بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / صفوت غیور سے اشرف نور تک

صفوت غیور سے اشرف نور تک


انہوں نے جن دنوں اس صوبے کو اپنا مسکن بنایا تو انہی دنوں انکی شہادت کے اسباب بننے والے حالات نے صوبہ میں پنجے گاڑنے شروع کردیئے تھے ان کاتعلق گلگت بلتستان سے تھا مگر حصول تعلیم کے لئے یہاں آئے تو پھریہیں کے ہوکر رہ گئے ویسے بھی پشاور کی مٹی میں قدرت نے ایک ایسی کشش رکھی ہوئی ہے کہ دیارغیر سے آنے والے پھریہیں کے ہوکر رہ جاتے ہیں وہ بھی آئے اور پھرواپس نہیں گئے اسی لئے بہت مسرت کیساتھ کہاکرتے تھے کہ آپ لوگ بائی برتھ پٹھان ہیں مگرمیں بائی چوائس پٹھان ہوں ان کیساتھ چند ملاقاتیں ہی ہوئی تھیں ابھی انکے دفترمیں تفصیلی ملاقات ہونی تھی کہ جام شہادت نوش کرگئے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل اشرف نور کیساتھ شہدائے پولیس کی تقریبات کی تیاریوں کے سلسلہ میں ایک ملاقات ہوئی تھی جسکا اہتمام ڈاکٹرفصیح الدین اشرف نے کیاتھا اس دوران سیر حاصل گفتگو ہوئی جس میں راقم کی طرف سے دو تجاویز دی گئیں پہلی تویہ کہ شہدائے پولیس کادن منانے کیلئے تیاریاں سارا سال ہونی چاہئیں اوراس سلسلہ میں میڈیا کیساتھ ساتھ دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کیساتھ بھی مسلسل رابطے رہنے چاہئیں دوسری تجویزیہ تھی کہ جس طرح ڈی آئی جی قاضی جمیل الرحمان نے شہدائے ملاکنڈ اور شہدائے ڈیرہ پولیس کے حوالہ سے دوکتابوں کی صورت میں تاریخی دستاویزات مرتب کیں اسی طر ح شہدائے پشاور پولیس کے حوالہ سے بھی کام ہونا چاہئے اشرف نور شہیدنے دونوں تجاویز سے اتفاق کیا اور شہدائے پشاور پولیس پر کتاب کو جلد مکمل کروانے کے عزم کااظہار کیا مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ جب یہ کتاب آئیگی۔

تو خود ان کا نام بھی سرفہرست ناموں میں شامل ہوچکاہوگا ان کیساتھ دوسر ی ملاقات کچھ عرصہ قبل فصیح الدین اشرف کے بھائی کی وفات کے موقع پر انکے حجرے میں ہوئی اس دوران کافی دیرتک مختلف موضوعا ت پر بات ہوتی رہی اور پھر اس پربات ختم ہوئی کہ جلد ان کے دفتر میں تفصیل سے بات ہوگی مگر پھرموقع ہی نہ ملا اور پشاور کو اپنا مسکن بنانیوالے کی لاش ہم نے انکے آبائی علاقہ روانہ کر دی‘ یہ کیا پیغام دیا گیا ‘کیا پشاور کادامن اتناتنگ ہوگیاہے کہ اب اس میں پناہ لینے والوں کو عافیت کی تلاش میں مارامارا پھرنا ہوگا حیات آباد میں یہ اس قسم کی چوتھی یا پانچویں واردات ہے ظاہر ہے کہ حیات آبادجیسا علاقہ بھی محفوظ نہیں ہے اور اسکی بڑی وجہ افغان مہاجرین کی وہاں موجودگی ہے بتایاجاتاہے کہ ان میں سے بہت سے گھرانے اس قسم کے سانحات میں مرکزی کردار اداکرتے ہیں انٹیلی جنس رپورٹس بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہیں جسکے بعداب افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے سنجید ہ اقدامات ضرور ی ہوچکے ہیں ساتھ پولیس حکام کو بھی اب بڑے بڑے دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی اتنے بڑے اور اہم پولیس افسرکی شہادت صوبائی پولیس سربراہ کے اس دعوے کے چندروزبعدہی ہوئی جس میں انہوں نے امن و امان کی صورتحال کی بہتری اوردہشت گردی کے واقعات میں کمی کے حوالہ سے بات کی تھی گویا انکو چند دن کے اندر اندر مسکت جواب دینے کا تاثر دیا گیا۔

جسکے بعداب زرعی تحقیقاتی مرکز پر بھی حملہ ہوچکاہے گویا انٹیلی جنس کی کمزوری ابھرکرسامنے آ رہی ہے جس پر توجہ کی اشد ضرورت ہے جہاں تک قربانیوں کاتعلق ہے تو اے آئی جی صفت غیور سے لیکر اے آئی جی اشرف نور تک کی داستان ہر دل کو مزید حوصلہ اور ہمت دینے کا سبب بن رہی ہے ہم نے ذکر کیا تھاکہ اشرف نور کی آمد کیساتھ انکی شہادت کے اسباب بھی پشاور آنے لگے تھے یعنی یہ وہ دورتھاکہ جب افغان مہاجرین کیلئے سرحدیں کھول دی گئی تھیں اور ان کو شہروں میں پھیل جانے کی مکمل آزادی دے دی گئی تھی بعدازاں اسی افغان مسئلہ کے بطن سے نائن الیون کے بعدکی صورتحال نے جنم لیا جس نے پھر قبائلی علاقہ جات اور ہمارے صوبہ خیبرپختونخوا کو بر ی طرح سے گھیرلیا اوریوں پولیس‘ فوجی جوانوں اور سویلین شہادتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا جو بڑھتے بڑھتے پچاس ہزار کا ہندسہ بھی عبور کر گیا اب جبکہ اشرف نور نہیں رہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے سانحات کے اسباب کی بیخ کنی کے لئے بھی جہاد شروع کیاجائے جس پر پہلے ہی نیشنل ایکشن پلان کی صور ت میں تمام سیاسی وعسکری قیادت تین برس قبل اتفاق رائے کرچکی ہے ۔