجود وہ یہ کہے بغیر نہ رہ سکے
یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دما دم صدائے کن فیکون
دنیائے ادب کے با کمال شاعر منیر نیازی اگر حیران نہ ہوتے تو اتنا خوبصورت اورفکر انگیز شعر نہ کہہ سکتے
ایک میں اور اتنے سارے سلسلوں کے سامنے
ایک صورت گنگ جیسے گنبدوں کے سامنے
اہل فکرو نظر ہمیشہ صورت گنگ لا متناہی گنبدوں کے سلسلوں میں راستے تلاش کرتے رہتے ہیں فیض احمد فیض نے اس گتھی کو یوں سلجھانے کی کوشش کی ہے
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
احمد ندیم قاسمی کے ذوق نظارہ کا تحیر اور تشنگی اس شعر میں عیاں ہے جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہے
مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا

یہ کائنات اتنی دلفریب‘ رنگا رنگ اور پر اسرار ہے کہ کسی کیلئے بھی اسے سمجھنا آسان نہیں زندگی کی دوڑ میں جو لوگ ہم سے بہت آگے ہیں‘ جنہوں نے صدیوں کی سوچ بچار اور جہدمسلسل کے بعد اپنے لئے ایک رنگین اور پر آسائش دنیا تخلیق کر لی ہے وہ اگر کسی قدیم اور پسماندہ معاشرے کے بارے میں حیرانی کا اظہار کریں تو سوچنا پڑتا ہے کہ ایسا کیا ہے جو ہمیں نظر نہیں آ رہاآجکل چین اور انڈیا کا دورہ کرنے والے مغربی صحافیوں نے لکھا ہے کہ یہ دونوں ممالک ترقی کی دوڑ میں مغرب کو پیچھے چھوڑرہے ہیں ایک امریکی کالم نگار رقمطراز ہے کہ انکا صدر گالف کھیلنے‘ ہر روز ٹویٹ کرنے اور میڈیا کے لتے لینے میں مصروف ہے اور اسے یہ معلوم نہیں کہ چین بہت جلد ایک cashless society بن جائیگا ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ بہت سی چیزیں اپنے سیل فون پر خریدیں گے آجکل بھی جہاں لوگ بھکاریوں کو بھیک بھی سیل فون کے ذریعے دیتے ہیں اور خردہ فروش مشینوں(vending machines) کو اپنا چہرہ دکھا کر اشیائے خوردو نوش خرید لیتے ہیں امریکی دانشور نے لکھا ہے کہ These are big trends یہ بڑے رجحانات ہیں اور انکے پیچھے کروڑوں صارفین کی پسند نا پسند‘ ضروریات زندگی‘ آمدو رفت اور خریدو فروخت کا ڈیٹا جمع کرنے کی کوشش کارفرما ہے یہ کام کرنے والے ادارے بہت کم قیمت پرانشورنس‘ تفریح‘ بینکنگ‘ تعلیم ‘ کارو بار اور علاج معالجے کی سہولتیں اور انکے بارے میں معلومات مہیا کر رہے ہیں انڈیا کا دورہ کرنے والے صحافی ٹام فریڈمین نے لکھا ہے I was blown away by one big change in India in particular یعنی میں انڈیا میں بطور خاص ایک بڑی تبدیلی دیکھ کر ششدر رہ گیا کالم نگار کے مطابق 2009 میں اسوقت کی حکمران جماعت کانگرس پارٹی نے National Digital Identity System یعنی قومی ڈیجیٹل شناخت کا نظام شروع کیا تھا اسکے تحت ہر امیر و غریب شہری کو ایک سرکاری دفتر میں جاکر اپنی انگلیوں کے نشانات اور آنکھ کی پتلی کی تصویربنوانی ہوتی تھی ان معلومات کو پھر سکین کر کے قومی بائیو میٹرک ڈیٹا بیس کا حصہ بنا دیا جاتا تھا اسکے بعد ہر شہری کو بارہ ہندسوں والا ایسا شناختی کارڈ مل جاتا تھا جس پر اسکا نام پتہ‘ تاریخ پیدائش اور جنس لکھی ہوتی تھی کانگرس پارٹی کے بعد نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس کام کو جاری رکھا اور بہت جلد سوا ارب آبادی کے ملک میں 1.18 لوگوں کو رجسٹرڈ کر کے ڈیٹا بیس کا حصہ بنا لیا ٹام فریڈمین کی رائے میں انڈیا میں آبادی کی اکثریت کا شناختی کارڈ حاصل کر لینا اسلئے ایک انقلاب ہے کہ وہاں چند سال پہلے بہت سے لوگوں کے پاس پیدائشی سرٹیفیکیٹ یا ڈرائیور لائسنس نہ تھا اب ہر انڈین بینک اکاؤنٹ بھی کھول سکتا ہے اور اگر کسی کو سرکار کی طرف سے کوئی امداد ملتی ہے تو اب وہ براہ راست اسکے اکاؤنٹ میں جمع ہو جاتی ہے۔

