بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / فاٹا اصلاحات پر عملد رآمد کی رفتار؟

فاٹا اصلاحات پر عملد رآمد کی رفتار؟


گورنر خیبر پختونخوا انجینئر اقبال ظفرجھگڑا کی صدارت میں ہونیوالے ایک اہم اجلاس میں فاٹا اصلاحات سے متعلق اب تک کی پیش رفت پر غور کیاگیااس اجلاس میں فاٹا ریفارمز کمیٹی کے چیئرمین سرتاج عزیز فاٹا سیکرٹریٹ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری سکندر قیوم اور دوسرے افسروں نے بھی شرکت کی ‘ اجلاس سے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ گورنر اقبال ظفرجھگڑا نے متعلقہ حکام کو اصلاحات پر عملدرآمد کی رفتار تیز کرنے کا کہا ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات سے تعمیر و ترقی کے راستے ہموار ہوں گے ‘ فاٹا اصلاحات بلاشبہ ایک بڑا فیصلہ ہے اس فیصلے کیلئے رابطوں اور مشاورت کا ایک طویل سلسلہ چلا اس میں اصلاحات کے حوالے سے قائم کمیٹی کے ارکان نے خود قبائلی علاقوں کے دورے بھی کئے اس کے بعد بھی اگر کسی جانب سے اصلاحات کے عمل پر کسی کے کوئی تحفظات ہیں تو انہیں بات چیت کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے۔

‘ تاہم جہاں تک اصلاحات پر عملدرآمد کا تعلق ہے تو اس کیلئے ٹائم شیڈول نہ صرف طویل ہے بلکہ اس پر عملدرآمد کی رفتار پر بھی سٹیک ہولڈرز کا اطمینان نظر نہیں آ رہا‘ فاٹا ریفارمز پر عملدرآمد کا مطالبہ بڑھتاجا رہا ہے جبکہ متعلقہ حکومتی اداروں کی جانب سے یقین دہانیوں کا سلسلہ بھی ہنوز جاری ہے تاہم عملی اقدامات کا مطالبہ کرنے والے لوگ احتجاج تک پہنچ گئے ہیں خیبر پختونخوا حکومت اس سارے عمل میں اہم سٹیک ہولڈر ہے فاٹا کے صوبے میں انضمام پر پورا انتظام و انصرام اسی حکومت نے سنبھالنا ہے ‘ صوبائی حکومت کی جانب سے انضمام کے اعلان کا مطالبہ مسلسل کیا جا رہا ہے ‘ قبائلی علاقوں میں تعمیر و ترقی کے ساتھ بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی اور اسے قومی دھارے میں لانے کی ضرورت کا تقاضا تو یہ ہے کہ مرکز اور صوبے کے ذمہ دار ادارے ریفارمز کے حوالے سے باہمی رابطوں کو یقینی بنا کر عملی اقدامات کا آغاز کریں ‘ اگر کوئی سیاسی سطح پر تحفظات ہیں تو سیاسی قیادت کے رابطوں میں انہیں بات چیت کے ذریعے دور کیا جا سکتاہے ‘وفاقی حکومت اس ضمن میں ایک بار پھر اقدامات کی یقین دہانی کرارہی ہے تاہم انضمام اور دیگر اصلاحات کے حوالے سے عملی پیش رفت پر عدم اطمینان کا یہ عالم ہے کہ فاٹا کے نوجوانوں کی تنظیم نے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیاہے‘ خیبرپختونخوا حکومت صوبائی اسمبلی میں فاٹا کی نمائندگی کا معاملہ بھی حل کرنیکا کہہ رہی ہے ایسے میں ضرورت ایک جانب تحفظات وخدشات کو بات چیت کے ذریعے دور کرنے اور دوسری طرف اصلاحات پر عملی اقدامات اٹھانے کی ہے۔

پشاور کا ٹریفک پلان

بس منصوبے پر تعمیراتی کام کے آغاز کیساتھ ہی اس کے روٹ اور متبادل راستوں پر ٹریفک کا مسئلہ شدت اختیار کرگیا ہے، ایک بڑے منصوبے کی تکمیل کیلئے کچھ مشکلات کو برداشت کرنا ہی پڑتا ہے تاکہ پراجیکٹ کے فوائد حاصل کئے جائیں، اس سب کیساتھ یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ بس منصوبے سے ہٹ کر صوبائی دارالحکومت کے اندرونی اور مضافاتی علاقوں میں ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کیلئے تکنیکی مہارت کا حامل ایک مربوط پلان ضروری ہے، شہر کے درجنوں علاقے بس منصوبے کا حصہ نہیں نہ ہی بس شروع ہونے پر ان علاقوں کی ٹریفک پر کوئی اثر پڑے گا، لہٰذا ضروری ہے کہ بس منصوبے کے متبادل روٹس کیساتھ اندرون شہر اور قریبی علاقوں کیلئے ٹریفک پلان دیاجائے جس کیلئے وسیع مشاورت ناگزیر ہے تاکہ منصوبہ فول پروف ہو۔