بریکنگ نیوز
Home / کالم / امریکہ کی کارستانیاں

امریکہ کی کارستانیاں


انہیں اجرتی قاتل بھی کہا جاتا ہے اور کرائے کے فوجی بھی‘ ایک عرصے سے اب استعماری قوتیں دنیا کے جس علاقے میں بھی اپنے مذموم مقاصد کا حصول چاہتی ہیں تووہ انکی خدمات سے فائدہ اٹھاتی ہیں یہ جو داعش یا اسلامک سٹیٹ کے نام سے تازہ ترین شوشہ استعماری قوتوں نے چھوڑا ہے یہ بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے شنید یہ ہے کہ پیسوں کے عوض کام کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک جھتے کو خفیہ طور پر امریکی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ڈیورنڈ لائن کے اس پارپاکستان کی سرحد کے نزدیک پہنچایا گیا ہے حامد کرزئی کہہ کہہ کر تھک گیا کہ داعش امریکہ کی تخلیق ہے ‘ امریکہ کے اندر جو آزادانہ سوچ رکھنے والے سیاسی مبصرین ہیں وہ ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ داعش امریکہ کا نیا ہتھیار ہے جسکے ذریعے وہ دنیا میں جہاں چاہے اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کراتا ہے امریکہ کی اس دو غلی پالیسی پر اردو زبان کا وہ محاورہ اس شخص کے بارے میں بولا جاتا ہے کہ جو خود ہی نقصان کرائے اور خود ہی جس کا نقصان ہوا ہو اس کا ہمدرد بھی بنے داعش نے حال ہی میں مشرق وسطیٰ میں شکست تو کھائی ہے لیکن اب شنید ہے کہ فلپائن میں اسے یکجا کیا جا رہا ہے ‘ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر امریکہ یہ سب کچھ کیوں کرتا ہے؟استعماری قوتوں کا یہ ایک المیہ ہوتاہے کہ جب وہ دنیاوی ترقی کی معراج تک پہنچ جائیں تو پھر ان میں خبط عظمت پیدا ہو جاتا ہے وہ پھر دنیاکے زیادہ سے زیادہ علاقے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی کام انجام کار ایک دن ان کے زوال کا باعث بن جاتا ہے کیا رومن‘ یونان ‘ مصری ‘ایرانی اور دیگر کئی امپیریل پاورز اسی خبط عظمت کی وجہ سے برباد نہیں ہوئیں ‘سوویت یونین کی تازہ ترین مثال آپکے سامنے ہے کہ جب اس نے ہر جگہ خواہ مخواہ پنگے لینے شروع کر دیئے اور اپنے وسائل سے زیادہ بیرونی ممالک میں مداخلت کرنا شروع کر دی جو بالآخر اسکی تباہی کا باعث بنی جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے۔

اگر اس نے روز اول سے ہی یہودیوں اور مسلمانوں کیساتھ اپنے تعلقات میں توازن رکھا ہوتااور وہ یہودیوں کی پالیسی کی اندھی تقلید نہ کرتا تو شاید آج دنیا میں اسکے اتنے زیادہ دشمن پیدا نہ ہوئے ہوتے کہ جو آج پیدا ہو چکے ہیں نہ القاعدہ کا وجود عمل میں آتا اور نہ پی ایل او کا اور نہ حزب اللہ کا‘تنگ آمد بجنگ آمد مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کیلئے بجز اس کے کوئی آپشن بچا ہی نہ تھا کہ وہ بھی ہتھیار اٹھالیں اس خطے میں چین کو نیچا دکھانے کیلئے امریکہ افغانستان کے اندر رہنا چاہتا ہے وہ اس مقصد کیلئے بھارت کو بھی اپنا فرنٹ سٹیٹ بنانا چاہتا ہے مشرق وسطیٰ میں جو مسلمان ممالک اسرائیل کے بارے میں اس کی پالیسی پر عمل پیرا نہیں ہیں وہ ان کے اندر بھی انتشار پھیلانا چاہتا ہے وہ اس مقصد کیلئے اب روایتی جنگ کے بجائے دہشت گردی کے ذرائع کا سہارا لے رہا ہے دنیا اتنی زیادہ کنفیوژن کا شکار ہو چکی ہے کہ اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ اصل صورتحال کیا ہے ؟ یہ ڈیورنڈ لائن کے اس پار تورا بورا کے پہاڑوں میں آخر کون سے لوگ چھپائے گئے ہیں جنہیں امریکی ہیلی کاپٹروں نے وہاں پہنچایا ہے ؟امریکہ بھی اب سابقہ سوویت یونین کی طرح دنیا میں جمعداری چاہتا ہے سی آئی اے کی کاوش اور سازش کے ذریعے جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا تو امریکی بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ اب دنیایونی پولر ہو گئی ہے اب صرف ان کا راج چلے گا لیکن چین کی شکل میں ایک دیو ہیکل ملک پیدا ہو گیاکہ جس سے امریکہ کے پسینے چھوٹتے ہیں وطن عزیز کا امن عامہ بھی انہی امریکی اور بھارتی گماشتوں کے ہاتھوں تاراج ہے۔