بریکنگ نیوز
Home / کالم / بھانت بھانت کی بولیاں

بھانت بھانت کی بولیاں


جاوید ہاشمی صاحب نے یہ محاورہ تو ضرور پڑھا ہو گا کہ ’’غصہ کیا ‘ برا کیا ‘ کرکے چھوڑ دیا اس سے بھی برا کیا یہ محاورہ ان کے سیاسی رویوں پر صادق نہیں آ رہا؟جماعت اسلامی ‘ پھر(ن) لیگ‘ پھر پاکستان تحریک انصاف اور ایک مرتبہ پھر ن لیگ ؟ عوام کو ان جیسے بالغ نظر سیاست دان سے اتنی زیادہ سیاسی قلا بازیاں لگانے کی توقع بالکل نہ تھی جہاں تک میاں نواز شریف صاحب کا تعلق ہے وہ تو اپنی ڈوبتی ہوئی نیا کو بچاے کیلئے جتنے زیادہ ہاتھ پیر مار سکیں ماریں گے نارض (ن)لیگیوں کو کسی نہ کسی طریقے سے رام کرکے دوبارہ ان کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے وہ کافی جدوجہد کر رہے ہیں جاوید ہاشمی کو منانا بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے ادھر بلاول بھٹو نے بھی اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اگلے روز اپنی پارٹی کے ورکز کواپنے خطاب میں انہوں نے یہ وعدہ کیا کہ و اپنے نانا اور والدہ کی سیاسی پالیسی پر عمل پیرا ہوں گے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ انکی کس پالیسی کو اپنائیں گے ؟

وہ جو انہوں نے اس منشور میں لکھی تھی جو جے اے رحیم صاحب کا مرتبہ کردہ تھا یا پھر اس پالیسی کو کہ جو پارٹی منشور کے بالکل برعکس تھی اور جس انحراف کی وجہ سے پارٹی کے مخلص اراکین دھیرے دھیرے اس سے کنارہ کش ہو گئے تھے ؟ بلاول بھٹو نے ہولو گرام ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے عوامی رابطے کا جو اپنی تقاریر کا سلسلہ شروع کیا ہے اسے اپنانے کے لئے دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی سنجیدگی سے غورکرنا چاہئے‘عمران خان کے جلسے تواتر سے جاری و ساری ہیں وہ اپنی تقاریر میں ان افراد کے بخیے ادھیڑ رہے ہیں کہ جنہوں نے ایوان اقتدار میں اپنے قیام کے دوران اپنے عہدوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے نجی اثاثوں میں بے پناہ اضافہ کیا ظاہر ہے جب آپ کانے کو منہ پر کانا کہیں گے تو وہ کب تک آپ کا لحاظ کرے گا اس نے خواہ مخواہ آپ پر بھی کیچڑا اچھالنا ہے عرصہ دراز سے ملک کے لوگ یہی کچھ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دیکھ رہے ہیں۔

رہا یہ مسئلہ کہ آخر ان لوگوں کو اب تک قرار واقعی سز ا کیوں نہیں دی جا رہی ہے کہ جن کو کرپشن کے الزام میں مطعون کیا گیا ہے تو اس کا آسان اور سادہ سا جواب یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو ضابطہ فوجداری یا ضابطہ دیوانی یا قانونی شہادت نافذ ہے اس میں ملزم کو مجرم ثابت کرنا بہت مشکل کام ہے جس قانون کی اساس اس کلیے اور فلسفے پر رکھی گئی ہو کہ بے شک دس قاتل چھوٹ جائیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ایک بے گناہ پھانسی نہ چڑھے اس نظام میں عدالتیں شک اور شبہ کا فائدہ ہمیشہ ملزموں کو دیتی آئی ہیں ہمارا خیال بالکل نہیں کہ آج کل جن سیاسی لوگوں کے خلاف میگا کرپشن کے مقدمات چل رہے ہیں ان کا انجام کچھ مختلف ہو گایہ بھی صاف صاف آہنی سلاخوں کے پیچھے جانے سے بچ نکلیں گے نہ ان کی وہ پراپرٹی بحق سرکار ضبط ہو گی جو انہوں نے ناجائز یا غیر قانونی ہتھکنڈوں سے بنائی ہے اور نہ ان پر کوئی جرمانے لگیں گے جہاں تک اس ملک کے عام آدمی کا تعلق ہے وہ بڑا بدنصیب ہے‘ سرنگ کی دوسری طرف اسے کوئی روشنی نظر نہیں آرہی وہ موجودہ سیاسی کھلاڑیوں اور پارٹیوں میں سے کس پر اعتبار کرے ، یہی 2018ء کے الیکشن میں بھی ڈگڈگی بجائیں گے ۔