اس طرح اب کسی کو سرکاری افسر‘بینکریاڈاکئے کو رشوت نہیں دینی پڑتی نہ صرف یہ بلکہ اب ہر شہری کا بینک اکاؤنٹ اسکے موبائل فون سے لنک کر دیا گیا ہے اس سہولت کی وجہ سے لوگ فون پر خرید و فروخت کرنے کے علاوہ پیسے ایک دوسرے کے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر بھی کرتے ہیں کالم نگار نے لکھا ہے کہ انڈیا میں ایک پرائیویٹ کمپنی نے ایسا ڈیجیٹل نیٹ ورک پلیٹ فارم بنایا ہے جسے ایک ارب سے زیادہ صارف استعمال کرتے ہیں اور یوں آدھار نامی کمپنی نے گوگل‘ فیس بک اور وٹس ایپ سے زیادہ ممبر بنا کر انہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے اس وقت انڈیا میں دو لاکھ پچاس ہزار ایسے کمیونٹی سینٹر کام کر رہے ہیں جہاں کمپیوٹر اور وائی فائی کی سہولتیں موجود ہیں لوگ وہاں جا کر حکومت کے ڈیٹا بیس کی ویب سائٹ میں اپنا شناختی کارڈنمبر درج کر کے پیدائشی سرٹیفیکیٹ ‘ زمین یا گھر کے کاغذات بلا تاخیر حاصل کر سکتے ہیں چند دوسری پرائیویٹ کمپنیوں نے تعلیم‘ صحت اور انرجی سیکٹرز میں نہایت سستے داموں ہر خاص و عام کو سہولتیں مہیا کی ہوئی ہیں فریڈمین نے انتیس نومبر کے کالم میں لکھا ہے کہ ہم امریکی آجکل دن رات صدر ٹرمپ کی خرافات سننے میں لگے ہوئے ہیں اور ہمیں یہ معلوم نہیں کی انڈیا اور چین جیسے ملک تیزی سے ہمیں پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔

امریکی صحافی کو یہ جان کر مزید حیرانی ہو گی کہ ہم پاکستانی گذشتہ ستر سال سے ایک ایسے چوک میں پھنسے ہوئے ہیں جس سے نکلنے کا راستہ ہمیں نظر نہیں آ رہاجب ہماری آبادی چھ کروڑ تھی اسوقت بھی ہم اسی چوک میں ایک دوسرے کیساتھ مشت و گریبان تھے اور اب جب کہ ہماری آبادی بائیس کروڑ ہو چکی ہے ہم اسی چوک میں آپا دھاپی کر رہے ہیں یہ بھی غنیمت ہے کہ دنیا نے ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا ہے ورنہ ہمارے آنگن میں جھانک کر باہر والوں کو اتنی حیرانی ہو گی کہ انہیں انڈیا اور چین بھول جائیگااس صورت حال کو ایک شاعر نے یوں بیان کیا ہے
یاران تیز گام نے محمل کو جا لیا
ہم محو نالہ جرس کارواں رہے