بریکنگ نیوز
Home / کالم / افغانستان کی کہانی!

افغانستان کی کہانی!


پاکستان کی جانب سے ان سبھی امیدوں کا خون ہوا ہے‘ جو افغانستان سے وابستہ کی گئیں اور جن کا مقصد ایک ایسا پائیدار امن کا قیام ہے جس کے ثمرات پاکستان کو بھی حاصل ہوں۔ حال ہی میں افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ’افغان فورسز نے ملک میں داعش کو تباہ کردیا ہے‘ دہشت گردی بین الاقوامی امن اور سکیورٹی کے لئے خطرہ موجود ہے اور افغانستان چاہتا ہے کہ وہ پاکستان سے براہ راست مذاکرات کرے۔‘آذربائیجان میں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی نے یہ بھی کہا کہ ’بیرونی تعاون سے داعش کو پہاڑوں تک محدود کردیا ہے۔ نئی امریکی پالیسی کے بعد طالبان گروپ اور ان کی پشت پناہی کرنے والے گروپ عسکری طور پر نہیں جیت سکتے۔‘ اگر کوئی ملک یہ سمجھتا ہے کہ وہ دہشت گردی سے تن تنہا نمٹ لے گا تو یہ اس کی بھول ہوگی کیونکہ دہشت گردی ایک عالمی ناسور کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ عالمی سطح پر مربوط رابطوں‘ تعاون اور اتحاد کے بغیر اس سے نجات ممکن نہیں رہی مگر کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جو دہشت گردی اور دہشت گردوں کو اپنے مقاصد اور مفادات کیلئے استعمال کر رہے ہیں اور اسے اپنی بہترین حکمت عملی بھی قرار دیتے ہیں جبکہ تاریخ کے اسباق موجود ہیں کہ جن ممالک نے بھی دہشت گردی کی پشت پناہی کی وہ خود ہی اس گڑھے میں گرا جو دوسروں کے لئے کھودا تھا۔

پاکستان جب کبھی بھی افغانستان سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کرتا ہے‘ تواس میں سرفہرست بھارت کی افغان سرزمین کے استعمال اور خطے میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی موضوع ہوتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم‘ جبر اور بربریت کی نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ بچوں اور خواتین پر پہلے پیلٹ گنیں استعمال کی گئیں جس پر عالمی سطح پر مذمت ہوئی مگر بھارت انسانیت کے خلاف سنگین جرائم سے باز نہیں آ رہا۔ اب اس نے نہتے کشمیریوں کیخلاف کیمیائی اسلحہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے‘ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طرف افغانستان خود بری طرح دہشت گردی کا شکار ہے اور دوسری طرف اس نے پاکستان کیخلاف دہشت گردی کیلئے اپنی سرزمین استعمال کرنیکی اجازت دے رکھی ہے۔ پاکستان سے فرار ہو کر افغانستان میں روپوش دہشت گرد پاکستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور عموماً پاکستان میں داخل ہو کر دہشت گردی کی کاروائیاں کر گزرتے ہیں۔ حال ہی میں پشاور کے زرعی تربیتی مرکز پر حملہ کرنیوالے تین دہشت گردوں کے افغانستان سے رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ معاملہ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا ہے اور اِس کی تہہ میں کئی راز چھپے ہوئے ہیں‘ بجا ہے کہ افغانستان میں پاکستان سے فرار ہونے والے دہشت گرد افغان انتظامیہ کے کنٹرول میں نہیں مگر جس طرح افغان فوج طالبان کے خلاف آپریشن کرتی ہے کیا ایسا کبھی مولوی فضل اللہ اور اسکے ساتھیوں کیخلاف بھی ہوا ہے؟ امریکہ نے سرحد کے آر پار دہشت گردوں کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی‘ پاکستان نے اپنی طرف کے علاقے ایسے دہشتگردوں سے کلیئر کرالئے جبکہ افغانستان میں خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

افغانستان اور پاکستان پڑوسی مسلم ممالک ہیں دونوں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ خون کے رشتوں میں بندھا ہے۔ دونوں کے مابین تو مثالی تعلقات ہونے چاہئیں جسکی پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی مگر قیام پاکستان کے بعد سے اب تک افغان انتظامیہ کا رویہ مایوس کن رہا ہے۔ اس نے ہمیشہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو ترجیح دی جسکے لئے پاکستان کا وجود ناقابل برداشت ہے۔ اب افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کیساتھ براہ راست مذاکرات کی بات ہے۔ ایسی خواہش کا اظہار پہلے بھی کئی بار کیا جاتا رہا ہے جسکی پاکستان نے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ اب بھی براہ راست مذاکرات میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی بلکہ مذاکرات ہی غلط فہمیاں اور تعلقات میں کشیدگی دور کرنے کا طریقۂ کار ہیں‘ اشرف غنی متعدد بار پاکستان آئے‘ انکے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت سے کامیاب بات چیت ہوئی۔ کشیدگی میں واضح کمی محسوس کی گئی دو طرفہ معاہدے بھی ہوئے مگر انکی سیاہی خشک ہونے سے قبل بھارت کے دباؤ پر پھر پاکستان پر الزامات کی بھرمار ہونے لگی۔

بھارت کے افغانستان میں عمل دخل کو ختم کئے بغیر پاکستان اور افغانستان کے مابین خوشگوار تعلقات کے دور کا آغاز ہونا ممکن نہیں‘ البتہ پاکستان اور بھارت کے مابین دشمنی کی بنیاد مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو خطے میں امن کا قیام ممکن ہے لیکن بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف آنے پر تیار نہیں ہے۔ افغانستان کے امن کیساتھ نہ صرف پاکستان کا امن وابستہ ہے بلکہ خطے کے امن کا انحصار بھی افغانستان میں امن پر ہے‘ پاکستان سے زیادہ افغانستان میں امن کے قیام میں کسی کو دلچسپی نہیں ہو سکتی‘نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان پر یلغار کرکے طالبان حکومت کا خاتمہ کیا اور جمہوری حکومت کا سلسلہ شروع ہوا طالبان اس حکومت اور امریکہ کے لئے شروع سے درد سر بنے ہوئے ہیں‘ امریکہ کے ایماء پر پاکستان نے طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کیا مگر افغان انتظامیہ طالبان کے نام ہی سے خائف ہے۔ ان کو اقتدار میں حصہ دار بنانے پر تیار نہیں‘ جب تک ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کے اصول کا اطلاق نہیں ہو جاتا‘ مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں نہ طالبان ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہوں گے افغانستان میں انتشار اور خلفشار کیلئے طالبان ہی کم نہ تھے کہ داعش نے بھی افغانستان میں قدم جما لئے ہیں‘افغان صدر فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ ’بیرونی تعاون سے داعش کو پہاڑوں تک محدود کر دیا ہے۔‘ جو پورا سچ نہیں کیونکہ پہاڑوں پر داعش کیا تفریح کر رہے ہوں گے۔ کیا داعش کا پہاڑوں پر چلے جانا ہی افغان و پاکستان کی سکیورٹی کو لاحق مستقل خطرات کا حل ہے؟(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر عمرفاروق۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)