بریکنگ نیوز
Home / کالم / ناول نگاری کے اصول

ناول نگاری کے اصول


کسی معاشرے میں جدوجہد کے کئی اصول اور تحریکیں ہو سکتی ہیں‘ جن میں ایک ناول نگاری (ادبی تحریک) بھی ہے اور اِسی کے ذریعے دنیا کے بنائے گئے سماج کے خلاف جدوجہد کی جاتی ہے۔ یہ ’حقیقت‘ کے خلاف ایک لڑائی ہے جسے ہر سطح پر جیتنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک ایسی متبادل دنیا بنائی جاسکے جو کہ ناول دکھانا چاہتا ہے۔ دنیا چاہتی ہے کہ آپ یہ سوچیں کہ ناول تحریر کرنا درحقیقت تجربات کا تبادلہ ہے لیکن اِس سے زیادہ بڑا جھوٹ کچھ نہیں ہوسکتا۔ ناول تنہائیوں سے اُبھرتے ہیں جہاں ذہن کی قوت کو ایسی متبادل دنیا تیار کرنے کے لئے بنایا جاسکتا ہے جو اپنی منطق کے معیار پر پوری اترتی ہے‘ زندہ ہے اور جیتی جاگتی ہے کیونکہ وہ ’حقیقت‘ کی حدود میں قید نہیں ہوتی۔ ناول لکھاری کو ہمہ وقت ایک نئی شخصیت کی تیاری میں مصروفِ عمل رہنا چاہئے یعنی ناول لکھاری کی شخصیت تاکہ وہ بیرونی اثرات سے محفوظ رہ سکے۔ ناول لکھنے کے لئے جن تین اہم باتوں کو یاد رکھنا چاہئے وہ یہ ہیں: تحریر ’لکھنے‘ سے آتی ہے۔ ’زندگی‘ سے نہیں۔ اِس لئے انسان کو اپنی زندگی بھلا کر دوسروں کی تحریروں کو قبول کرنا چاہئے۔ ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ حقیقت وہیں موجود ہوتی ہے جسے عام طور پر لوگ غیر حقیقت کہتے ہیں۔ کتابوں میں موجود تخیلات‘ آرٹ‘ موسیقی اور تخلیق کا ہر ذریعہ۔ عام تعلقات خامیوں سے بھرپور ہوتے ہیں جس سے ناول لکھنا ناممکن بن جاتا ہے یا اُس کی طاقت میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ جب ہم ایک متبادل دنیا میں جا پہنچتے ہیں تو ہم لکھاری کی صلاحیتوں کو داد دے رہے ہوتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنے سامنے آنے والی اُن لاتعداد اور بے رحم چیزوں سے نمٹتے ہوئے ناول لکھنے میں کامیاب رہا جو اُس کی توجہ ہٹا سکتی تھیں۔

