بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اعلان

لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اعلان


وطن عزیز میں بجلی کے پانچ ہزار سے زائد فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کردیاگیا ہے۔ وزارت پانی و بجلی کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں بجلی کی پیداوار ڈیمانڈ کے مقابلے میں زیادہ ہے تاہم اس کے ساتھ ہی لائن لاسز والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ جاری رکھنے کا اعلان بھی کیاگیا ہے مہیا اعداد وشمار کے مطابق جن علاقوں میں لاسز 10 فیصد ہیں وہاں2 گھنٹے بجلی بند رہے گی جبکہ یہ شرح جن ایریاز میں20 فیصد ہے وہاں بجلی کی بندش کا دورانیہ4 گھنٹے ہوگا۔ وفاقی وزیر اویس لغاری کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ حکومت کی اہم کامیابی ہے بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے منصوبوں کا اجراء ہر حوالے سے قابل اطمینان ہی ہے حکومتی سطح پر لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا اعلان اسی صورت ثمرآور ثابت ہوگا جب عملی طورپر عام شہری کو بجلی بندش کی اذیت سے چھٹکارا نظر آئے گا۔ ہمارے ہاں حکومتی اعلانات اور برسرزمین نتائج کے درمیان اکثر ایک بڑا گیپ ہی رہتا ہے۔ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے خوش کن اعلان کے ساتھ لائن لاسز والے علاقوں میں بجلی بند رکھے جانے کا عندیہ اس بات کا متقاضی ہے کہ خود ذمہ دار دفاتر لائن لاسز کے خاتمے کیلئے اپنے اقدامات کو موثر بنائیں ۔

اس مقصد کیلئے وہ کمیونٹی اور منتخب قیادت کے ساتھ صوبوں کی سطح پر ایڈمنسٹریشن سے تعاون بھی لے سکتے ہیں کسی کے بل نہ دینے یا بجلی چوری کی سزا کسی دوسرے کو دینا کسی طور مناسب دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے ساتھ غلط بلنگ کا سلسلہ روکنے کیلئے قانون پر عملدرآمد یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ صارفین کو ریلیف ملے۔ لوڈشیڈنگ کے ساتھ صارفین کو بجلی کی ترسیل میں معمولی خرابی پر مرمت کیلئے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ خدمات میں بہتری کیلئے ناگزیر ہے کہ فالٹ کو دور کرنے کیلئے انتظامات مزید موثر بنائے جائیں اور عوامی شکایات کے ازالے کیلئے سپرویژن کا موثر نظام دیاجائے۔ وطن عزیز میں کوئی بھی موسم جب شدت اختیار کر جائے تو اس کے ساتھ جڑی سروسز کے نظام میں موسم کے مطابق بہتری کے اقدامات شروع ہوجاتے ہیں اور لو گ بلاوجہ مشکلات کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کم از کم بجلی اور گیس کے کیسز میں موسم کی ضروریات کے مطابق پیشگی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ پن بجلی کی پیداوار کے حوالے سے خیبر پختونخوا کے پراجیکٹس کو بھی سپورٹ کرنا ضروری ہے جن کی نشاندہی صوبائی وزیر عاطف خان نے گزشتہ روز بھی کی ہے۔

احتجاج کی نوبت کیوں؟
خیبر پختونخوا حکومت وفاق کے ذمے واجبات کی10 دسمبر تک حسب وعدہ ادائیگی نہ ہونے پر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے اس مقصد کیلئے تیاریاں جاری ہیں صوبے کا کہنا ہے کہ ادائیگی بروقت نہ ہونے پر 11 دسمبر کو سی سی آئی کے اجلاس میں بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی صوبے کے حقوق کیلئے کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا عزم بھی دہرایا جارہا ہے‘ سیاسی قیادت متعدد اہم فیصلے بات چیت کی میز پر کرتی ہے تاہم انہیں عملی صورت اختیار کرنے میں غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہی تاخیر آگے بڑھ کر احتجاج کی صورت اختیار کرتی ہے واجبات کی ادائیگی ہو یا پھر فاٹا انضمام این ایف سی ایوارڈ ہو یا وفاق سے شیئر کا بروقت اجراء ذمہ دار اداروں کو ڈیڈ لائن دے کر ٹائم کا پابند بنانا انتہائی ناگزیر ہے۔ وفاق کے ساتھ صوبے کو بھی اپنے محکموں کو اس ضمن میں دفتری کام بروقت نمٹانے کی ہدایت کرنا ہوگی‘ تاکہ احتجاج کی نوبت نہ آئے۔