بریکنگ نیوز
Home / کالم / آب آگے بڑھیں

آب آگے بڑھیں


دھرنا ختم ہوا‘ دھرنا کیوں ہوا‘ اسکا جواب تو ہمارے پاس نہیں کہ ایک مسئلہ جو پارلیمان میں اٹھا پارلیمان میں ہی حل کر دیاگیا‘ پارلیمان کے مسائل کوسڑکوں پر آنا نہیں چاہئے‘ اسلئے کہ اگر پارلیمان کے مسئلے بھی سڑکوں پر حل ہونے ہیں تو پھر پارلیمان کی ضرورت ہی کیا ہے‘جب اس مسئلے کو سڑک پر لایا گیا تھا تو باوجود ایک حساس مسئلہ ہونے کے پارلیمان کو سامنے آنا چاہئے تھا کہ جب مسئلہ حل ہو گیا ہے تو اس پر دھرنوں کی آخر ضرورت کیا پڑی ہے‘ مگر ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم ہر مسئلے پر سیاست چمکانا ضروری سمجھتے ہیں ‘ جب سے ختم نبوت کا مسئلہ پارلیمان سے باہر نکل کر لوگوں کے ہاتھ لگا اس میں سیاسی پارٹیوں نے بھی اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا ‘ حالانکہ جو ترمیم آئین میں لائی گئی اس میں ساری پارٹیوں کے اراکین شامل تھے اور اگر کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اسکی ذمہ داری حکومت پر نہیں پارلیمان پر عائد ہوتی ہے‘مگر پارلیمان نے تو مسئلے کا حل نکال لیا تھا اور جو غلطی حلف نامے میں ہوئی تھی وہ درست کر دی گئی تھی پھر اس مسئلے کواٹھانااور اس پر دھرنے دینا کیامعنی رکھتا ہے ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ ادھر حکومت مخالف سیاست دانوں نے اسے حکومت اور ن لیگ کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے جو کسی بھی طرح قابل ستائش نہیں ہے۔ اسلئے کہ آپ ایک بات کو جو کہ ختم ہو چکی ہے بار بار ابھاریں گے تو اس سے شاید آپکی سیاست میں کچھ فائدہ ہو جائے۔

مگر ملک کیلئے یہ بات انتہائی نقصان دہ ہے یہ ایشو ابھارنے کا نہیں ختم کرنے کا ہے۔اللہ کے فضل سے جتنے لوگ بھی ترمیمی کمیٹی میں شامل تھے چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں وہ سارے ہی ختم نبوت پر کامل یقین رکھتے ہیں اور خاص کر وہ لوگ جو اسمبلی کے اراکین ہیں اور جنہوں نے باقاعدہ اسمبلی کے فلور پر حلفاً کہا ہے کہ وہ ختم نبوت پر کامل یقین رکھتے ہیں اور حضور ؐ کے بعد کسی بھی شخص کو نبی نہیں مانتے تو اُن کو کس لئے ہم زبردستی اسلام سے خارج کرنے پر تلے ہوئے ہیں یا یہ کہ اس میں شریف برادران کا ہاتھ ہے اور وہ اپنی دولت چھپانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔جس کمیٹی نے آئین میں تبدیلی پر کام کیا ان میں شیخ رشید بھی شامل تھے کیا کوئی شیخ رشید کے بارے میں کہہ سکتا ہے کہ وہ ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے ؟ ہم علمائے کرام سے دست بستہ عرض کرتے ہیں کہ اس با ت کو اللہ کے لئے ختم کریں جو بھی ہو گیا ہے وہ بہترہو گیا ہے ہمارا ملک ایسے ہنگاموں کامتحمل نہیں ہو سکتا دشمن کی ہم پر نظر ہے۔ وہ ہمارے ہر کمزور پوائنٹ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

ایک طرف ہماری ترقی کے پروگرام سی پیک کو ختم کرنیکی امریکہ اور ہندوستان نے قسم کھا ئی ہوئی ہے اور دوسری جانب ہم اپنے ملک میں بد امنی پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں ادھر ہمارے فوجی جوان اور افسر دہشت گردوں کے ہاتھوں ہر روز نقصان اٹھا رہے ہیں اور دوسری طرف امریکہ ہم پر ڈو مور کا ہتھوڑا لئے سوار ہے ‘ ادھر ہندوستان نے افغانستان میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور اُس کے تربیت یافتہ لوگ ہر روز ملک کے کسی نہ کسی حصہ میں دہشت گردی کر رہے ہیں ایسے میں سیاست کی نہیں یک جہتی کی ضرورت ہے۔ہر سیاسی پارٹی کوئی نہ کوئی مسئلہ لے کر ہڑتالوں اور ریلیوں کا انعقاد کر رہی ہے اور ان جلسوں جلوسوں میں ایک دوسرے سے نفرت کے پیغامات دیئے جا رہے ہیں ۔ہم حیران ہیں کہ یہ لوگ آخر ملک کو کہاں لے جا رہے ہیں۔چاہئے کہ اس وقت یک جہتی اور محبت کا پیغام دیاجائے۔