ہم لکھاری کو عزت دیتے ہیں کہ اُس کے اندر اپنے تخیل کی گہرائی میں اترنے کی مافوق البشر صلاحیت ہے تاکہ ہمارے لئے ایسی متبادل دنیا بنائی جاسکے جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے‘ بجائے اُس دنیا کے جو ہمارے سامنے تو موجود ہے مگر اُس پر کوئی بھی بھروسہ نہیں کرسکتا۔ ہمیں اُس نکتے تک پہنچنا چاہئے جہاں کسی اور کی تحریر میں موجود حقیقت ہمارے سامنے موجود حقیقت سے زیادہ وزن رکھتی ہو۔ پھر کہوں گا کہ تحریر لکھنے سے آتی ہے‘ نہ کہ اُس چیز سے جسے ہم غلطی سے زندگی کہتے ہیں۔ جن ناولوں کی ہم تعریف کرتے ہیں وہ خالص روح کا مظہر ہیں‘ خالص لفظوں میں اظہار کہ دنیا کیسی ہونی چاہئے یہاں تک کہ جب اُن ناولوں کا مواد تنقیدی یا مایوس کن ہو‘ تب بھی۔ جیسا کہ لوئی فرڈینینڈ سیلائن یا ہینری ملر نے کہا تھا‘ ناول ’نفی‘ ہیں اور ایک لکھاری تب تک ناول تخلیق نہیں کرسکتا‘ تب تک ایک متبادل دنیا تخلیق نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ دنیا کو جیسے کا تیسا قبول کرنے میں مصروف رہے۔ پھر عظیم محبت کہاں جائے گی؟ کیا یہ ہم میں سے ایک عنصر نکال نہیں دیتی؟ مگر رومانوی محبت خود بھی ایک استعارہ ہے جو کہ زیادہ تر تحریر سے نکلتا ہے۔ تحریر مایوس کن لمحات میں بھی حقیقی دنیا کے حصوں پر قبضہ جما کر انسانی اُمید جگائے رکھتی ہے‘ جیسا کہ مطلق العنان حکومتوں کے درمیان۔ بدقسمتی سے محبت‘ اپنے روایتی استعاروں کے مطابق‘ باقی نہیں رہتی۔ اِس کے علاوہ یہ ایک ثانوی حیثیت کا اثر ہے‘ کیونکہ یہ حقیقی دنیا میں دوسرے کے تخیل سے جنم لیتا ہے۔ بلند پایہ لکھاریوں کے پاس گائیڈ کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ وہ وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں یا شاید اُن کا ایک گروپ ہوتا ہے۔ جب ایک شخص ہائی وے پر تھک جاتا ہے‘ خاص طور پر رات کے وقت‘ تو وہ جہاں تک ہوسکے اٹھارہ پہیوں والے ٹرالر کا پیچھا کرنے پر اکتفا کرتا ہے۔

تخیل تب پروان چڑھتا ہے جب انسان اُس مقدس علاقے میں داخل ہو جہاں کرداروں کی قسمتیں لکھاری کے ہاتھ میں ہوں۔ جب میں خود کو دنیا سے کاٹ لوں اور ناول کے بعد ناول پڑھے جا رہا ہوں جو مجھے خالص روح کی دنیا تک لے جا رہے ہیں‘ تو ہوسکتا ہے کہ اچانک کچھ ایسے روشن خیالات آئیں‘ جیسے میرے کرداروں کے ساتھ آگے کیا ہونا ہے یا کیا کرنا چاہئے لیکن اگر میں خود کے ساتھ زبردستی کروں تو یہ نہیں ہوگا۔ کہانی کے خدوخال ناول لکھاری کو خود ہی حاصل ہوجاتے ہیں‘ سب سے بُری خواہش یہ ہے کہ انسان اپنی حقیقت جیسی ہے‘ ویسے ہی کتاب میں لکھ دے‘ بجائے اِس سے آگے بڑھنے کہ‘ کیونکہ لوگ اکثر دوسرے ناولوں پر بھروسہ نہیں کرتے‘ کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ جس ٹرک کا وہ پیچھا کر رہے ہیں وہ کہیں تصادم کا شکار نہ ہوجائے مگر ناول لکھاری نہ ہی کوئی اٹھارہ سال کا ہے اور نہ ہی ہائی وے کا تھکا ہوا ڈرائیور بلکہ اُس کی فکر کہیں زیادہ بلند ہے۔ ایک ناول نگار قوم پرست‘ انتہاء پسند یا گھریلو آدمی نہیں ہوسکتا (جانور مختلف ہیں کیونکہ خالص تخیل کی دنیا میں رہتے ہیں) ایک ناول نگار کو خود کو بیرونی دنیا کے حقائق پر یقین سے جنم لینے والی کشمکشوں سے آزاد کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے جو ہمیشہ ہی غیر حقیقی ہوتی ہیں۔ پاکستان میں مزاحمتی اَدب اور ناول نگاری کی پرسکون جھیل میں پتھر پھینکنے کی ضرورت ہے تاکہ جدید عصری موضوعات کے حوالے سے غوروخوض کیا جاسکے۔ (مضمون نگار ’لٹریری رائٹنگ اِن ٹوئنٹی فرسٹ سنچری نامی کتاب کے مصنف اور ایک شعری مجموعے کے خالق ہیں۔ بشکریہ: ڈان۔ تحریر: انیس شیوانی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)