بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پی پی پی کا 6 نکاتی عوامی ایجنڈے کا اعلان

پی پی پی کا 6 نکاتی عوامی ایجنڈے کا اعلان


اسلام آباد۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ فیض آباد میں ختم ہونیوالی ریاستی رٹ کو پیپلزپارٹی بحال کرے گی ، عوام کے تحفظ کے لیے کبھی کسی مورچے کو چھوڑ کر نہیں بھاگے، اپنے نظریے کے تحفظ کا حلف اٹھاتے ہیں ہمیشہ خون سے چراغ روشن کیے ہیں ، انہوں نے ملک کی ترقی اور فلاح و بہبود کے چھ نکاتی عوامی ایجنڈے کا اعلان کر دیا بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی ہر شخص کی میراث ہے جو سیاست اور مذہب کے گٹھ جوڑ نہیں مانتا، ذوالفقار علی بھٹو ، بے نظیر بھٹو آصف علی زرداری ادوار کی اصلاحات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا استحصالی قوتوں کے خلاف انقلابی جدوجہد کرتے ہوئے پاکستان کو حقیقی جمہوری ملک بنائیں گے ۔

عدلیہ پولیس اور سول سروس میں اصلاحات لائی جائیں گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کی شام اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں پارٹی کے یوم تاسیس کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا جلسہ سے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی خطاب کیا بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام اسکی بنیاد کی وجوہات اور قربانیوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے عوامی شعور بیدار کرتے ہوئے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی شکست دی ۔

اس کارواں نے آگ اور خون کے دریا عبور کیے مگرکبھی استقامت میں کمی نہیں آئی کبھی کسی مورچے کو چھوڑ کر نہیں بھاگے قافلہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہا جب جب پاکستان میں آمریت مسلط ہوئی تب تب پاکستان پیپلز پارٹی نے علم بغاوت بلند کیا اور یہ جدوجہد آج تیسری نسل کو منتقل ہو چکی ہے اور یہ اس علم کو تھامے ہوئے ہے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مزاحمت جدوجہد بنیادی اصلاحات میں ہمیشہ پیپلز پارٹی صف اول میں رہی ہم نے ریاستی وسائل کا رخ غریب خاندانوں کی طرف کیا اشرافیہ نہیں بلکہ عوام کو مضبوط کیا معاشی اور سماجی اصلاحات متعارف کرائیں ۔

سانحہ مشرقی پاکستان ہوا اور ذوالفقار علی بھٹو نے سلگھتی راکھ میں پاکستان کی نئی ریاست کی بنیاد رکھی متفقہ آئین دیا ایٹمی صلاحیت دے کر پاکستان کے دفاع کو ہمیشہ کے لیے مضبوط بنا دیا غیر جمہوری قوتوں نے ساز باز کرتے ہوئے وحشت ناک طریقے سے ان پر حملہ کر دیا یہ صرف بھٹو کو شہید نہیں کیا گیا تھا بلکہ سماج پر حملہ کیا گیا آمریت اور اسکے حواری کبھی پیپلز پارٹی کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو اسکا علم اپنی بہادر بیٹی کے ہاتھ میں تھما گئے تھے اور اس بہادر بیٹی نے کبھی اپنی عوام کا ہاتھ نہیں چھوڑا ہر مارشل لاء میں تاریخی جدوجہد کی جنرل ضیاء الحق اسلام کا نام لیکر اپنے اقتدار کو طول دیتا رہا اسکے خلاف جدوجہد کی نواز شریف بھی امیر المومنین بننے نکلا تھا اور بے نظیر بھٹو نے آئین میں اسکی ترمیم کا راستہ روکا بے نظیر بھٹو نے دہشتگردی و انتہا پسندی کے حوالے سے پرویز مشرف کی دوغلی پالیسی کو بھی اجاگر کیااور ملک واپس آکر دہشتگردوں کو للکارا آج پھر دھرتی ہمیں پکار رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے اپنے دور میں اہم منصوبے شروع کیے پرویز مشرف اور نواز شریف کے ادوار میں نکالے گئے ملازمین کو بحال کیا عارضی ملازمین کو مستقل کیا تنخواہ اور پنشن میں اضافہ کیا سی پیک کی بنیاد رکھی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے آئین کو اصل شکل میں بحال کیا صوبائی خودمختاری دی اور صوبوں کو وسائل کا مالک بنایا سندھ میں ہماری حکومت ہے اربوں روپے کی لاگت سے منصوبے مکمل ہو رہے ہیں وراثت اور میراث میں فرق ہوتا ہے ۔

پیپلز پارٹی میراث ہے ہر اس شخص کی جو سر جھکانے نہیں بلکہ کٹانے پریقین رکھتا ہے شہری آزادی پر یقین رکھتا ہے طاقت کا سرچشمہ عوام کو سمجھتا ہے استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد پر یقین رکھتا ہے اور سیاست اور مذہب کے گٹھ جوڑ کو نہیں مانتا بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 2008میں پیپلز پارٹی نے جمہوریت کو بحال کیا آصف علی زرداری نے عوام کے جذبات کو ٹھنڈا اور غصے کو کم کرنے کے لیے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا اور جمہوریت کو بہترین انتقام قرار دیا پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ اسلام امن محبت انصاف کا دین ہے اسلام انتہا پسندی دہشتگردی اور فرقہ واریت کو رد کرتا ہے دولت کی منصفانہ تقسیم پر یقین رکھتے ہیں۔

اصل طاقت عوام ہیں استحصالی ڈھانچوں کے خلاف انقلابی جدوجہد کرتے ہوئے حقیقی جمہوری سماج قائم کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے ادوار میں جو اصلاحات کی گئیں ان کا تحفظ کریں گے ان اصلاحات کی روشنی میں مذید تبدیلیاں لائیں گے معاشی اصلاحات کے ساتھ محنت کشوں، خواتین، اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے تعلیم صحت عامہ زرعی اصلاحات دیہی ترقی کے لیے اصلاحات پر عملدرآمد کریں گے اور ایسی اصلاحات لائیں گے کہ نوجوانوں کو روزگار ڈھونڈنا نہیں پڑے گا بلکہ خود حکومت ان کے لیے روزگار کے دروازے کھولے گی۔

آصف علی زرداری کے دور میں بنیادی اصلاحات کی گئیں ان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا انہی کے دور میں اٹھارویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ ، آغاز حقوق بلوچستان، گلگت بلتستان کی داخلی خودمختاری کو یقینی بنایا گیا اور نچلی سطح پر اختیارات منتقل ہو ئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی آئندہ کی سیاست کی ترجیحات میں عدالتی ، پولیس اور سول سروسز میں اصلاحات کا نفاذ ہے ہم تبدیلی کا اعلان کرتے ہیں عوام کو با اختیار بنانے کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے فیض آباد دھرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس رٹ کو بحال اور قانون کی حکمرانی قائم کریں گے آئندہ کی پچاس سالہ جدوجہد اور لائحہ عمل کا تعین کریں گے اور نیا سماج قائم کریں گے مذہبی منافرت استحصالی ڈھانچوں سے سیاست کو پاک کریں گے اور دہشتگردی انتہا پسندی سے پاک سماج قائم کریں گے عوامی حکمرانی کو یقینی بنائیں گے اور اپنے اس نظریے کے تحفظ کا حلف اٹھاتے ہیں ہمیشہ خون سے چراغ روشن کیے ہیں