بریکنگ نیوز
Home / کالم / کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چر چا ترا

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چر چا ترا


اور ایک بار پھر اب چاند زمین کے قریب ہے جانے کیا دیکھنے وہ نیچے آیا ہے یہاں اس کے لئے کچھ بھی ایسا نہیں جسے دیکھ کر اسے خوشی ہو ‘لیکن کچھ متوالے اسے دیکھ کرخوش ہوئے بہت ہوئے‘دسمبر کا اپنا ایک خاص مزاج ہے ایک طرف ایک سال اپنے اختتام پر پہنچ رہا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ماحول میں ایک اداسی رچ سی جاتی ہے پہلے پہل گلابی جاڑے سے موسم میں ایک نرمی پیدا ہوجاتی ہے پھر راتیں لمبی ہو کر اوربھی پراسرار ہو نا شروع ہو جاتی ہیں‘کبھی یہ موسم قصے کہانیوں کے لئے مخصوص ہوتا تھا۔ پھر دیکھنے کے لئے اتنا کچھ آ گیا کہ لگتا ہے سننے کا موسم ہی بیت گیا‘پہلے گھروں میں گرم بستر میں بیٹھے لیٹے گھر کے افراد دیر تک خشک پھل کھاتے ہوئے ایک دوسرے کو سننے تھے‘اب ہر شخص اپنی کمپنی ہی میں خوش رہتا ہے‘گویا ایک طرح سے اپنی دنیا میں خود کفیل ہو گیا ہے‘اب اسے دیکھنے کو اتنا کچھ مل جاتا ہے کہ سننے کی صلاحیتیں رفتہ رفتہ غیر فعال ہونے لگتی ہیں‘ یہ جو ہر شخص کہتا پھرتا ہے کہ لوگوں میں برداشت ختم ہو گئی ہے‘ دوسروں کا خیال‘لحاظ رکھنا اور دوسروں کو اہمیت دینے کا رواج ختم ہو گیا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اکیلا رہنے کا عادی ہو گیا ہے‘ پشاوری روزمرہ کے مطابق تو کیا خوب کہا جاتا ہے کہ ’’ اکلا تے چہلّا‘‘ظاہرہے تنہائی کا ایک حوالہ دیوانگی کا بھی ہے‘ احمد فراز نے بھی اسی روزمرہ کو شاعرانہ اندازمیں یوں ڈھالا ہے کہ

اتنا مانوس نہ ہو خلوتِ غم سے اپنی
تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا

تو بس اب وہی موسم چاروں اور طار ی ہے‘ ہر شخص سر جھکائے چھوٹی سی ڈیوائس کے دربار میں ہاتھ باندھے غلام کی طرح حاظر رہتا ہے‘مانو یہ موبائل فون الہ دین کا چراغ ہے جس کے جن سے سو کام کروائے جارہے ہیں‘ اس لئے جن کو سر اٹھا کر آس پاس دیکھنے کی فرصت نہیں ہے انہیں کیا معلوم کہ چاند کب کہاں اور کیسے مکمل ہو تا ہے ‘چاند سے ان کا تعلق محض چاند رات سے ہے اور وہ بھی صرف رمضان اور عیدکے مہینوں میں باقی چاند کے معاملات انہوں نے شاعروں کیلئے رکھ چھوڑے ہیں‘ ان میں سے جو میر کی روایت سے جڑے ہیں انہیں تو اس میں اپنے محبوب کی تصویر تک نظر آتی ہے‘ لیکن میر کا زمانہ اور طرح کا تھا اب زمانہ اور ہے اس لئے فراز کو کہنا پڑا
عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو
باؤلے ہو جاؤ گے مہتاب مت دیکھا کرو

