بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / دہشت گردی: متضاد پہلو!

دہشت گردی: متضاد پہلو!


یکم دسمبر کے روز زرعی تربیتی مرکز پشاور میں ہوئے دہشت گرد حملے سے متعلق تفتیشی عمل کی جزوی رپورٹ میں تفصیلاتی پہلوؤں کا احاطہ بین السطور اور ظاہراً کیا گیا ہے‘ وہ بڑی حد تک چونکا دینے والے ہیں‘ جیسا کہ حملہ آور موبائل فون کے ذریعے براہ راست ویڈیو نشر کر رہے تھے اور انہوں نے حملے سے قبل ہی آڈیو ویڈیو رابطے (لنک) افغانستان میں موجود منصوبہ سازوں سے جوڑ لئے تھے‘ جن سے ملنے والی ہدایات پر وہ عمل کرتے رہے! واردات میں استعمال ہونیوالا آٹو رکشہ پر جعلی نمبر لگا ہوا تھا اور یہ آٹو رکشہ مقامی ساختہ ان ذرائع کا حصہ ہے‘ جنہیں بنانے کے کارخانے لب سڑک پشاور کے فٹ پاتھوں پر قائم ہیں اور بالخصوص سٹی سرکلر روڈ پر ایسے آٹو رکشاؤں کی صنعتیں قائم ہیں‘ جہاں بناء کسی ضابطے ایسے آٹورکشہ بڑی تعداد میں بن رہے ہیں‘ جن کی خریداری کے لئے قانونی و کاغذی ضوابط پورے کرنا ضروری نہیں ہوتے۔ اگر کسی کے پاس تین سے پانچ لاکھ روپے نقد موجود ہیں تو وہ پشاور میں کھڑے کھڑے آٹو رکشہ کا مالک بن سکتا ہے‘ جس کیلئے اسکے پاس قومی شناختی کارڈ یا ڈرائیونگ لائسنس ہونا بھی ضروری نہیں۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہونیوالی تیسری چشم کشا حقیقت یہ ہے کہ زرعی تربیتی مرکزمیں لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمرے نمائشی تھے اور ان کیمروں میں ریکارڈنگ کا خاطرخواہ بندوبست نہیں تھاحتیٰ کہ جس کمپیوٹر سے ان کیمروں کو منسلک کیا گیا تھا اسکی ہارڈ ڈسک ہی نہیں تھی‘ کمپیوٹرہارڈ ڈسک کیوں غائب تھی‘۔

چوری ہو چکی تھی یا اسے دانستہ طور پر ہٹایا گیا؟موبائل فون سے براہ راست ویڈیو سٹریمنگ‘ جعلی نمبر پلیٹ والا مقامی ساختہ آٹو رکشہ کے استعمال اور درست حالت میں کلوز سرکٹ کیمرے نصب نہ ہونے کے سبب حملہ آوروں کی حرکات و سکنات کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا کہ وہ اس عمارت کے مختلف حصوں کے بارے میں کس قدر واقفیت رکھتے تھے اور انہیں ایک جیسی راہداریوں میں اپنے اہداف کی تلاش میں کتنی دقت یا سہولت کا سامنا کرنا پڑا۔سی سی ٹی وی کیمروں کے فعال نہ ہونے کی وجہ سے اس بات کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں رہا کہ زرعی تربیتی مرکزکا کوئی اہلکار کیا اس حملے کی منصوبہ بندی یا سہولت کاری کا حصہ تھا یا نہیں۔ بہرحال ابتدائی تفتیش سے جن چار باتوں کے بارے میں تفتیش مکمل کر لی گئی ہے‘ اس سے پولیس حکام نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حملہ آور زرعی تربیتی مرکز کے داخلی راستوں اور عمارت سے آشنا نہیں تھے اور انہیں فراہم کردہ معلومات کم یا غلط تھیں۔ کسی تفتیش کے اس قدر نتیجہ خیز مرحلے تک پہنچنا بھی پشاور پولیس ہی کا کمال ہے وگرنہ اس قسم کا نتیجہ اخذ کرنے میں شاید ترقی یافتہ ممالک کے تفتیش کاروں کو مہینے درکار ہوں! پولیس کے ایک انتظامی اہلکار سے ہوئی بات چیت میں یہ تاثر لگانا قطعی مشکل نہیں تھا کہ تفتیشی عمل سمیت پولیس ہر کام فوری طور پر اس لئے بھی نمٹاتی ہے کیونکہ (خدانخواستہ) کسی دوسری واردات کی صورت افرادی قوت دستیاب ہو۔