بس یار لوگوں نے فراز کی نصیحت کو ایسا پلّے باندھا کہ اب وہ سر اٹھا کر زمیں زادوں کو نہیں دیکھتے تو آسمان کے سینے پر تیرتی اس نورانی ٹکیہ کو دیکھنے کا دماغ کہاں سے لائیں وہ تو بھلا ہو آ ج کے نیوز چینلز کا کہ وہ نہ صرف ایسی خبریں نشر کرتے ہیں بلکہ سکرین پر دکھا بھی دیتے ہیں ‘یہ ایک طرح سے بچپن میں پڑھی گئی کہانی ہے جس میں جب مالک اپنے نوکر کو کہتا ہے کہ ذرا دیکھ کر آ ؤ باہر بارش تو نہیں ہو رہی ہے تو وہ اسی طرح بیٹھے ہوئے جواب دیتا ہے کہ جی ہاں ہو رہی ہے‘ مالک اسے کہتا ہے ‘ مگر تم تو اتنی دیر سے یہاں بیٹھے ہو تمہیں کیسے پتا ہے کہ بارش ہو رہی ہے تو کاہل نوکر نے جواب دیا کہ ابھی ابھی باہر سے ایک بلی اندر آئی تھی میں نے دیکھا تھا وہ بھیگی ہو ئی تھی‘ نہ وہ نوکر اٹھ کر باہر جاتا تھا اور نہ ہی یار لوگوں کو باہر جانے کی فرصت ہے نہ ضرورت ‘ موبائل سے اجازت لے کر ٹی وی آن کر کے چاند گرہن ‘سورج گرہن سے لے کر سپر مون تک اور بارش سے لے کر زلزلے تک کی صورتحال سے خود کو آگاہ کرلیتے ہیں اور پھر موبائل میسج پر ایک دوسرے سے شیئر کرنا شروع کر دیتے ہیں اس لئے اب کے سپر مون کے چرچے جب چینلز پر ہونے لگے ‘تو سب انتظار کرنے لگے کہ کس وقت سکرین پر سپر مون کا نظارہ دیکھیں گے۔ دو قدم اٹھ کر باہر یا چھت پر جانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ ابھی کچھ چاند ادھر تک میں احباب کو ہر چودھویں کو ایک مختصر سا میسج کرتا تھاایک نظر فل مون کو دیکھ لیجئے۔مگر کب تک میں یکطرفہ محبت کے کھونٹے سے بندھا رہتا میں نے بھی اب یہ چلن ترک کر دیا البتہ شب مہتاب کے متوالے کسی نہ کسی بہانے اکٹھے ہو ہی جاتے ہیں ‘جیسے میجر عامر کا فارم ہاؤس مجھ ایسے متوالوں کی جائے پناہ بھی ہے اور نظارہ گاہ بھی جب دریائے سندھ کے فراخ سینے پر سے آہستہ آہستہ اوپر کو اٹھتا ہوا مہتاب دیکھنے والوں کو باؤلا بنا دیتا ہے‘ میں نے وہاں سے کبھی سپر مون کے طلوع ہونے کا منظر نہیں دیکھا اب کے تو سپر مون نے سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار راتوں تک اپنا حسن بکھیرنے کا فیصلہ کیا مگر میجر عامر کی مصروفیات آڑے آئی ہوئی ہیں ان کی تقاریر دلپذیر نے ملکِ عزیز کے طول و عرض کو اپنے سحر میں جکڑا ہوا ہے ہر علاقے کی خواہش ہوتی ہے کہ میجرعامر کی خوبصورت خطابت اور دلسوزی سے کی ہوئی گفتگو سے مستفیض ہوجائے سو سپر مون انکی راہ ہی دیکھتا رہ گیااور میجر عامر اپنے لوگوں کی رہنمائی کی فرمائشوں میں بھیگے ہوئے ہیں۔

اسلئے جب حیات آباد سے ہمدم دیرینہ عبدالرؤف روہیلہ نے بلا کے خوش ذوق دوست نعیم جان کا پیغام دیا کہ کچھ ہم خیال اور ہم ذوق دوست اکھٹے ہو رہے ہیں ہر سال موسیقی کیساتھ ایک پرتکلف عشائیہ بھی دوستوں کا منتظر رہتا ہے۔ تو میں یہ سوچ کر چل پڑا کہ پشاور شہر سے حیات آباد تک کا سارا راستہ سپر مون کی ہمراہی میں گزرے گا ایسا ہی ہوا میں عبدالرؤف روہیلہ اور سلیمان ساول کے ساتھ نعیم جان کے گھر کی طرف چل پڑا اور یہ بھی خوب ہوا کہ ہم قریب جا کر بھٹک گئے اور یوں زیادہ دیر کھلے میں رہے‘کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ نعیم جان جہاں دوستوں کیساتھ ایسی محفلیں سجاتا ہے وہ جگہ اس کے گھر کی خوبصورت بیسمنٹ ہے‘ جو بے تکلف دوستوں کی گپ شپ اور ڈھیروں خشک پھلوں کی وجہ سے اور بھی خوبصورت ہو جاتی ہے‘ اب کے جوانسال خورشید نے دبئی میں گزارے ہوئے دنوں کے تاثرات پرویز اور دوسرے دوستوں کی فرمائش پر شیئر کئے خصوصاََکینسر کے شکار معصوم بچوں کی تقریب میں شرکت کی روداد سناتے ہوئے وہ رو پڑے تھے اور سب دوستوں کو بھی اپنے ساتھ رلا گیا جب اس نے کہا مجھے انکے معصوم بچوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لانے کے لئے کوئی طریقہ نہیں سوجھ رہا تھا نہ گانا،گانا آتا تھا نہ کوئی کامیڈی کر سکتا تھا تو پھر بے اختیار میں نے ایک گانے کیساتھ الٹا سیدھا رقص کرنا شروع کر دیا جس سے وہ بے حد محظوظ ہوئے بس میں یہی کر سکتا تھا‘ مجھے اس پر بہت پیار آیا نعیم جان کے پاس آڈیو وڈیو کا حیران کن ذخیرہ ہے ‘جب ذکر سپر مون کا چھڑ گیا تو دوستوں نے اس پر کچھ دیر بات کی اور پھرنعیم جان نے اپنے سپر سکرین ایل سی ڈی پر جگجیت سنگھ کی آواز میں ابن انشا کی غزل لگا دی جس نے سارے دوستوں کو چپ کرا دیا۔

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا رہا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا
ہم بھی وہیں مو جود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کئے
ہم ہنس دئیے،ہم چپ رہے منظور تھا پردہ ترا