پشاور پولیس کے پاس تفتیش کیلئے دستیاب افرادی و تکنیکی وسائل کی کمی ہے اور یہ راز کی بات بھی نہیں لیکن فیصلہ ساز پولیس کی پیشہ ورانہ تربیت ومہارت‘ استعداد اور تکنیکی وافرادی قوت میں خاطرخواہ اضافہ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ پشاور پولیس اہلکار کے اس سوال کا جواب شاید ہی بنی گالہ دے سکے کہ پولیس میں سیاسی مداخلت نہ کرنے کا جو دعویٰ کیا جاتا ہے وہ کافی نہیں بلکہ عوام توووٹ ہی اِس لئے دیتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے سرکاری محکموں کا قبلہ درست کریں‘ اگر سیاست دان یہ کہتے پھریں کہ انہوں نے اداروں میں مداخلت ختم کر دی ہے اور آج کے بعد ہر ادارہ اپنے طور اپنے معاملات چلائے گا تو اس بات کا تعین کون کریگا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ واقعی قواعد و ضوابط کے مطابق ہے؟اگر صرف قانون نافذ کرنے والا ایک ادارے یعنی پولیس کا قبلہ درست ہوجائے تو نہ صرف معاشرے سے جرائم بلکہ دہشت گردوں کی سہولت کاری بھی انجام کو پہنچ سکتی ہے۔ تجویز من و عن نقل ہے کہ ’خیبرپختونخوا پولیس سے متعلق اگر بنی گالہ یا پشاور میں کسی غیرسرکاری ہیلپ لائن کا اجراکیا جائے تو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت صوبائی قیادت کو بھی رہنمائی ملے گی کہ کس طرح تھانہ و کچہری کلچرتبدیل نہیں ہوا۔‘ کس طرح پولیس مجموعی طورپر اختیارات کے استعمال میں مادرپدر آزاد ہے اور صوبائی دارالحکومت پشاور سے دور دراز اضلاع میں محکمہ پولیس میں آج بھی وہ سیاسی مداخلت جاری ہے‘ جسکے باعث خواص کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے۔

خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے سینئر اہلکار ایس ایس پی فرقان بلال کے بقول ’جس موبائل فون کے ذریعے براہ راست ویڈیو سٹریمنگ کی گئی اسے قبضے میں لے لیا گیا تاہم یہ بات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی کہ دہشت گرد فیس بک لائیو‘ واٹس ایپ یا ایمو میں سے کون سا سافٹ وئر استعمال کر رہے تھے ‘ حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے جو چند منٹ دورانئے کی ویڈیو جاری کی گئی اسے یقیناًحملہ آور کے بازو پر نصب موبائل فون ہی کے ذریعے بنایا گیا ہو گا تفتیشی اہلکار موبائل فون اور دیگر آلات کے ذریعے اس پیچیدہ معاملے کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں‘ جو اپنی نوعیت کا پہلاتونہیں البتہ انوکھا واقعہ ضرور ہے کیا مستقبل قریب میں یہ ممکن ہوگا کہ کسی علاقے میں دہشت گرد حملے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر وہاں سے ملحقہ تمام موبائل فون ٹاورز کے سگنلز بند کر دیئے جائیں ؟ دہشتگرد جدید آلات کا استعمال جن مقاصد کیلئے کر رہے ہیں اس میں ان کا پروپیگنڈا اور تربیتی حکمت عملی بھی شامل ہے کیا ہمارے ادارے کم سے کم اتنے ہوشیار ہو سکتے ہیں کہ وہ اپنی سوچ اور عمل کو دہشت گردوں سے ایک درجہ بلند رکھیں؟